ستائیس مارچ اٹھارہ سو اٹھانوےسر سید احمد خان کا انتقال ہوا

0
484

ستائیس مارچ دوہزار سولہ کو تعطیل کی ایک پرسکون شام جب تفریحی مقامات پر شہری اپنے پیاروں کے ساتھ خوش گوار وقت گزار رہے تھے۔۔۔ لاہور کے ایک باغ ’گلشن اقبال‘ میں بھی ننھے منوں کی ہنسی سے فضا مسکرا رہی تھی، پیڑوں کی ڈالیوں سے بھی سُکھ ہی سُکھ برستا تھا۔۔۔ پاس میں کچھ جھولے معصوم بچوں کا مرکز نگاہ تھے۔۔۔ کتنی ہی مائیں بچوں کی خوشیوں سے قلبی مسرت کشید کر رہی ہوں گی۔۔۔ شاید بہت سے واپس گھر چلنے کے لیے کہہ رہی ہوں اور بچے بھی ’ابھی‘ کچھ دیر اور‘ کی خواہش کر رہے ہوں۔۔۔ کہ اچانک ’قیامت‘ آگئی۔۔۔! یہیں کسی درندہ صفت نے پل بھر میں ہنستی بولتی کلیوں کو لرزہ خیزی آہ وبکا میں بدل دیا۔۔۔ اس بم دھماکے سے آٹھ خواتین اور 29 بچوں سمیت 72 افراد لقمہ اَجل بن گئے!

ستائیس مارچ اٹھارہ سو چونکریمین جنگ:برطانیہ نے روس کے خلاف جنگ کا اعلان کیا

ستائیس مارچ اٹھارہ سو اٹھانوےسر سید احمد خان کا انتقال ہوا
سرسید احمد خاں برصغیر میں مسلم نشاتِ ثانیہ کے بہت بڑے علمبردار تھے۔ انہوں نے مسلمانوں میں بیداری علم کی تحریک پیدا کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ وہ انیسویں صدی کے بہت بڑے مصلح اور رہبر تھے انہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کو جمود سے نکالنے اور انھیں با عزت قوم بنانے کے لیے سخت جدوجہد کی آپ ایک زبردست مفکر، بلند خیال مصنف اور جلیل القدر مصلح تھے۔ ” سرسید نے مسلمانوں کی اصلاح و ترقی کا بیڑا اس وقت اٹھایا جب زمین مسلمانوں پر تنگ تھی اور انگریز اُن کے خون کے پیاسے ہو رہے تھے ۔ وہ توپوں سے اڑائے جاتے تھے، سولی پر لٹکائے جاتے تھے، کالے پانی بھیجے جاتے تھے۔ اُن کے گھروں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی تھی۔ اُنکی جائدادیں ضبط کر لیں گئیں تھیں۔ نوکریوں کے دروازے اُن پر بند تھے اور معاش کی تمام راہیں مسدود تھیں۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ اصلاح احوال کی اگر جلد کوشش نہیں کی گئی تو مسلمان ” سائیس ،خانساماں، خدمتگار اور گھاس کھودنے والوں کے سوا کچھ اور نہ رہیں گے۔ … سر سید نے محسوس کر لیا تھا کہ اونچے اور درمیانہ طبقوں کے تباہ حال مسلمان جب تک باپ دادا کے کارناموں پر شیخی بگھارتے رہیں گے۔۔۔۔ اور انگریزی زبان اور مغربی علوم سے نفرت کرتے رہیں گے اُس وقت تک وہ بدستور ذلیل و خوار ہوتے رہیں گے۔ اُنکو کامل یقین تھا کہ مسلمانوں کی ان ذہنی اور سماجی بیماریوں کا واحد علاج انگریزی زبان اور مغربی علوم کی تعلیم ہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کی خاطر وہ تمام عمر جِدوجُہد کرتے رہے

ستائیس مارچ اٹھارہ سو چوبیس کینیڈا نے سوویت یونین کو تسلیم کیا

SHARE

LEAVE A REPLY