سیرتِ پاک حضور صلی اللہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حرا سے (120)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی

واپسی ، اس مہم کے فوائد ، سوکھا چشمہ جا ری ہو نا۔

ذو الجا دین کا انتقال ، حضور کے قتل کی سازش

اور مسجد ِ ضرار کا انہدام

گزشتہ قسط میں ہم غزوہ تبوک کے دوران پیش آنے والے واقعات اور مہما ت پر بات کر تے ہو ئے یہاں تک پہنچے تھے ،کہ آس پا س کے سب لو گوں نے تو اطا عت قبول کر لی تھی۔مگر ایک امیر بچا تھا اس نے بھی گر فتار ہو نے کے بعد جزیہ پر صلح کر لی ۔آئیے اب آگے بڑھتے ہیں ۔اس غزوہ کا مقصد جیسا کہ ہم پہلے عرض کر چکے ہیں اللہ اور رسول (ص) سے وفا داری کا امتحان تھا۔ جس میں مخلصین توپو رے اترے اور منا فقین پھر بے نقاب ہو گئے۔ گو کہ وہ اسلامی لشکر کے سا تھ تو تھے مگر اپنی ریشہ دوانیوں میں مصروف رہے۔ جس کی مثالیں کچھ آپ پہلے پڑھ چکے ہیں کچھ آگے چل کر واپسی کے سفر میں پڑھیں گے۔ یہاں بھی اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اپنے رسول (ص) کی نصرت فر ما ئی اور فتح بالر عب کا مظا ہرہ ہوا۔ کہ رومن فو جیں بجائے دو بدو ہو نے کے خا مو ش تما شا ئی بنی دیکھتی رہیں۔ جبکہ ان کےتمام سر حدی حلیف شا ن ِ رسالت کے آگے سر نگوں ہو تےگئے اور رومن فوج جو کہ اس وقت کی سپر پا ور فورس تھی دیکھتی رہی ۔جب کے اس وقت اس کے پا س تین لا کھ فو ج تما م کیل و کانٹے سے لیس تیا ر تھی۔ حضور (ص) نے وہ مقصد حا صل کر لیا ،جو کہ اس غزوہ میں مضمر تھاوہ تھا سر حدوں کا تحفظ ۔ لیکن اس میں سب سےبڑی سیا سی فتح یہ حاصل ہو ئی کہ رومن ایمپا ئر کی اپنے حلیفوں کی مدد نہ کر نے کی وجہ سے ،اس کے حلیفوں میں یہ خیا ل عا م ہو گیا کہ یہ وقت پڑنے پر اپنے حلیفوں کا سا تھ چھوڑ دیتے ہیں۔ جس سے آئندہ چل کر ان کے علاقے فتح کر نے میں مزید آسا نی ہو ئی ۔اور تھوڑے ہی عرصہ کے بعد رومن ایمپا ئر کی سر حدیں سکڑ کر یو رپ کی طرف چلی گئیں ۔ عرب و عجم ہمیشہ کےلئے ان کی تاخت و تاراجی سے محفو ظ ہو گیا ۔یہ بات بہ ذات خو د ایک معجزے سے کم نہ تھی جو اس مو قع پر رونما ہوئی۔ کہاں تو منا فق یہ کہتے پھر رہے تھے کہ کل ہم سب رو می لشکر کے ہا تھوں بندھے پڑے ہونگے اور کہا ں یہ فتح بالرعب ۔سبحا ن اللہ ۔اس پر سب متفق ہیں کہ حضو ر (ص) نے وہاں دس را تیں یا بارہ دن قیام فر ما یا اور جب مزا حمت کے دور دور آثا ر نہ پا ئے تو مدینہ منورہ کے لیے واپسی کا سفر شروع کر دیا۔ چلتے ہو ئے حضور (ص) نے ہدا یت فر ما ئی کہ اگلی منزل پر ایک پا نی کا چشمہ ملے گا جس میں چند گھو نٹ پا نی ہے، لہذا میں جب تک پہنچ نہ جا ؤ ں اور اس چشمہ سے پا نی نہ پی لوں کو ئی نہ پیئے، یہ بھی شا ید ایک امتحا ن تھا جیسے کہ حضرت طا لوت کے واقعہ میں قر آن نے بیا ن کیا ہے ۔مگر یہاں بھی چند منا فقین پہل کر نے آگے پہنچ گئے اور انہوں نے اس چشمے کا تما م پا نی پی کر ختم کر دیا ۔جب حضو ر (ص)چشمہ پر پہنچے تو وہاں پا نی نہیں تھا۔ صرف ایک پتھر سے پانی قطرہ، قطرہ کر کے گر رہا تھا اتنا نہ تھاکہ چلو میں بھی جمع ہو سکے ۔اس پر حضو ر (ص) نے پو چھا کہ مجھ سے پہلے یہاں کو ن پہو نچا تھا ؟ لو گوں نے ان کے نا م بتا ئے وہ سب منا فق نکلے۔ حضور (ص) نے اس پر بر ہمی ظاہر فر ما ئی ۔ اکثر مو ر خین نے لکھا ہے کہ تما م عرب مسلمان ہو گیا مگر وہ اپنی اس حر کت اور حضور (ص) کی بد عا کی بنا پر منا فق ہی مرے ۔اس کے بعد بسم اللہ کہہ کر حضور (ص) نے اس چٹا ن کے نیچے اپنا ہا تھ کیا اور چند قطرے جمع کر کے اس چٹان پر چھڑک دیئے اور کو ئی دعا پڑھی جو صحابہ کرا م سن نہ سکے۔ اس کے بعد رعد یعنی بجلی کی گرج جیسی ایک آواز پیدا ہو ئی اور اس میں سے چشمہ دو با رہ جا ری ہو گیا۔ پھرتو اللہ نے اس کے پا نی میں اتنی بر کت دی کہ پو را لشکر سیرا ب ہو گیا ۔

حضرت ذو البجا دین مز نی (رض) کی وفات :انکے انتقال کے سلسلہ میں حضرت عبد اللہ (رض)بن مسعود سے ایک روایت بیا ن ہو ئی کہ انہوں نے فر ما یا کہ دوران سفر ایک را ت میں جا گا تو دیکھا کہ ایک بجلی سی چمکی، میں اس کی طرف گیا تو کیا دیکھتا ہو ں کہ ذو البجا دین (رض) انتقال فر ما گئے ہیں۔ حضو ر (ص)اور ابو بکر وعمر (رض) ان کے پاس ہیں اس کے بعد ان حضرا ت نے قبر تیا ر کی اور حضو ر (ص) قبر کے اندر اترے اور فر ما یا کہ اپنے بھا ئی کو میری طرف اتا رو اور ان دو نوں نے ،حضور (ص) کی طر ف ان کی میت کو اتا ر دیا۔پھر حضو ر (ص)نے انہیں پہلو کی طرف لٹا یا اوردعا فر ما ئی ”اے اللہ میں اس سے خو ش ہو گیا ہوں تو بھی اس سے خو ش ہوجا “ چو نکہ ان کی تدفین حضور (ص) کے ہا تھوں انجا م پا ئی تھی اس لیے حضرت عبد اللہ (رض) بن مسعود اکثرکہا کر تے تھے ،کا ش !میں اس قبر میں دفن ہو تا ۔ابن اسحاق (رح)نے ان کے اس نا م کی وجہ تسمیہ یہ بتا ئی ہے کہ وہ اپنے قبیلے میں مسلما ن ہو نے وا لے پہلے شخص تھے اور ان کااکثراپنے ہم قبیلہ سے اس با ت پر جھگڑا ہو تا تھا۔ ا ن لو گوں نے ان پر زند گی تنگ کر رکھی تھی، جب ان کے پا س پہننے کو کچھ نہ رہا اور صرف ایک چا در رہ گئی تو انہوں نے اس کے دوٹکڑے کر کے نصف کوبا ند ھ لیا اور نصف اوڑ ھ لی اور وہاں سے بھا گ کر اسی ہیئت کے سا تھ رسو ل اللہ (ص)کی خد مت میں حا ضر ہو ئے لہذا ان کا لقب ذو البجا دیں یعنی دو چا دروں والا پڑ گیا ۔

منا فقین کی طرف سے قتل کی سا زش:ایک روایت حضرت عروہ (رض)بن زبیر سے منسوب ہے کہ واپسی میں کچھ منا فقین نے حضو ر (ص) کو قتل کر نے کی سا زش کی مگر اللہ سبحانہ تعا لیٰ نےحضو ر (ص) کو اس سے با خبر فر ما دیا۔ سا زش یہ تھی کہ جب حضور (ص) ایک گھا ٹی کی چو ٹی سے گزریں تو ان کو وہاں سے دھکا دیدیا جا ئے ۔حضور (ص) نے اپنے سا تھیوں میں سے دو کو تدا رک کےلئے سا تھ لے لیا۔ان کے نا م تھے حضرت عمار بن یا سر (رض) اور اور حذیفہ بن الیمان (رض) ، حضرت عمار (رض) ناقے کی مہا ر پکڑے ہو ئے تھے اور حضرت خذیفہ (رض) پیچھے چل رہے تھے ۔حتیٰ کہ اس گھا ٹی سے گزر ہوا تو حضو ر (ص) گھا ٹی کے اوپر کی طرف تشریف لے گئے اور با قی لو گوں کو نیچے سے گزرنے کا حکم دیا۔ دریں اثنا کچھ لو گ جو کہ ڈھا ٹے منہ پر با ندھے ہو ئے تھے، انہوں نے حضو ر (ص) کے پا س آنے کی کو شش کی جن کی تعداد با رہ تھی۔ مگر اس سے پہلے کہ وہ حملہ کر یں حضور (ص) نے ان کو للکا را اور ان کی سواریوں کا منہ ایک خیمہ کی میخ سے مو ڑ دیا جو اس وقت حضور (ص) کے دست ِ مبا رک میں تھی ۔اتنے میں حضرت حذیفہ (رض) بھی دوڑ کر حضو ر (رض) کے پا س پہنچ گئے ،مگر اس سے پہلے کہ وہ پہچا نے جا ئیں اونٹ بھگا کر مجمع میں دا خل ہو گئے ۔ اس کے بعد حضور (ص) نے ان کو تیزی سے گھا ٹی سے نیچے پہنچنے کا حکم دیا، جب وہ نیچے پہنچ گئے تو حضو ر (ص)نے حضرت حذیفہ (رض) سے پو چھا کہ کیا تم نے ان کو پہچا نا، انہوں نے کہا کہ نہیں وہ ڈھا ٹے باندھے ہو ئے تھے اور لشکر میں غا ئب ہو گئے۔ پھر حضور (ص) نے ان کو ان کے نا م بتا ئے۔ اس پر حضرت حذیقہ (رض) نے کہا کہ آپ ان کے قتل کا حکم کیو ں نہیں دیتے؟ حضور (ص) نے فر ما یا کہ میں نہیں چا ہتا کہ لو گ کہیں کہ محمد (ص) اپنے سا تھیوں کا قتل کر نے لگے ۔ ابن ِ ہشام (رح) نے بھی اس واقعہ کی تصدیق کی مگر تعداد چو دہ بتا ئی ہے، اور اس میں یہ بھی اضا فہ بہت سی سندا ت کے سا تھ کیا ہے کہ ناموں سے حضرت یاسر بن عما ر ، حضرت عمر اور حضرت ابن ِ مسود (رض) بھی واقف تھے۔ حضرت ابن ِ مسعود (رض) کی ایک اور روایت سے بھی تصدیق ہو تی ہے کہ اس میں بتا یا گیا ہے کہ حضرت عبداللہ (رض) بن مسعود کو حضور (ص) نے ان منا فقین کے نا م بتا دیئے تھے، جب ان میں سے کسی کا انتقا ل ہو تا تھا تو حضرت عبد اللہ بن مسعو د نما ز جنا زہ نہیں پڑھتے تھے۔ پھراس شخص کی نما ز جنازہ پڑھنے میں اوروں کو بھی کرا ہیت ہو تی تھی۔ واللہ عا لم ۔

مسجدِ ضرار کا انہدام :حضور (ص) جب تبوک تشریف لے جا رہے تھے تو قبا سے کچھ لو گوں کا ایک وفد آکر ملا اور در خواست کی انہوں نے قبا میں ایک مسجد تعمیر کی ہے ا گر اس میں جا نے سے پہلے حضور (ص) نما ز پڑھا دیں تو بہتر ہے ۔در اصل یہ مسجد بھی ایک سا زش کا حصہ تھی کہ ابو عا مر جو کے پہلے را ہب تھا وہ پہلے دن سے ہی حضو ر (ص) کے خلا ف سازش کے تا نے با نے بنتا رہتا تھا ۔پہلے تو اس نے قریش سے مدد چا ہی اور وہ احد کے میدا ن میں انہیں چڑھا لایا۔ جب اس میں بھی نا کا می ہو ئی تو وہ بھا گ کر قیصر ِ رو م کے پا س چلا گیا۔ مگر اس کی منا فقین سے خط و کتا بت چلتی رہی اور وہ حضو ر (ص) کی عدم مو جود گی میں وہ اس کو اپنا اڈہ بنا نا چا ہتا تھا ۔مگر حضو ر (ص)نے اسوقت اس سے معذرت کر لی اور فر ما یا کہ انشاءاللہ واپسی میں ہم نما ز پڑھا ئیں گے۔مگر واپسی کے دوران ہی حضور (ص) کو ا یک آیت کے نزول کے ذریعہ با خبر فر ما دیا گیا، اور حضور (ص) نے اس کو منہدم کرادیا۔اس مسجد ِ کواللہ تعا لیٰ نے مسجدِ ضرار کانام عطا فرما یا۔ یعنی ضرر پہنچا نے والی مسجد اور اس کی مذمت ان الفا ظ میں فرمائی کہ ”جو (شخص) پہلے سے اللہ اور اس کے رسول (ص) دونوں سے بر سرِجنگ ہے اس کی کمین گاہ ہے “ جبکہ پہلی مسجد اور اس کے با نیوں کی تعر یف کی اور ان کے تقویٰ اور پاکی کو سراہا ۔ دراصل تا ریخ اسلام میں یہ پہلی مسجد تھی جس کو حضور (ص) نے اپنے چند روز ہ قیام ِ میں مدینہ جا تے ہو ئے تعمیر کر وا یاتھا ،اور جس میں پہلی با جما عت نما ز ادا ہوئی۔ ابھی بھی جو زا ئرین مدینہ منورہ جا تے ہیں وہاں جا کر دو رکات نوا فل اداکر تے ہیں۔ باقی آئندہ)

SHARE

LEAVE A REPLY