کبھی کبھی ۔ ۔ ۔انسان خود سے ہجرت کر جاتے ہیں ۔ ۔ ۔اور جب انسان مہاجر بن جاتے ہیں ۔ ۔ ۔
تو وہ مسافر نہیں رہتے کہ مسافر کوتو کبھی نہ کبھی لوٹ کر آنا ہوتا ہے ۔ ۔ ۔
لیکن! مہاجر واپس نہیں لوٹتے ۔ ۔ ۔ وہ اپنا سب چھوڑ دیتے ہیں ۔ ۔ ۔اور انکا سفر بلندی ہوتا ہے اور بلندی کے سفر میں ۔ ۔ ۔
اپنے وجود سے ہجرت کرنے والے ۔ ۔ ۔پھر اپنا سب دان دے دیا کرتے ہیں ۔ ۔ ۔
پھر ان کا خود پہ کوئی حق یا ملکیت ۔ ۔ ۔
نہیں رہتا۔ ۔ ۔بلکہ وہ صرف اور صرف رب کی ملکیت رہ جاتے ہیں ایسی ملکیت جسکی
پسند یدگی رحجان ، چاہت ، سب کے سب جزبے ، ساری خواہشات اور خوشیاں بس اس رب کی رضا کے تابع ہوتی ہیں ۔ ۔ ۔یہ وہ شخص نہیں ہوتا کہ خانقاہوں میں بیٹھکر ہر دم ‘ اللہ ہو ‘ کا ورد کرتا رہتا ہو بلکہ یہ وہ شخص ہوتا ہے کہ جو ‘ لا الہ اللا ہو ‘ کی وہ عملی شکل بن جاتا ہے کہ جو ہر ظالم و جابر و طاغوت کو پہلے لا کہتا ہے ۔ ۔ ۔یعنی کہ اسکے ظلم، جبر، برائی کا انکار اسکے سامنے اسکی کھل کر کرتا ہے ۔ ۔ ۔اور پھر اپنے کردار کی نورانیت سے رب کی وحدت کی عملی شہادت دیتا ہے ۔ ۔ ۔کہ اسکا جیتا جاگتا وجود دیکھکر رب کی وحدانیت سمجھ میں آنے لگتی ہے ۔ ۔ ۔
یہ ہجرت ایک بیدار شخص، ایک زندہ شخص کرتا ہے ۔ ۔ ۔اور رب کا نائب بن کر وہ اپنی زات کی نورانیت و طہارت سے اپنے ارد گرد کے زمان مکان ہی کو نہیں بدل دیتا بلکہ ۔ ۔ ۔انے والے زمانوں تک میں اسکے وجود کی گونج ، اسکے وجود کی مہک ایک لازمی جز بن جاتی ہے کہ کوئی بھی اس جز کو پڑھے بنا صاحب عقل و حسن نہیں بن پاتا ۔ ۔ ۔
کہ یہی حسن ہے ہجرت کا کہ ایکبار جو شخص بھی اپنے نفس سے ہجرت اختیار کرتا ہے ۔ ۔ ۔وہی وہ شخص ہوتا ہے جو رب کی معرفت سے خود کو سرشار کرتا ہے اور یہ معرفت اسکو وہ تابندگی و نورانیت عطا کرتی ہے کہ دوجہاں میں اس کا زکر بے اختیار ہوتا ہے ۔ ۔ ۔
کہ مہاجر بننا اور بات ہے ۔ ۔ ۔اور مسافر بننا اور بات ۔ ۔ ۔
مہاجر خود کو پانے کے لیے ۔ ۔ ۔اپنا سب کچھ لٹا دیتا ہے اور شہادت بن جاتا ہے رب کے عشق کی کہ اسکا وجود دو جہانوں کا عروج پا لیتا ہے کہ۔ ۔ ۔ جسکی منزل رب ہو ۔ ۔ ۔
اسکی نگاہوں میں پھر بہشت کب ہوتی ہے ۔ ۔ ۔
کہ جس کے وجود کو رزق مل جاتا ہے رب سے عشق کا ۔ ۔ ۔
پھر تو اسکی زات بے لوث، بے ضرر ، باعمل ہوتی ہے ۔ ۔ ۔
کہ وہ اندھا عاشق نہیں ۔ ۔ ۔وہ تو نگاہیں رکھتا ہے ۔ ۔ ۔اور اسکی نگاہیں اسے سست و بے عملی نہیں سکھاتیں بلکہ اسکی نگاہیں تو اسے سب بدل دینے کا انقلابی شعور دیتی ہیں کہ اہل عشق وہ نورانیت رکھتے ہیں کہ وہ عمل کے سمندر میں کئی کائناتیں کھوجتے ہیں اور ان کائناتوں سے وہ دنیا بدل دیتے ہیں وہ عشق کی نورانیت سے دنیا کو نور سے بھر دیتے ہیں۔ ۔ ۔ اور عمل کی قوس قزح سے رنگ و محل کو بدل دیتے ہیں ۔ ۔ ۔
کہ ہجرت کرنے والے احساس کو قتل کر دیتے ہیں ۔ ۔ ۔اور معرفت و نورانیت سے اپنیے وجود کو رب کے عبد ہونے کی عملی شکل دیتے ہیں ۔ ۔ ۔
کہ جنکی منزل رب ہو۔ ۔ ۔
وہ تو سب کے ہوا کرتے ہیں ۔ ۔ ۔
وہ محبتوں کے سفر میں اپنے احساس سے ہجرت فقط رب کے لیے کیا کرتے ہیں ۔ ۔ ۔
فائزہ عباس













