ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹی20 میچ میں پاکستانی اوپنر فیلڈنگ کے دوران حریف کھلاڑی سے ٹکرانے کے باعث شدید انجری کا شکار ہو گئے تھے لیکن بعد میں فیلڈ میں واپس آ گئے ہیں۔

پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو دوسرے ٹی20 میچ میں 133 رنز کا ہدف دیا تو ہدف کے تعاقب میں ویسٹ انڈیز نے ایک وکٹ کے نقصان پر 20 رنز بنا لیے تھے لیکن اسی دوران چوتھے اوور کے اختتام پر ایک خطرناک حادثہ پیش آیا۔

سہیل تنویر کے اوور کی آخری گیند پر مارلن سیمیولز نے گیند روک کر سنگل رن لیا تو پوائنٹ پر موجود احمد شہزاد بھاگتے ہوئے آئے اور گیند کو وکٹ پر مارنے کی کوشش کی لیکن اس موقع پر وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکے اور ویسٹ انڈین بلے باز چیڈول والٹن ان سے ٹکرا گئے۔

ٹکر کے نتیجے میں والٹن کا گھٹنا شہزاد کی گردن سے پوری شدت سے ٹکرایا جس کے بعد احمد شہزاد زمین پر لیٹ گئے اور تکلیف کی شدت سے کراہنے لگے جس کے بعد فوری طور پر ٹیم فزیو کو میدان میں طلب کر لیا گیا۔

فزیو نے احمد شہزاد کی گردن کے گرد حفاظتی بیلٹ باندھ دیا جبکہ انہیں ہسپتال منتقل کرنے کیلئے ایمبولینس کو میدان میں طلب کر لیا گیا۔

قومی ٹیم کے فزیو کے مطابق احمد شہزاد کی گردن میں شدید درد تھا جس کی وجہ سے انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں ٹیسٹ کے بعد انجری کے بارے میں مزید معلومات حاصل ہوں سکیں گی۔

تاہم ہسپتال کی جانب سے کلیئر کیے جانے کے بعد احمد شہزاد فیلڈ میں واپس آ گئے۔

واضح رہے کہ آخری مرتبہ پورٹ آف اسپین میں کھلاڑی کی انجری پر میدان میں ایمبولینس کو 2000 میں ہندوستان کے خلاف ٹیسٹ میچ میں اس وقت طلب کیا گیا تھا جب ویسٹ انڈین کھلاڑی مارلن بلیک انجری کا شکار ہو گئے تھے۔ اس میچ میں سچن ٹنڈولکر نے اپنی 29ویں ٹیسٹ سنچری اسکور کی تھی۔

SHARE

LEAVE A REPLY