حُسین شناسی کا سفر۔104۔ طویل عزائی نظم ، ڈاکٹر نگہت نسیم

0
633

قسط 104

آپ پر سلام
میں نے آپ کی جانب رخ کیا ہے
آپ کی بارگاہ سے کامیابی کا امیدوار ہوں
آپ پر سلام
آپ کی حرمت کو پہچاننے والے کا
سلام آپ سے خالص محبت رکھنے والے کا سلام
سلام آپ کی محبت کے ذریعہ سے قربِ خدا حاصل کرنے والے کا
اس کا سلام
جو آپ کے دشمنوں سے بیزار ہے
اس کا سلام
جس کا دل آپ کے غم سے زخمی ہے
اور آپ کے ذکر کے وقت اس کی آنکھوں سے آنسو جاری رہتے ہیں
جو آپ کے مصائب سے نہایت دردمند ملول اور بے حال ہے
اس کا سلام
جو میدانِ کربلا میں
اگر آپ کے ساتھ ہوتا
تو
تلواروں کی باڑھ پر اپنی جان کو ڈال دیتا
اور آمادہ موت ہوکر
اپنے خون کا آخری قطرہ آپ پر نثار کردیتا
اور
باغیوں کے مقابلہ میں
آپ کے سامنے جہاد کرکے آپ کی نصرت کرتا
اپنی روح، اپنا جسم، اپنا مال اور اپنی اولاد
سب کچھ
آپ پر فدا کردیتا
اس کی روح آپ کی روح پر نثار ہوتی
اور
اس کے اہل آپ کے اہل پر فدا ہوتے
اب جبکہ
زمانہ نے مجھے مؤخر کردیا
اور اس وقت
موجود نہ ہونے کی وجہ سے
میرے مقدر نے مجھے آپ کی نصرت سے روک دیا
آپ سے لڑنے والوں سے نہ لڑسکا
اور
آپ کے دشمنوں کے لئے میدان میں آکر کھڑا نہ ہوسکا
تو
صبح وشام بیقراری سے
آپ کے غم میں رویا کروں گا
اور آنسو کے بدلہ آنکھوں سے خون بہاؤں گا
یہ آپ کا غم
یہ آپ کے مصائب پر
رنج وملال اور آہ پُردرد کبھی جانے والی نہیں
اسی سوزشِ غم اسی رنج وملال کو ساتھ لے کر دنیا سے اٹھ جاؤں گا

جاری ہے

SHARE

LEAVE A REPLY