یہ مشہور حدیث ہے۔ آج کی دنیا کا آپ جائزہ لیں تو آپ کوہر طرف ظلم اور زیادتی نظر آ ئے گی؟ موجودہ دور کوآئندہ نمودار ہونے والے واقعات کا ایک نمونہ یا (ٹریلر) سمجھ لیں؟ جبکہ حضور ﷺ نے یہ فرما کر چودہ سو سال پہلے ہی امت کو خبر دار کردیا تھا؟ مگر ہم ایسی باتوں کو سنتے کہاں ہیں؟ اگر حضور ﷺ کے فرمودات سنتے ہو تے تو اسوہ حسنہ کو اپنی لیئے اللہ کے فرمان کے مطابق مشعل راہ بناتے تو ہر کام کی طرح ووٹ بھی کو سوچ سمجھ کر استعمال کرتے؟ اس صورت میں پھر ہمارا معیار یہ نہیں ہوتا کہ ہمیں صرف اپنے بندوں کو ووٹ دینا ہے چاہیں ان کا کردار کیسا بھی ہو؟ جبکہ ہمیں حکم ہے کہ اپنے بھا ئی کی صرف بھلے کاموں میں مددکرو، لیکن برائیوں میں با لکل نہیں؟ اس صورت حال میں دنیا آج کچھ اور ہوتی۔ مگر ہم نے نہ نبی ﷺ کی بات پر کان دیئے نہ ہی اللہ سبھانہ تعالیٰ کےارشادات پرکان دیئے۔ “ قولی“ مسلمان بنے رہے عملی مسلمان نہیں بن سکے۔ جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بھی بتادیا ہے کہ “انسان جو کچھ بھی کرتا ہے وہ اپنے لئیے کرتا ہے؟ جبکہ ہمیں اس سے بھی خبردار کردیا تھا کہ “اس کے دربار میں اگر کوئی چیز قابل عزت اور ترجیح تو وہ تقویٰ ہے، نہ کا لے کو گورے پر فضیلت ہے نہ گورے کو کالے پر فضیلت ہے“ اور ہمیں یہ بھی بتادیا تھا کہ وہاں رشتے داریاں کام نہیں آئیں گی؟ پچھلی اُمتیں اسی وجہ سے خوار ہوئیں کہ وہ کسی نہ کسی قسم کے فخراور تکبر میں مبتلا ہوگئیں ۔ہوئیں مثلاً ہم نبیوں(ع) کی اولاد ہیں یا ہماری نبی ؑ جان دیکر اپنی پوری قوم کے لئیے فدیہ بن گئے۔ اور جب وہ اس طرح اپنی افادیت کھو بیٹھیں تو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے انہیں معزول کردیا “ اور ہمیں بتادیا کہ “اب ان کی جگہ ہم تمہیں لا ئے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ تم کیا کرتے ہو“؟ ہم نے اس بات کی بھی کوئی پر واہ نہیں کی۔ وہیں آگئے جہاں سے چلے تھے کہ ہمیں یہ بخشوادے گا ہمیں وہ بخشوادے گا؟ جبکہ قر آن یہ پہلے ہی مثالیں دیکر سمجھا چکا تھا کہ قیامت میں کوئی کسی کا وزن نہیں اٹھاسکے گا؟۔اور پرانی امتوں کی مثالیں دیکر کہ سمجھایا تھا دیکھو کہ حضرت نوحؑ اپنے بیٹے کے کام نہیں آسکے، لوط علیہ السلام اپنی بیوی کے نہیں کام آسکے۔ تو ہم یہ کیسے سوچ سکتے ہیں۔ کہ بڑے اباّ کسی کے کام آسکیں گے؟
پرانی مثالوں پر مت جا ئیے موجودہ حالات دیکھ لیجئے کہ کبھی ہم پوری طرح اللہ کے دین پر کار بند تھے۔ تو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے دنیا کی دو سپر پاورز پرہماری نصرت فرماکر ہمارے ہاتھوں روم اور کسریٰ کو شکست دلوادی؟ پھر وہ ہماری ہی ان لائبریریوں میں کھوج لگا نے میں مصروف ہوگئے اور انہوں نے صرف دو اصول ہمارے اپنا لئیے؟ ایک عدل سب کے ساتھ اوردوسرے جذبہ احسان کے عنصر کی جھلک ان میں اس طرح نظر آئے جس طرح کبھی ہمارے اندر تھی اور سب کو آتی تھی!کے جبکہ احسان کے معنی بہت آسان ہیں جو کہ ہم کو بھی کبھی یاد تھے مگر سب اچھی باتوں کی طرح ہم نے سیکھ کر چھوڑ دیئے یہ جانتے ہوئے کہ جہاں حسن کے ساتھ کوئی اضافت لگ جا ئے تو اس فعل میں چار چاند لگ جا تے ہیں مثلاً حسنِ تحریر، حسن ِ تقریر حسن ِ تعمیر وغیرہ وغیرہ۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ جو جہاں بھی اپنے فرا ئض جس حیثیت میں بھی انجام دے رہا اس کو اپنی پوری صلا حیتیوں یعنی(excellence) کے ساتھ انجام دینا چا ہیئے چا ہیں وہ باپ کی حیثیت سے انجام دیرہا ہو یا بیٹے کی حیثیت سے۔ ؟ نوکر کی حیثیت سے یا مالک کی حیثیت ان دو اصولوں کو اپنا کر انہو ں نے ہم سے اپنی کھوئی ہوئی حکومت پھر چھین لی کیونکہ ہم پورا سبق بھول چکے تھے۔ اور انہوں تازہ تازہ یہ دو نسخے یاد کرلئے تھے؟ نتیجہ یہ ہوا کہ ہم کئی صدیوں تک ان کے مطیع معترف،اور فرما نبردار بنے رہے؟ اب ان کے یہاں بھی وہ عنصر کم ہو کر ختم ہونے کے قریب ہے۔ لہذا پھر وہ قوم ابھر رہی ہے جو ہزاروں سال پہلے کبھی حکمراں تھی آج وہ تیزی سے بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ آپ تھوڑے دنوں میں دیکھیں گے کہ وہ ان کی جگہ وہ لے لےگی۔ جبکہ ہم وہیں کے وہیں رہیں گے۔؟کیونکہ ہم اس سلسلہ میں کو پیش رفت نہیں کر رہے ہیں اس لئے کہ اتباع ہماری فطرت ِ ثانیہ بن چکی ہے جوکہ غلامی کی علامت ہے۔ حالانکہ “یہ بھی قرآن نے ہم کو بتا یا ہوا ہے کہ ہم بار بار قوموں کو ادلتے بدلتے رہتے ہیں؟ اگر ایسا نہ کریں تو عبادت گاہوں میں ہمارا نام بھی نہ لیا جا ئے“ جبکہ ہمیں یہ بھی بتادیا ہے کہ اگر ہم چاہتے تو ساری دنیا ایک ہی مذہب پر ہوتی؟ مگر ہم نے یہ جو کچھ بنا یا ہے وہ اس لئیے ہے کہ اس کے بعد کے لئے ایک ابدی دنیا بھی ہم نے بنا رکھی ہے جو کہ کبھی فنا نہیں ہوگی۔ وہاں ہم نے دو صلے یہاں کے اعمال کی بنا پر رکھے ہوئے ہیں۔ ایک کا نام جنت رکھا ہے اور دوسری کا نام جہنم رکھاہے۔ اور ہم نے دونوں کو بھر نے کا ان سے وعدہ کیا ہوا ہے جو کہ انسانوں سے ان کے اچھے یا برے اعمالوں کی بنا پر بھری جا ئیں گی۔ ہم اس دن اس کا فیصلہ کریں گے جس کو یوم ِ قیامت یا محشر کہتے ہیں۔ہم سے بڑا منصف کون ہوسکتا ہے لہذا کسی کے ساتھ کوئی ظلم نہیں ہوگا ہم انصاف کریں گے اور ان کے اعمال دیکھ کر کسی کو جنت یا دوزخ کا حقدار بنا ئیں گے؟ کچھ بندے جن کو دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال ملے گا یعنی جنہوں نے دنیا میں اچھے کام کیئے ہونگے وہ جنت میں چلے جا ئیں گے وہاں کوئی ان کو کسی طرح کی مشقت برداشت نہیں کرنا ہوگی انہیں سب کچھ بلا مشقت کے انہیں ملے گا۔اور جنکو با ئیں ہاتھ میں نامہ اعمال ملیں گے۔ وہ منہ چھپاتے پھر رہے ہونگے اور ابدی طور پر جہنم میں جلیں گے اور ان کا عذاب کبھی ہلکا نہیں کیا جا ئے گا۔ کیونکہ سب کو ان دو نوں راستوں کے انجام سے باخبر کردیا گیا تھا۔ اور جونسا راستہ چاہیں ان کو اپنا من پسند راستہ منتخب کرنے کا اختیار دیدیا گیا تھا؟ اور یہ کلیہ بتادیا گیا تھا کہ جو کچھ کوئی کرتا ہے وہ اپنے لیئے کرتاہے۔ اللہ ہم سب کو سمجھ دے اور اس دن کی خفت سے بچا ئے(آمین)













