عمران خان کے خلاف اليکشن کميشن کے توشہ خانہ فیصلے کی مزید تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
الیکشن کمیشن نے گزشتہ روز توشہ خانہ ریفرنس میں عمران خان کو آئین کے آرٹیکل 63 کے تحت نااہل قرار دیا تھا۔
ریفرنس پر فیصلے کی مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں ، جس میں الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ عمران خان کے مطابق تحائف 2 کروڑ 15 لاکھ 64 ہزار میں خریدے جب کہ کابینہ ڈویژن کے مطابق تحائف کی مالیت 10 کروڑ 79 لاکھ 43 ہزار تھی۔
الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں مزید لکھا ہے کہ عمران خان کے بتائے گئے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات اسٹیٹ بنک سے منگوائی گئیں، مالی سال 2018-19 کے اختتام پر عمران خان کے اکاؤنٹ میں 5 کروڑ 16 لاکھ روپے تھے جب کہ عمران خان کے اکاؤنٹ میں موجود رقم تحائف کی مالیت کی نصف تھی، عمران خان کے گوشوارے بینک ریکارڈ سے مطابقت نہیں رکھتے۔
فیصلے کہا گیا ہے کہ عمران خان اپنے اثاثوں کے گوشواروں میں کیش اور بینک کی تفصیل بتانے کے پابند تھے جو انہوں نہیں بتائی، عمران خان نے وضاحت نہیں دی کہ گوشواروں میں غلطی غیر ارادی تھی۔
عمران خان نے تسلیم کیا کہ مالی سال 2019-20 میں انہوں نے نا تو تحائف ظاہر کیے اور نہ ہی ان کی فروخت سے حاصل رقم، عمران خان کے بقول تمام تفصیلات ٹیکس گوشواروں میں ظاہر کردہ ہیں لیکن الیکشن کمیشن اور ایف بی آر الگ الگ ادارے ہیں۔












