۔ سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف جب سے نا اہل ہوئے ہیں ہر بات، ہر موضوع اور ہر خبر پر ایک کمیشن چاہتے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان کے ساتھ جو کچھ ہوا یہ بھی ایک کمیشن کی درخواست کا شاخسانہ ہے اور یہ درخواست بھی کسی اور نے نہیں خود نواز شریف نے عدالت عظمی کو کی تھی جب پاناما کا معاملہ سامنے آیا تو سب سے زیادہ شور جناب عمران خان نے ڈالا اور اس شور کو دبانے کے چکر میں نواز شریف عدالت عظمی سے ایک کمیشن کی تشکیل کے لئے درخواست کر بیٹھے گو کہ اس درخواست کو عدالت عظمی کی طرف سے اہمیت نہیں دی گئی مگر تباہی کی بنیاد اسی درخواست نے رکھ دی تھی ۔ اب نواز شریف نے ڈان اخبار کو جو انٹرویو دیا اور اس کے نتیجے میں جو کہرام مچا ایک بار پھر میاں صاحب کو کمیشن یاد آ گیا ابھی یہ معاملہ دبا نہیں تھا کہ ایک اور پتا نواز شریف کی طرف سے پھینکا گیا کہ ان کے خلاف تمام اقدامات اس لئے اٹھائے جا رہے کہ انہوں نے پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ شروع کیا تھا اس پر جب ادھر ادھر سے شور اٹھا تو میاں صاحب کو ایک بار پھر کمیشن کی یاد آ گئی ۔اللہ بھلا کرے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کا کہ انہوں نے اپنے سابقہ بھارتی ہم منصب کے ساتھ مل کے ایک کتاب لکھ ڈالی نواز شریف کو اس پر بھی ایک کمیشن کی یاد ستانے لگی۔ کمیشن پر کمیشن اور کمیٹی پر کمیٹی مگر نتیجہ صفر جمع صفر برابر صفر ۔ قبل ازیں لاتعداد معاملات پر کمیشن بن چکے مگر ان کی رپورٹس منظر عام پر نہ آ سکیں جب رپورٹس ہی منظر عام پر نہیں آنے دینی اور کمیشن کی سفارشات پر عمل ہی نہیں کرنا تو سعی لا حاصل کا فائدہ کیا ؟ ۔

میں اتنا بے خبر تو کبھی بھی نہ تھا نہیں معلوم کب اور کیسے یہ سچائی کمیشن معرض وجود میں آیا اپنی اپنی ڈفلی بجانے والی سیاسی جماعتیں اور ادارے کیسے اس کمیشن پر متفق ہو گئے کوئی کرشمہ تو ہوا ہے کہ سچائی کمیشن بن گیا اور میں جو سچائی کمیشن کی تشکیل کا بہت بڑا حامی بنا پھرتا تھا آج سب سے پہلی پیشی بھی سچائی کمیشن میں میری ہی تھی۔ ہرکارہ آواز لگا چکا تھا طارق محمود المعروف طارق بٹ اپنے سچ کی گٹھڑی لے کر حاضر ہو۔ میرے پاوں پانچ پانچ من کے وزنی ہو رہے تھے اتنے اعلی پائے کے اراکین کمیشن اور اتنا بڑا مجمع ان کے سامنے کیا خاک بولوں گا نہیں خبر کیا پوچھا جائے گا دوست دشمن سبھی سننے کو بے تاب کھڑے ہیں ۔

نام طارق محمود المعروف طارق بٹ اپنا اصل نام کیوں استعمال نہیں کرتے یہ کیا دوغلا پن ہے کمیشن کی طرف سے پہلا ہی سوال آیا تو میرے منہ سے فورا نکلا جناب یہ میرا قلمی نام ہے وہ خاندانی نام تھا کسی کی طنز بھری آواز میرے کانوں تک پہنچی۔ اچھا تو قلم سے تعلق کے بعد کیا بندہ خاندانی نہیں رہتا ۔ میں نے کھسیانی سی ہنسی ہنستے ہوئے کہا نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں بس ذرا قلم تھامنے کے بعد بندے کو غیر جانبدار رہنا پڑتا ہے ۔ کمیشن کے کسی رکن کی آواز آئی۔ یہ جو آپ آئے روز چودھری نثار علی خان کے لتے لیتے رہتے ہو کیا باقی سات ہزار چھ سو چالیس سیاستدانوں نے سلیمانی ٹوپی پہن رکھی ہے کہ وہ اور ان کے کرتوت آپ کو نظر نہیں آتے ۔ مجھ سے کوئی جواب نہ بن پڑا بس اتنا ہی منہ سے نکلا ۔ جی وہ میں ۔ کمیشن کے کوئی اور رکن بولے ایسا ہی ہوتا ہے جب بات بنائے نہ بنے تو ایسا ہی ہوتا ہے کب تک جھوٹ بولو گے ۔ میری نظریں زمین سے اٹھیں تو معلوم ہوا کہ سچائی کمیشن کے ہر رکن کی نظریں میرا سینہ چھلنی کیئے دے رہی ہیں دل چاہ رہا تھا زمین پھٹ جائے اور میں اس کی اتھاہ گہرائیوں میں گم ہو کر اپنے جسم کو چیرتی پھاڑتی ان نظروں سے بچا سکوں ۔

نہیں معلوم میں کب بے ہوش ہوا اور کتنی دیر بعد ہوش میں آیا ہاں البتہ جب میں ہوش میں آیا تو میرے کانوں میں طنزیہ آوازیں گونج رہی تھیں یہ وہی ہے جو اپنے آپ کو بہت بڑا کالم نگار ،صحافی، لکھاری اور نہ جانے کیا کچھ سمجھتا تھا ساری زندگی ہم قارئین کو نصیحتیں کرتا رہا سچ بولو اور سچ لکھو اور خود ہمیں خود ساختہ جھوٹ پر مبنی قصے سناتا رہا میں آنکھیں بند کئے دم سادھے لیٹا رہا میرے کانوں میں مسلسل زہریلے الفاظ کا سیسہ انڈیلا جاتا رہا بھانت بھانت کی آوازیں سنائی دیتی رہیں ذرا غور سے دیکھنا یہ وہی ہے نا جو سیاستدانوں کو تو لوٹا کہتا تھا اور خود اس کا اپنا حال یہ تھا کہ کبھی ایک اخبار اور کبھی دوسرا ۔ یہ جو جمہوریت کا سب سے بڑا حامی اس وقت بے سدھ پڑا ہے اندر خانے کس کس جمہوریت دشمن سے اس کا تعلق نہ رہا یہ بھی سب کو معلوم ہے ۔ دور سے ایک آواز آئی ارے بابا غور سے اس کی شکل دیکھ لو یہ وہی ہے جو کالاباغ ڈیم کی مخالفت کی وجہ سے ہمیں ملک دشمن لکھتا رہا اور خود اندر خانے کالا باغ ڈیم کے مخالفین سے ملا رہا ۔ کوئی حد ہوتی ہے دوغلے پن کی ، اپنے مخالفین کو ایجنسیوں کے ایجنٹ کہنے والا خود ایجنسیوں کے نائب قاصدوں کی منتیں ترلے کرتا پایا گیا آج سچائی سامنے آئی تو معلوم پڑا کہ صورت مومناں اور کرتوت کافراں کسے کہتے ہیں ۔ مارو ، مارو اسے زندہ درگور کر دو ، پھر میرے جسم پر ضربیں پڑنی شروع ہو گئیں ۔ اٹھیں اٹھیں سحری کا وقت ہوگیا ہے ارے یہ کیا یہ تو میری زوجہ محترمہ کی آواز ہے تو کیا سب خواب تھا اچھا ہی ہوا کہ یہ سب خواب تھا ورنہ میری سچائی تو سچائی کمیشن کے ذریعے سب کے سامنے آ جاتی پھر میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہتا ۔ اب آپ ہی سوچیں کیا واقعی کوئی سچائی کمیشن بن پائے گا اور کیا واقعی جناب آصف علی زرداری جناب نواز شریف اور جناب عمران خان اور بہت سارے دوسرے اس سچائی کمیشن کے سامنے اپنے اپنے سچ کی پوٹلی کھولیں گے میرے خیال میں تو ناممکن ہے آپ کا کیا خیال ہے؟ ۔۔۔
طارق بٹ

SHARE

LEAVE A REPLY