آبی دہشت گردی کیا ہے، صفدر ہمدانی

2
2068

آبی دہشت گردی کیا ہے
آبی دہشت گردی (Water Terrorism) ایک اصطلاح ہے جو اس عمل کے لیے استعمال کی جاتی ہے جب پانی کو بطور ہتھیار استعمال کیا جائے یا پانی کے ذرائع پر قبضہ، رکاوٹ، آلودگی یا تخریب کاری کے ذریعے مخالفین یا عام آبادی کو نقصان پہنچایا جائے۔ اس کے مختلف پہلو ہو سکتے ہیں:
https://youtube.com/shorts/86XA83oWj8M?si=BGrm86Z5HdIBbYtf

1. آبی وسائل پر قبضہ یا رکاوٹ ڈالنا
کسی ملک یا گروہ کی طرف سے دریا، نہر یا ڈیم کے بہاؤ کو روک دینا یا موڑ دینا تاکہ دوسرے علاقے کو پیاس، قحط یا زرعی تباہی کا شکار بنایا جا سکے۔
مثال: کسی دریا پر بڑے ڈیم بنا کر نیچے کے ملک کو پانی سے محروم کرنا۔
2. پانی کو آلودہ کرنا
دشمن کو نقصان پہنچانے کے لیے پانی میں کیمیائی، حیاتیاتی یا زہریلے مادے شامل کرنا۔
اس کا مقصد لوگوں میں بیماری یا ہلاکت پھیلانا ہو سکتا ہے۔
3. آبی تنصیبات پر حملہ
ڈیم، بیراج، نہری نظام یا پانی کی فراہمی کے مراکز کو نشانہ بنا کر تباہ کرنا تاکہ بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہو۔
اس سے سیلاب، بجلی کی کمی یا پینے کے پانی کی قلت پیدا کی جاتی ہے۔
4. اسٹریٹیجک دباؤ
طاقتور ملک یا گروہ کمزور ملک یا آبادی پر سیاسی، فوجی یا معاشی دباؤ ڈالنے کے لیے پانی کے استعمال کو بطور ہتھیار استعمال کرے۔
بھارت–پاکستان آبی تنازع اور آبی دہشت گردی
1. سندھ طاس معاہدہ (Indus Waters Treaty – 1960)
پاکستان اور بھارت کے درمیان ورلڈ بینک کی ثالثی میں ایک معاہدہ طے پایا جس کے تحت:
مشرقی دریا (راوی، بیاس، ستلج) بھارت کو دیے گئے۔
مغربی دریا (جہلم، چناب، سندھ) پاکستان کو دیے گئے۔
یہ معاہدہ دنیا کا ایک کامیاب آبی معاہدہ سمجھا جاتا ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ بھارت پر الزام لگایا گیا کہ وہ اس معاہدے کی روح کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
2. بھارت کے اقدامات جو پاکستان میں آبی دہشت گردی سمجھے جاتے ہیں
ڈیموں اور بیراجوں کی تعمیر: بھارت نے چناب اور جہلم پر کئی منصوبے شروع کیے، جیسے بگلیہار ڈیم، کشن گنگا منصوبہ، جنہیں پاکستان نے خلاف ورزی قرار دیا۔
پانی روکنا یا بہاؤ کم کرنا: زرعی موسم کے حساس اوقات میں دریاؤں کا پانی روکنے یا اچانک چھوڑنے سے پاکستان کی معیشت اور زراعت کو نقصان پہنچتا ہے۔
سیاسی دباؤ کے طور پر پانی: بھارت کے بعض سیاستدان کھلے عام کہتے ہیں کہ “ہم پاکستان کا پانی بند کر دیں گے”، جو آبی دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے۔
3. پاکستان پر اثرات
زرعی نقصان: پاکستان کی معیشت کا بڑا انحصار زراعت پر ہے جو دریائی پانی سے جڑی ہوئی ہے۔ پانی روکنے سے زرعی پیداوار شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
خوراک کی قلت: فصلوں کے متاثر ہونے سے غذائی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
توانائی کی کمی: پانی کی کمی ہائیڈل بجلی کی پیداوار پر اثر انداز ہوتی ہے۔
ماحولیاتی تباہی: دریاؤں میں پانی کی کمی سے ماحولیاتی نظام، آبی حیات اور زیرِ زمین پانی پر بھی برا اثر پڑتا ہے۔
4. عالمی سیاست میں آبی دہشت گردی
صرف پاکستان اور بھارت ہی نہیں بلکہ دنیا کے دیگر خطوں میں بھی پانی کو ہتھیار بنایا جا رہا ہے۔
مصر–ایتھوپیا: دریائے نیل پر گرینڈ رینیسنس ڈیم کے باعث تنازع۔
ترکی–شام–عراق: دریائے فرات و دجلہ پر ترکی کے ڈیموں کی وجہ سے مسائل۔
ان مثالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ پانی مستقبل میں “تیل” سے زیادہ بڑا جغرافیائی و سیاسی ہتھیار بن سکتا ہے۔

……………………………….

پاکستان ان لمحوں میں شدید ترین موسمی تغیرات کی زد میں ہے۔ کہیں بادل بے رحم ہو کر بستیوں کو ڈبو رہے ہیں، کہیں زمین خشک ہونٹوں سے بادل کو تک رہی ہے۔ موسمی بے ترتیبی ایک نئی حقیقت ہے، مگر بدقسمتی سے ہمارے معاشرے نے اسے سنجیدگی سے قبول نہیں کیا۔

رواں موسمِ برسات میں جو کچھ ہم نے دیکھا — کراچی کی گلیوں سے لے کر آزاد کشمیر کے پہاڑوں تک، ہر طرف تباہی کا منظرنامہ ہے۔ سڑکیں ندی نالوں میں تبدیل، دیواریں زمیں بوس، اور انسان اپنی ہی بے خبری کا شکار۔ یہ محض “قدرتی آفت” نہیں — بلکہ انسانی کوتاہی کا نتیجہ ہے۔

ہم اور موسم: ایک یک طرفہ تعلق
ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم موسم سے صرف فائدہ اٹھانا جانتے ہیں، اس کی حفاظت کا شعور ہم میں کم ہی ہے۔ ہم نے درخت کاٹ دیے، نالے بند کر دیے، زمین پر کنکریٹ بچھا دی، اور آسمان کو دھواں دے دیا۔ پھر جب بارش آتی ہے تو ہم دعاؤں کی طرف لوٹتے ہیں — اور ذمہ داری کو بھول جاتے ہیں۔

کیا ہمیں یاد ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے؟ کیا ہمیں اندازہ ہے کہ ہم ہر سال اربوں روپے کا نقصان صرف اس لیے اٹھاتے ہیں کہ ہم نے اپنی زمین، اپنے ماحول، اور اپنی آئندہ نسلوں کے حق میں خیانت کی ہے؟

عوام کی بے حسی: شعور کی کمی یا سہولت کی عادت؟
عام آدمی آج بھی ان بارشوں کو “اللہ کا عذاب” یا “قدرت کی مرضی” کہہ کر بری الذمہ ہو جاتا ہے۔ کوئی یہ سوچنے کو تیار نہیں کہ اگر ہم پلاسٹک کے تھیلے بند کرتے، نالوں میں کچرا نہ پھینکتے، یا بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کا انتظام کرتے، تو شاید اتنی تباہی نہ ہوتی۔ المیہ یہ ہے کہ ہم مسائل کا سامنا کرنے کے بجائے ان سے نظریں چُرا لینے میں ماہر ہو چکے ہیں۔

ریاست کہاں ہے؟
حکومت کی جانب سے وقتاً فوقتاً بلند بانگ دعوے ضرور کیے جاتے ہیں۔ “کلائمیٹ اسمارٹ ایگریکلچر” اور “گرین پاکستان” جیسے منصوبے اخبارات کی زینت بنتے ہیں، مگر ان کی رفتار، نگرانی، اور عوامی شرکت نہ ہونے کے برابر ہے۔ جب تک یہ کوششیں نچلی سطح پر نہیں اتریں گی، یہ منصوبے صرف فائلوں کی زینت بنے رہیں گے۔

کیا کیا جا سکتا ہے؟
آگاہی کی مہمات: اسکولوں، کالجوں، مساجد اور میڈیا کے ذریعے عام شہری کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے روشناس کرانا ہوگا۔

عوامی شراکت: محلہ سطح پر درخت لگانے، پانی محفوظ کرنے، اور صفائی کو مہم کے طور پر اپنانا ہوگا۔

پالیسی پر عملدرآمد: قوانین بنانا کافی نہیں — ان پر سختی سے عمل بھی کرانا ہوگا۔

شہری منصوبہ بندی میں ماحولیاتی پہلو شامل کرنا: نکاسی آب، بارش کے پانی کو محفوظ کرنے اور گرین زونز کی تعمیر کو ترجیح دی جائے۔

اختتامیہ: اب بھی وقت ہے
بارشیں برس رہی ہیں — زمین تو سیراب ہو رہی ہے، مگر شعور اب بھی پیاسا ہے۔ اگر ہم نے اب بھی آنکھیں نہ کھولیں، تو آنے والی نسلوں کو صرف سیلاب، ہیٹ ویو اور آلودہ فضا ورثے میں ملے گی۔ ہم سب کو یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم صرف تبصرہ کرنے والے ناظر ہیں، یا تبدیلی کے داعی بننا چاہتے ہیں۔

SHARE

2 COMMENTS

  1. مجھے تو اب یوں محسوس ہونے لگا ہے کہ ہمار٦ ملک میں زانیوں بدکاروں کو پھانسی آدی کہئے نہیں دی جاتی کہ پھر آدھی آبادی تو ویسی ہی صاف ہو جائے گی. اور یہ قانون بنانے والابھی اس پھندے پر اپنے ہی گلے کا سائز پہلے سے دیکھ چکا ہوتا ہے.

LEAVE A REPLY