( نوٹ ؛ آج کے اس حساس موضوع کی یہ پہلی قسط ہے ۔ دوسری اور آخری قسط اس اگلی اشاعت میں شامل ہوگی )
اس موضوع پر لکھتے ہوئے مجھے بخوبی مکمل ادراک ہے کہ مجھے ایک بڑی تعداد میں لوگوں کے طعنے اور دشنام سہنے ہونگے۔ لیکن آج کے ادبی اور صحافتی ماحول میں جہاں ایک بڑی اکثریت دربار داری اور شاہ کی قصیدہ خوانی کو اپنا شعار بنائے ہوئے ہے وہاں بلاشبہ اسی وطن عزیز میں قلم کی حرمت اور حق سچ کی آواز بلند کرنے والے تعداد میں بہت قلیل سہی لیکن ایسے لوگ موجود ہیں۔
میں گزشتہ دو روز سے زہنی ، روحانی اور نفسیاتی کرب کی ایک ایسی عجیب کیفیت سے گزر رہی ہوں کہ مجھے آنے والے دنوں کے پیش منطر کا فقط سوچ کے ہی خوف آرہا ہے کہ آخر ہم سب مل کر بقول بہت سے لوگوں کے اسلام کے نام پر حاصل کردہ اس ملکت خداداد پاکستان کا کیا کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارے سیاستدان مفادات کی عینک پہنے ہوئے اپنی ذات اور مفادات تک محدود ہیں ۔ عدالتیں انصاف تومہیا کر رہی ہیں لیکن شاید عدل کے مفہوم سے ناواقف ہیں۔ گذشتہ بیس برس سے انتظامیہ عوام کش اور عوام دشمن بنی ہوئی ہے جو صرف اپنا اقتدار اور کرسی بچانا چاہتی ہے ۔ اہل قلم ، قلم فروش تو پہلے بھی تھے لیکن اب ضمیر فروش بھی ہیں ۔ دانشور ہر وہ بات نہیں کہنا چاہتا جو سچ کے زمرے میں آتی ہے ۔ صحافت جو کبھی عبادت تھی اب فقط اور فقط تجارت ہے ۔ ان حالات میں پروان چڑھنے والی اس نئی نسل کے بارے میں سوچیئے جس نے نہ پاکستان بنتے ہوئے دیکھا ، نہ مشرقی پاکستان الگ ہوتے دیکھا ، اور ایک بہت بڑی تعداد نے تو پینسٹھ اور اکہتر کی جنگ بھی نہیں دیکھی۔ یہ نسل جس سے پاکستان کے اگلے سو سال وابسطہ ہیں صحیح معنوں میں ایک کنفیوز نسل ہے جنہیں ان کے بزرگوں نے اگر وراثت میں کچھ دیا بھی ہے تو منافقت ، جھوٹ ، مفاد پرستی ، حقیقت سے چشم پوشی ، لذت گناہ ، اور لسانی کے بعد مسلکی بنیادوں پر سوچنا دیا ہے ۔
سنتالیس میں جب پاکستان کی تقسیم ہوئی تھی تو بانی پاکستان قائد اعظم نے اپنی پہلی ہی تقریر میں اس بات کی وضاحت کی تھی کہ “ پاکستان مذہبی ریاست نہیں ہے “ اور انہیں کے الفاظ میں “ یہاں ہندو ، سکھ ، عیسائی اور مسلمانوں کے تمام مسالک اپنے اپنے انداز میں عبادت کرنے اور اپنی عبادت گاہوں میں جانے کے لئے آزاد ہیں “ ۔ میں سوچتی ہوں ہم سب نے مل کر جو قائد اعظم کی سوچ، فکر اور فرمودات کا جو حلیہ بگاڑا ہے وہ ایک طرف لیکن ان کے اس فرمان کا جیسے دامن تار تار کیا ہے وہ دوسری طرف ۔ کوئی میرے اس نظریئے کو تسلیم کرے یا نہ کرے کہ مشرقی پاکستان کی علیحیدگی کی ایک بہت بڑی وجہ لسانی تقسیم اور اکثریتی صوبے کو اس کے حقوق سے محروم رکھنا تھا۔ ہمارا ایک بازو کٹ گیا مگر ہمارے اکابرین کو آج بھی کوئی شرمندگی نہیں اور نہ ہی کوئی سبق حاصل کیا۔ ہم تاریک راہوں میں مارے جانے والے وہ لوگ ہیں جن کی مرقدو ں کے نشان تک نہیں ملتے ۔ جن کے درمیان عام آدمی اپنے ناکردہ گناہوں کی سزا بھگتا رہتا ہے ۔
یہ مختصر سا پس منظر میرے دکھ اور اضطراب کا پیش لفظ ہے کہ میں کتاب زیست کا وہ باب لکھنے سے خوفزدہ بھی ہوں اور کترا بھی رہی ہوں کہ نا عاقبت اندیش سیاستدانوں نے لسانی بنیادوں کے بعد اب ملک کو مسلکی بنیادوں پر تقسیم کرنا شروع کر دیا ہے ۔ مجھے سیاست اور نفسیات کے طالب علم کے طور یہ پختہ یقین ہے کہ یہ کسی کی بھی ہو پر یہ شعوری کوشش ہے ۔
پاکستان کی معلوم تاریخ میں اس کی باقائدہ بنیاد آمر مطلق جرنل ضیاالحق کے دور میں رکھی گئی جس نے اپنے غیر آیئنی اقتدار کو طول دینے کے لئے اسلام کو ڈھال بنایا اور ملک میں ہونے والے ریفرنڈم میں یہ سوال رکھ کر اسلام کا جنازہ نکال دیا “ اگر آپ اس ملک میں نظام اسلام چاہتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ مجھے ملک کا صدر رہنا چاہیئے “ ۔ یہی وہ دور ہے جب ملک میں “ احمدیوں “ کے خلاف پہلے سے موجود نفرتوں کو اور بڑھاوا دیا گیا لیکن اسی عہد میں شعیہ سنی کے درمیان ایک ایسا فرق ڈالا گیا جس کا درخت اب تناور ہونے کے بعد خوب ثمر بار ہے ۔ اس کی نہایت تکلیف دہ چند مثالیں آپ کے سامنے رکھ کے اپنی طرف سے کوئی نتیجہ نکالے بغیر آپ کو دعوت فکر دیتی ہوں کہ سوچیئے ہمارا انجام کیا ہوگا ؟ ہم تاریخ میں کس قوم کے نام سے یاد رکھے جایئں گے ۔
تازہ ترین واقعہ ۔۔۔ کے پی کے ضلع چارسدہ کی “ باچا خان یونیورسٹی “ میں نئے وائس چانسلر “ ڈاکٹر ثقلین نقوی “ کی تقرری ہے ۔ جس پر ایک کالعدم تنظیم اور مقامی لوگوں نے احتجاجی مظاہرہ شروع کر رکھا ہے اور مطالبہ ہے کہ اس تقرری کو منسوخ کیا جائے کیونکہ ڈاکٹر ثقلین شعیہ ہیں ۔ مجھے آج معلوم ہوا کہ علم بھی شعیہ ، سنی ، حنفی ، بریلوی ، مالکی اور شافعی ہوتا ہے ۔ اب اس کے بعد یہ ہوگا آپ زندگی بچانے کے لئے اپنے مریض کو شعیہ ڈاکٹر کے پاس بھی نہیں لے جایئں گے کیونکہ شفا بھی شعیہ ، سنی ، حنفی ، بریلوی ، مالکی اور شافعی ہوتی ہے۔ پچھلے چند دنوں سے اس واقعہ کے منظر عام پر آنے کے بعد نہ تو صوبائی حکومت اور نہ ہی مرکزی حکومت نے اس کا کوئی زکر کیا ہے اور نہ ہی اس کے خلاف کسی اقدام کی خبر ہے۔ مظاہرین نے دھمکی دی ہے کہ اگر وی سی کو نکالا نہ گیا تو یونیورسٹی کا گھیراؤ ہو گا۔ چارسدہ میں ختم نبوت کی کانفرنس میں بھی یہی مطالبہ کیا گیا ہے اور یہی دھمکی دی گئی ہے ۔
ہائے ۔۔۔ ہم اس نبی کی امت ہیں جنہوں نے جنگ کے دوران پکڑے گئے دشمن لوگوں کو رہائی دینے کے لئے یہ شرط رکھی کہ اگر وہ مسلمانوں کے بچوں کو پڑھایئں گے تو انہیں رہا کردیا جائے گا۔ زرا سوچیں یہ شعیہ یا سنی نہیں بلکہ کافر لوگ تھے جو اللہ کے رسول کے خلاف جنگ لڑے تھے اور قید ہو کر آئے تھے ۔ لیکن امت کے بچوں کو تعلیم دینے کے لئے شہر علم نے کافروں سے بھی مدد لینا گوارا کی۔
میں نے اس واقعہ کے سامنے آنے کے بعد انٹرنیٹ پر جا کے ڈاکٹر ثقلین نقوی کی عملی قابلیت کے بارے میں جاننا چاہا تو میں حیران رہ گئی کہ ایسا تعلیم یافتہ شخص آخر پاکستان میں رہ ہی کیوں رہا ہے ۔ ایسے علمی کریئر کے ساتھ انہیں کسی یورپی یونیورسٹی کا وی سی ہونا چاہیئے تھا ۔صد افسوس چودہ سو سال سے زائد ہو چکے ہیں پر ہمارے درمیان سے ابو جہل نہیں گیا۔ جو سچ کہوں عہد نبی کے ابوجہل کے مقابلے میں آج کا ابو جہل اور اس کی نسل زیادہ طاقتور اور فعال ہے اور حد تو یہ ہے کہ جہالت کے پروردہ یہ نام نہاد اور زہنی طور پر مفلوج لوگ اب پڑھے لکھے لوگوں ، دانشوروں ، مذہنی راہنماؤں ، سایسی قائد ، اور اہل قلم میں بھی موجود ہیں ۔
اسی دکھ کی کہانی کا اگلا صفحہ پلٹتے ہیں ۔
( جاری ہے )
ڈاکٹر نگہت نسیم













