دین ،سیاست، تعلیم،فائزہ عباس

0
30

دین ،سیاست، تعلیم ،سب وہ ہتھیار ہیں جن سے انسانی ذہنوں کو ہم غلام بناتے ہیں۔ ۔ ۔ان کا درست استعمال آج تک ہوا ہی نہیں۔ ۔ ۔

سیاست ۔ ۔ ۔دراصل حکمت کو کہتے ہیں حکمت الہی پر۔ ۔ ۔ صداقت و معرفت کیساتھ عدل کے اصولوں کو اپنا کر جو راہ اختیار کی جائے ۔ ۔ ۔جو اصول و ضوابط اور پالیسیز تخلیق کی جائیں جو مستقبل اور حال دونوں کی ترقی، ترویج، اخلاقی،فکری، غرض ہر پہلو پر مکمل دور اندیشی اور درست فکر و تحقیق کیساتھ جو پلاننگ کی جائے اور اسے عمل میں لایا جائے اسے سیاست کہتے ہیں ۔ ۔ ۔

مگر آج کی سیاست کرپشن، تعفن، جہالت اور انسانی تنزلی کے ان اصولوں پر رائج ہے۔ ۔ ۔

کہ انسان میں یہ تک فکر محو ہو چکی کہ انکی تباہی کی اصل جڑ آج کے دور کی نام نہاد۔ ۔ ۔ سیاست ہے اور اس سیاست سے جڑے وہ منافق کردار جنہوں نے آج کے انسان کو محرومیوں اور جہالتوں کیساتھ بے حسی اور نفرت کی ان وادیوں میں دھکیل دیا ہے کہ جہاں کا باسی اپنے غلط کو درست اور اپنے نا حق کو حق اور اپنے ظلم جو نیکی بڑے فخر سے کہتے دکھائی دیتا ہے اور اس انسان کی ہر طاقت اسے بے مول حیوان کی صورت دنیا میں چرنے کو چھوڑ دیا ہے ۔ ۔ ۔

اسے سیاست کہتے ہیں آج کے دور کی جہاں انسان اپنے برباد کرنے والے کے آگے بچھا جاتا ہے اور اسکے اجاڑ نےکو سراہتا ہے ۔ ۔ ۔ اور اسکی بدکرداری کادفاع کرتا ہے اور اسکے ہر عیب کو اسکا گوہر اور ہوشیاری سمجھتا ہے ۔ ۔ ۔وہ اسقدر حقیر کر بیٹھا ہے خود کو کہ کبھی نگاہ جھکا کر اپنے اندر دیکھنے کی جرات کے لائق ہی نہیں ۔ ۔ ۔

کہ اگر وہ وہ خود میں غور کر لیتا تو بیدار ہوجاتا اور اسکی یہ بیداری اسکی آزادی کا سبب بن سکتی تھی مگر وہ بھوکے، محروم ، بے لباس ، بے ھدف انسان نما حیوان جو کہ مالک کے اشاروں پر فقط ناچنا جانتا ہے اور حالت تو یہ ہے کہ حقیقی مالک کی شناخت رکھتے ہوئے بھی عملی مالک و مختار خود کے لیے کسی ظالم و بد کردار کو بنا لیتا ہے ۔ ۔ ۔ اور یہ اسکی تنزلی کی بہت بڑی وجہ ہے ۔ ۔ ۔

جب تک روحیں اصل حاکم کی حاکمیت کو تسلیم کرنے کے بعد عملا مان نہیں لیں۔ ۔ ۔اسکے دفاع اور اسکے ساتھ کے لائق نہ ہو جائیں اور جب تلک معاشرے کی روح طاہر نہیں ہوگی ۔ ۔ ۔تب تلک نظام جو بھی لے آئیں یہ مسائل جنکے سامنے ہم بے بس و ناتواں کھڑے ہیں وہ حل نہیں ہو سکتے ۔ ۔ ۔

جیسے ہم گھر میں کوئی بھی پراڈکٹ خرید کر لاتے ہیں اور اس میں موجود کتابچہ کو اگر غور سے نہ پڑھیں اور نہ سمجھیں اور اسکو اپنی سمجھ کے اعتبار سے اس کتابچے میں دی گئی ہدایات کے برعکس استعمال کریں تو ممکن ہے مشین وقتہ استعمال ہو بھی جائے مگر اسکے اصل نتائج ہر گز ویسے نہ ہوں گے کہ جن مقاصد کے لیے وہ بنائی گئی تھی ۔ ۔ ۔

ایسے ہی انسان بھی جب تلک رب کے دیے گئے حکمت الہی کے قوانین ، اصولوں ، ضوابط کو اسکی اصل روح کے مطابق مکمل ویسے ہی جان، سمجھ , نہ لے جیسے کہ وہ بتائے سکھائے گئے تھے تو اسوقت تک ہم جتنا بھی شور مچالیں مسائل کا مکمل حل ممکن نہیں ۔ ۔ ۔

انسان بھی اس صدیبچے کی طرح ہے جسے کسی بھی ط سے روکدیا جائے تو اپنی طبیعت کی طغیانی کے باعث وہ کر لینا چاہتا ہے جو اسکے دل میں ہو بالکل اس بے مہار گھوڑے کی طرح جس پر سواری کی کوشش کی جائے تو وہ اپنے سوار کو گرادیتا ہے ۔ ۔ ۔

سو جب تک وہ طغیانی سجون، ٹھراو، اور طہارت سے متعارف و متاثر نہیں ہو گا تب تک وہ اس عکس میں نہیں ڈھل پائیگا جس کا تعین اسکے حقیقی مالک نے کر رکھا ہے ۔ ۔ ۔
سو جب تلک تعلیم کے حصول کا مقصد نورانیت، طہارت، اور حق تک پہنچنا نہیں ہو گا انسان بھی اخلاق و تہزیب کے اس اصل زیور کو نہیں پا سکیں گے ۔ ۔ ۔

جو علم بیدار نہ کرے ۔ ۔ ۔حاصل کرنے والے کی تشنگی اور سیکھنے کی چاہ میں اضافہ کی وجہ نہ بن سکے ۔ ۔ ۔اسکو اپنے مسائل کے حل کی طاقت نہ دے سکے ۔ ۔ ۔خود کی قیمت کی پہچان نہ کروا سکے ۔ ۔ ۔ خود کی طاقت کو خود پہ انحصار کر کے استعمال کی جرات و بصیرت نہ دے سکے ۔ ۔ ۔

جو امید کی کرنیں ۔ ۔ ۔بصیرت و شجاعت کے گوہر نہ پیدا کر پائے ۔ ۔ ۔جو انسان کی سوچ کو چلنا ، بھاگنا، پرکھنا، تجزیہ کرنا، حق شناسی ، نہ سکھا سکے۔ ۔ ۔

جو روٹی ، کپڑے مکان کی چاہت سے آزاد نہ کر پائے ۔ ۔ ۔جو زندگی کے اصل گوہر سے متعارف نہ کروا پائے ۔ ۔ ۔

جو رب سے نہ جوڑ پائے جو مخلوق سے ربط خالص نہ بنا سکے ۔ ۔ ۔

جو محبت نہ کی سیاست انسان کے وجود میں اجاگر نہ کر پائے ۔ ۔ ۔
جو اس لائق نہ کر سکے کہ نورانیت کی تجلیاں قلبوں، روثوں، فکروں پہ ہو سکیں ۔ ۔ ۔

جو طہارت و پاکیزگی و شفاف نہ کر سکے اسکے طالب کو ۔ ۔ ۔

جو ایک مغلوب کو غلبہ پانے والے اور بے خوف و شجاع انسان نہ بنا سکے ۔ ۔ ۔

جو بے حسی اور ظلمت کو نہ توڑ سکے ۔ ۔ ۔
جو انسان نما حیوان کو انسان نہ بنا پائے ۔ ۔ ۔
جو ایک انسان کو ہنر مند و زمہ دار نہ بنا سکے ۔ ۔ ۔

جو کم فہم اور سلجھے زہنوں جو اسکی فہم کی درست روش سے روشناس نہ کروا سکے ۔ ۔ ۔جو غیر متعصبانہ رویوں سے نجات نہ دلا سکے ۔ ۔ ۔
جو محبت و اخلاق و اخلاص کی پھلواریاں نہ کھلا سکیں ۔ ۔

وہ تعلیم اور وہ نصاب اور تعلیمات کیا ہوں گی ۔ ۔ ۔

غلامی اور روٹی کے حصول کی نیت پہ حاصل کی گئی تعلیم غلامی اور روٹی ہی دے سکتی ہے اس سے ابھر کر کچھ دینے کی اہلییت نہیں رہتی اسکی اس لیے جب ہر شے کو اسکے درست استعمال کی نیت سے درست انداز اور غیر متعصبانہ روش کے ساتھ کھلے ذہن و دل کیساتھ استعمال نہیں کیا جائے تب تک محض نام دینے سے اس شے کی روح تک نہیں پہنچ سکیں گے بھلے وہ سیاست یو، علم ہو کہ دین تب تک کہ وہ ہتھیار ہی رہیں گے جن کا استعمال دور اندیشی، نورانیت، حکمت الہی کی بجائے ظلمت, گمراہی، محرومی و تباہی ہی رہیگا اب بھلے پکڑنے والا ناک کو جس سمت سے بھی پکڑ لے اور لکیر کو جتنا بھی پیٹ لے وہ سب بے سود اور محض ہتھیار اور اوزار کے سوا کچھ نہیں جو کہ ایک پیشہ ور کے ہاتھ میں اپنے پیشے کے دفاع اور تجارتی فائدے کے سوا کچھ نہیں اب انسان سمجھے یا نہیں مانے یا نہیں ۔ ۔ ۔
جسبھی شے کا جس انداز اور نیت سے کیا جائے گا وہ ویسے ہی نتائج دےگی اب اس پر کسی بھی طرح کا نام چسپاں کر لیں کوئی فرق نہیں پڑتا اس سے ۔ ۔ ۔

فائزہ عباس

SHARE

LEAVE A REPLY