یاد باغ۔۔۔۔۔صدیوں بعد کل ریڈیو پاکستان لاہور جانے کا اتفاق ہوا۔ میرے زمانے کے کچھ لوگ جو اپنی ریٹائرمنٹ کے انتظار میں تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بڑے تپاک بڑی محبتوں کے ساتھ ملے۔
ماضی میں رہنا مجھے پسندتو بلکل نہیں ۔۔۔۔۔مگر وہی گھنے پیٹر۔۔۔ ہرا بھرا پھولوں سے لدا لان ۔۔ کینٹین کے پہلو میں یاد باغ جہاں پیڑوں پر کندہ ناموں کی تختیاں ۔۔۔۔۔ پہلی بار ریڈیو کی بلڈنگ کو صاف ستھرا دیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پتہ چلا کہ ایک خاتون اسٹیشن ڈرائکٹر نے حلیہ بدلا ھے۔۔ سب کچھ بہت اچھا تھا بہت ہی اچھا۔۔مگر صفدر ہمدانی تم نہیں تھے۔رضا شاہ کے قہقہے نہیں تھے۔
۔میرے بہت سے ساتھی نہیں تھے۔ دھوپ بھی وہی تھی۔ پیڑ بھی وہی تھے گلاب بھی بہت تھے۔ پھر جی چاہا کہ گلاب توڑ کر کھچڑی بالوں میں لگا لوں مگر وہ مالی کہاں سے لاؤن جس نے ایک دن مجھ سے تنگ آکر وہ سٹینڈ اکھاڑ کر میرے سامنے لا کھڑا کیا جس پر لکھا تھا ” پھول توڑنا منع ھے “
سیڑھوں پر بیٹھا بڑے بڑے قہقہے لگانے والا ڈاکڑ منظور اعجاز بھی واشنگٹن جا بسا۔۔پتہ نہیں میں کیوں کچھ دیر تک نیوز ایڈیٹر کے دروازے کے باہر کھڑی رہی۔۔۔ اور ہاں میں نے بنچ پر بیٹھے سفید لباس میں ملبوس ایک نورانی بابے کو بھی دیکھا جنہوں نے پہلی بار ریڈیو پاکستان کا اعلان کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔میرے پیارے آخلاق احمد دہلوی آپ یاد باغ میں ہی رہ گئے۔۔ منیر نیازی صاحب پھر سے کہہ دیجیئے ” عصمت طاہرہ تمہاری آنکھوں کی وولٹج دھیمی نہیں ہونا چاہیئے۔۔۔” صفدر ھمدانی۔ خالد طور۔۔ آو پھر سے ایک ڈرامہ ریکارڈ کرو۔۔ جس میں میرے سب ساتھی ہوں ۔۔۔ اور ہاں لیڈنگ رول میں ہی کروں گی۔۔۔ اب کے یاد باغ میں بیٹھ کر ریہرسل کریں گے۔۔۔ اور پھر سے بچھڑ جائیں گے














عصمت آپا اپنے جیسا حسین لکھتی ہیں ۔۔ مائی آل ٹائم فیورٹ عصمت طاہرہ ۔۔ اللہ پاک آپ کو سدا ہمارے درمیان رکھے ۔۔ ساڑھے سولہ سطروں میں عشروں کو سمیٹنا کوئی آپ سے سیکھے ۔۔۔ کمال