بھارت کی حکومت نے اپنے زیرِ انتظام کشمیر میں سیاحوں پر عائد پابندی 10 اکتوبر سے ہٹانے کا اعلان کر دیا

0
736

پیر کو وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے حکم نامے کے مطابق جمعرات سے سیاح جموں و کشمیر کی جانب سفر کر سکیں گے۔ تاہم بھارتی حکومت کے اعلان کے باوجود برطانیہ اور دیگر ممالک نے اپنے شہریوں کو بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کا سفر نہ کرنے کا مشورہ برقرار رکھا ہے۔

بھارت کی حکومت نے پانچ اگست سے قبل جموں و کشمیر سے تمام سیاحوں، یاتریوں اور غیر کشمیری طلبا کو واپس لوٹنے کا حکم دیا تھا۔ بھارت کی جانب سے اس دوران مزید فوجی دستے بھی وادی میں تعینات کر دیے گئے تھے۔ اس دوران یہ قیاس آرائیاں عروج پر تھیں کہ سرحد پار پاکستانی کشمیر سے کسی بڑے دہشت گرد حملے کا خدشہ ہے۔

پاکستان نے ان قیاس آرائیوں کی سختی سے تردید کی تھی۔

لیکن پانچ اگست کو بھارت کی حکومت نے لوک سبھا میں ایک بل متفقہ طور پر منظور کرتے ہوئے آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کر دیا۔ جس سے کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت بھی ختم ہو گئی۔

بھارت کی حکومت نے نقص امن کے خدشے کے پیش نظر جموں و کشمیر میں کرفیو جیسی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ جب کہ انٹرنیٹ اور دیگر مواصلاتی رابطے بھی منقطع کر دیے تھے۔

تازہ حکم نامے کے باوجود پیر کو پلوامہ میں سیکورٹی فورسز سے جھڑپ کے دوران ایک عسکریت پسند ہلاک ہو گیا ہے۔ ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ہلاک ہونے والے دہشت گرد کا تعلق پاکستان سے تعلق رکھنے والے گروپ لشکر طیبہ سے ہے۔ حکام کے مطابق پانچ اگست کے بعد سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں ہلاک ہونے والے عسکریت پسندوں کی تعداد پانچ ہو گئی ہے۔

بھارتی حکومت کی جانب سے اتوار کو نقل و حمل پر عائد پابندیاں ہٹاتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے 15 کارکنوں کو نظر بند دو رہنماؤں سے ملاقات کی اجازت بھی دی گئی تھی۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی خوبصورتی کے باعث ہر سال ہزاروں سیاح یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ یہاں کے پہاڑ، گلیشئیرز اور سرینگر کی ڈھل جھیل خاص طور پر توجہ کا مرکز رہتی ہے۔

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں 1989 میں حریت پسندوں کی جانب سے مسلح جدوجہد کا آغاز ہوا تھا۔ اس عرصے کے دوران کشمیر میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کی جانب سے کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت ختم کرنے کے اقدامات کو بعض حلقے سراہتے ہیں۔ تاہم ناقدین کو خدشہ ہے کہ اس اقدام کے بعد کشمیر میں تشدد بڑھے گا۔

پاکستان کی حکومت نے بھی اعلان کر رکھا ہے کہ وہ جموں و کشمیر کے عوام کی اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گی۔ گزشہ ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں پاکستان کے وزیر اعظم نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل قرار دیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY