پاکستان مسلم لیگ (ن) نے پاناما پیپرز کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) میں انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) اور ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کے اہلکاروں کی شمولیت کی وضاحت مانگتے ہوئے جے آئی ٹی کی مزید کارروائیوں کے خلاف احتجاج کی دھمکی دے دی۔
حکمران جماعت بظاہر سپریم کورٹ کی جانب سے قائم کی جانے والی جے آئی ٹی کے قیام سے مطمئن تھی تاہم اب وہ مختلف بنیادوں پر اس کی تحلیل چاہتی ہے۔
حکومت پنجاب کے ترجمان ملک احمد خان نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ واٹس ایپ کال (سپریم کورٹ رجسٹرار کی جانب سے)، اسٹیٹ بینک پاکستان (ایس بی پی) اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان (ایس ای سی پی) کے اہلکاروں کی جے آئی ٹی میں شمولیت، تحقیقات کے دوران حسین نواز کی لیک ہونے والی تصویر جے آئی ٹی کے دباؤ کے ہتھکنڈے اور جے آئی ٹی میں شامل آئی ایس آئی اور ایم آئی کے ممبران کی مہارت پر سوالیہ نشان ایسی وجوہات ہیں جن کی بنا پر مسلم لیگ (ن) جے آئی ٹی کے خلاف احتجاج پر جاسکتی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا ’جیسا کہ ہم پہلے ہی اسٹیٹ بینک کے عامر عزیز اور ایس ای سی پی کے بلال رسول کی شمولیت کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر چکے ہیں اور اب ہم یہ وضاحت چاہ رہے ہیں کہ کن بنیادوں پر آئی ایس آئی اور ایم آئی کے ممبران کو جے آئی ٹی کا حصہ بنایا کیا گیا‘۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کا قیام 184 مجموعہ ضابطہ دیوانی کے تحت ہوا، لیکن یہ اپنے قانونی مینڈیٹ سے تجاوز کر رہی ہے، اس قانون کے تحت جے آئی ٹی صرف تحقیقات کر سکتی ہے لیکن یہ مجرمانہ تفتیش کر رہی ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا شریف خاندان کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے جس کے تحت جے آئی ٹی مجرمانہ تحقیقات کر رہی ہے؟
ملک احمد خان نے کہا کہ ’جے آئی ٹی پر ہمارے تحفظات ٹھوس وجوہات پر ہیں اور ہم اس تحقیقاتی ٹیم کے خلاف احتجاج کا آغاز بھی کر سکتے ہیں‘












