کیوں نہ آج اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکتے ہوئے دل کی گہرائی میں اتر جائیں اور وہاں موجود کوے سے پوچھیں کہ ذرا یہ تو بتا کیا ہم نے زندگی میں کبھی جھوٹ نہیں بولا کہ تمہارے کاٹے کا ہمیں آج تک احساس ہی نہیں ہوا یقین جانیں کوا کہے گا کہ میں نے تو ہر جھوٹ پر تمہیں کاٹا ہے اور تمہیں اس کاٹے کا احساس بھی ہوتا رہا مگر چند ہی لمحے بعد تم اس احساس پر مٹی ڈال کر نیا جھوٹ آغاز کر دیتے رہے تھوڑا سا غور کیا تو معلوم ہوا کہ کوا سچ بول رہا ہے افسوس صد افسوس کہ کالا کلوٹا کوا سچا اور پانچ فٹ سات انچ کا اشرف المخلوقات کوے سے بھی گیا گذرا-
گذشتہ زندگی کو تو رکھئے ایک طرف آج ہی کے بیتے ہوئے پانچ سات گھنٹوں کا جائزہ لے لیں گھر میں موجود ہونے کے باوجود کتنی بار دروازے پر بجنے والی گھنٹی کے جواب میں ہم نے بچے کے ذریعے کہلوا بھیجا کہ گھر میں نہیں ہیں معصوم سے بلوایا ہوا یہ جھوٹ اس کے کھاتے میں لکھا جائے گا یا ہمارے حالانکہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ جھوٹ گناہ کبیرا ہے بلکہ تمام گناہوں کی ماں کہ باقی سارے اسی سے جنم لیتے ہیں مگر ہم نے تو اسے شغل بنایا ہوا ہے ہنسی مذاق میں سارا دن لاتعداد جھوٹ بولتے ہیں اور روانی سے بولے چلے جاتے ہیں عین موقع پر جھوٹ بولتے پکڑے جائیں تو کمال ڈھٹائی سے کہہ دیا جاتا ہے ارے وہ تو میں نے مذاق کیا تھا کیا بےنیازی ہے کہ ہم نے دائیں کاندھے پر بیٹھے فرشتے کو بالکل فارغ بیٹھنے پر مجبور کیا ہوا ہے اور بائیں کندھے پر بیٹھا فرشتہ اتنی بھی فرصت نہیں پاتا کہ سر ہی کھجا لے (اگر اس کا سر ہوتا ہے تو) پھر بھی ہم کہلاتے تو اشرف المخلوقات ہیں-
ایک وقت تھا کہ ہم گھر ، گلی محلے ، گاوں، شہر اور ملکی سطح کی شہرت رکھتے تھے مگر سوشل میڈیا نے ہمیں نیشنل سے انٹر نیشنل بنا دیا ہے آج ہم پوری دنیا میں جھوٹے جانے جاتے ہیں فیس بک اور ٹویٹر نے ہمیں یہ سہولت فراہم کر دی ہے کہ ہم شکیل ہوتے ہوئے شکیلہ کا روپ دھار سکتے ہیں اور جمیلہ جب تک بے نقاب نہیں ہو جاتی بہ آسانی جمیل بن کر دھوکہ دیتی رہتی ہے- لہو گرم رکھنے کا بہانہ بنا کر ہم سوشل میڈیا پر اس کی اس کی سچی جھوٹی لگائی پوسٹیں اور تھریڈ اس یقین کے ساتھ آگے پھیلاتے ہیں جیسے ان میں تحریر الزامات یا واقعات کے ہم چشم دید گواہ ہوں نتیجہ کیا نکلا کہ ہم نے اپنا رخ روشن مزید کالا کر لیا اور جن کو نشانہ بنایا وہ بے چارے منہ چھپائے پھرتے ہیں کہ کس کس کے سامنے صفائیاں دیتے پھریں ابلیس کہ جس کی پیروی میں ہم نے یہ عمل جاری رکھا ہوا ہے بہت خوش ہے کہ ہمارے اس عمل کی بدولت کئی گھر مکان بن گئے کہ طلاق کے بعد خاتون خانہ چلی گئی تو گھر، گھر تو نہ رہا چار دیواریں اور چھت رہ گئی جس سے ہمارے گرو ابلیس بہت خوش ہوئے ہمیں شاباشی دی اور ہم نے اپنا مکروہ کھیل مزید تیز کر دیا –
عام عوام خصوصا نوجوان نسل کو تو رکھئے ایک طرف کہ میٹرک یا گریجویشن کر کے ہاتھ پہ ہاتھ دھرے تو بیٹھنے سے رہے نوکری ہے کہ مل کے نہیں دے رہی مزدوری ہے کہ ناپید معاشی سرگرمی جو دم سادھے بیٹھی ہے اس لئے وہ ادھر ادھر سے پچاس روپے پکڑ کے نیٹ پیکج کروا کے سارا دن جھوٹ پہ جھوٹ ایجاد کئے جاتے ہیں کہ اپنے آپ کو مصروف جو رکھنا ہے ان کو دیکھ لیجئے جنہیں صوبوں اور مرکز میں اطلاعات بہم پہنچانے کی ذمہ داری تفویض کی گئی ہے کہ وہ بھی تو بار بار میڈیا پر اپنا رخ روشن لانے کے چکر میں سوائے مخالفین پر الزامات لگانے کے اور کچھ نہیں کر رہے وہ بھاگ گئے اس نے ڈیل کر لی لکھ لیں کہ اب اس نے واپس نہیں آنا ارے یہ کیا وہ واپس آ گیا چلیں کوئی بات نہیں ہم اپنا بیانیہ بدل لیتے ہیں دیکھ لیجئے گا اب وہ سیدھا جیل جائے گا نہیں گیا کوئی بات نہیں آج بچ گیا تو کیا ہوا کل ضرور جائے گا اس دوسرے کو دیکھ لیں اربوں روپے عوام کے لوٹ کے کھا گیا اس کی تو ساری زندگی اب جیل میں گزرنے گی ارے بابا کوئی ثبوت نہ جی نہ ثبوت دینا تو اس کا کام ہے ہمارا کام تو صرف الزام لگانا ہے کہ یہی ہمارے قائد کا فرمان ہے-
بچ کوئی بھی نہ پایا کہ مواقع فراہم کرنے کے لئے سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے میڈیا سیل بنا لئے جہاں لیپ ٹاپ اور کمپیوٹرز کے سامنے بیٹھے سوشل میڈیا کارکنان سارا دن جھوٹ، الزامات اور پگڑی اچھال مہم میں جتے رہتے ہیں جھوٹ میں وزن پیدا کرنے کے لئے نام ان کا استعمال میں لایا جاتا ہے جن کی کوئی پہچان اور ساکھ ہو گذشتہ دنوں جسٹس قاضی فائز عیسی کے بارے میں الزامات پر مبنی ایک گھٹیا تھریڈ کے لئے محترم اوریا مقبول جان کا نام استعمال کیا گیا جس کی انہیں تردید کرنی پڑی ابھی یہ معاملہ چل ہی رہا تھا کہ میاں محمد نواز شریف کے لندن میں مقیم دو صاحبزادوں حسین اور حسن کو نشانہ بنانے کے لئے معروف اور سینئر صحافی محترم مجیب الرحمن شامی کے نام نامی کو استعمال میں لایا گیا انہوں نے بھی بروقت تردید کر دی پھر محترم وزیر اعظم عمران خان کے خانگی معاملات کو اچھالنے کی کوشش میں پاناما سے شہرت پانے والے مشہور صحافی عمر چیمہ کو ملوث کرنے کی گھٹیا کوشش کی گئی انہوں نے بھی بروقت تردید کر دی مگر یہ سلسلہ تھمنے میں نہیں آ رہا کبھی حامد میر، کبھی سید طلعت حسین، کبھی انصار عباسی اور کبھی سلیم صافی ان تمام کے جعلی اور دو نمبر اکاونٹس کو بار بار استعمال کیا جا رہا ہے ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کو لاتعداد شکایات کی جا چکی ہیں مگر یہ مکروہ دھندا ختم ہونے یا رکنے کا نام نہیں لے رہا –
اس چلن کو بدلنے کے لئے ہمیں رہنمائی حاصل کرنی چاہیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک صحابی تشریف لائے اور اپنی زندگی میں موجود چوری ، ڈاکے، شراب نوشی اور جھوٹ کے حوالے سے رہنمائی طلب کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی معاملات کو ایک طرف رکھتے ہوئے جھوٹ بولنے سے تائب ہونے کی نصیحت فرمائی باقی کی زندگی میں صحابی جب دیگر اعمال کی طرف متوجہ ہوتے تو دل میں خیال آتا کہ محفل رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں اگر کبھی پوچھ لیا گیا تو کیا جواب دوں گا یوں جھوٹ کی عادت ترک کرنے سے وہ تمام بشری کمزوریوں سے نجات پا گئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم کوے کے کاٹنے پر توجہ دیں اور جہاں جہاں اور جب جب کوا کاٹے اس عمل سے دور ہوتے جائیں معاملات سدھر جائیں گے ان شاء اللہ…!













