اکائی میں سکون ہو گا تودنیا میں سکون ہو گا۔،طاہرہ ؔمسعود

1
117

آج کل نوجوان بچے بچیاں شادی کے بعد اپنے معمولات میں ایک دوسرے کی دخل ندازی سہنے کو تیار نہیں۔ تو پھر وہ سسرال یا سسرالیوں کو کیسے برداشت کریں گے؟ فی زمانہ شادی کے بندھن کو سرے سے غیر ضروری سمجھاجانے لگا ہے۔ تو سسرال کا تصوّر ہی کیا؟ اگر کوئی شادی کرہی بیٹھے توسسرال کو تو ایک دھبہ ایک غیر ضروری تعلق ایک بوجھ ہی سمجھا جاتا ہے شرح طلاق بھی بڑھ گئی ہے۔۔ لیکن ابھی بھی ہمارے ہاں شادی اور جوائینٹ فیملی کا رواج باقی ہے۔اس لیے اس بات کی بہت ضرورت ہے کہ رشتوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے۔ زمانہ بے شک بدل گیا ہے۔۔ لیکن اس کو بدلنےو الا انسان ہی ہے۔ زمانہ انسانوں سے بنتا ہے۔ اس لیے ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ انسانوں کو دوبارہ جوڑیں ۔ انسان اور انسانیت کا رابطہ بحال کیا جائے۔ یہ سونے چاندی جیسی روایات دوبارہ زندہ کی جائیں۔ اچھا کام گھرسے ہی شروع کیا جاتا ہے۔ تو کیوں نہ اس کا آغاز ہم آج ہی اپنے گھر سے کر دیں۔

بہو اور سسرال کا تعلق نہایت مضبوط لیکن ساتھ ہی بہت نازک ہوتا ہے۔ بہو خاندان کو بڑھانے کے لیے آتی ہے۔ یعنی ہر خاندان کی بقا ایک عورت ایک بہو کی مرہون منت ہوتی ہے۔ جو اپنے خون پسینے سے ان کی نسل کی آبیاری کرتی ہے۔لوگ باگ شاید اسی لیے بیٹی کی پیدائیش پہ خوش نہیں ہوتے کہ وہ کسی اور خاندان کی بڑھوتی کا موجب ہوتی ہے۔ حالانکہ وہ خود بھی بہو لے کر آتے ہیں۔ یہی قانونِ قدرت ہے۔
سسرال والے جب بہولاتے ہیں تو اپنے بیٹے کے پیار کی وجہ سے شروع میں اس کوسر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں بہت سارے لاڈا ور چاؤ کرتے ہیں۔ قیمتی لباس اور زیورات سے لاد دیتے ہیں۔ اور کچھ عرصہ بعد توقع کرتے ہیں کہ وہ ان کے گھر میں سب کی طرح شامل ہو کردرونِ خانہ گھر کی ذمہ داری بانٹے۔ یہ وقت بہت اہم ہوتا ہے۔ بہو پہ ساری ذمہ داری ڈال دینا اس کو بوکھلا دیتا ہے۔ بہو کو عقلِ کل سمجھ کر ا سے کسی کوتاہی یا غلطی کا مارجن نہ دینا بہت غلطی ہے۔ اسی طرح بہو کو یہ علم ہونا چاہیے کہ اگر کسی بات پر کو ئی بڑا ٹوک دیتا ہے یا یا ہلکا پھلکا ڈانٹ دیتا ہے تو اس کو انا کا مسئلہ نہ بنائے۔
بہو جب سسرال میں ساتھ رہتی ہے توباوجود اس کے کہ اکثرو بیشتر دونوں طرف سے اچھا سلوک ہوتا ہے، لیکن کبھی کبھار کمزورلمحوں میں دونوں طرف سے غلطی یا زیادتی بھی ہو جاتی ہے۔ یہ ایک نارمل بات ہے۔ بشری تقاضہ ہے۔کہاوت ہے کہ جہاں دو برتن ہوں تو وہ ٹکراتے ہیں۔ لہذا احساس ہونے پرایک دوسرے کا دل صاف کر کے اپنا دل بھی صاف کر لیا جائے تو معاملہ کبھی بڑھتا نہیں۔ کہتے ہیں کہ خون پانی سے گاڑھا ہوتا ہے۔ یہ خون کےیعنی رحمی رشتے ہیں ان کو کاٹنا اللہ کے رحم سے کاٹ دیتا ہے۔ لہذا ان رشتوں کو کانچ کی طرح سنھبالنا پڑتا ہے۔اگر کبھی خدانخواستہ کوئی بدمزگی ہو جائے تو اللہ کی خاطر اور گھر کے سکون کی خاطر اس کودرگزر کردینا چاہیے۔ اور اس بات کو بشری کمزوری کی جگہ سوچھی سمجھی سازش نہیں سمجھنا چاہیے۔
ہمارے ہاں ایک رواج ہے کہ اگر کبھی بہو کو دیکھ بھال یا تیمار داری کی ضرورت ہو تو اسے مائیکے بھیج دیا جاتا ہے ۔ جس سے یہ پیغام ملتا ہے کہ اصل ہمدرد تو تمہارے وہی ہیں اور یہ کہ جب ہماری خدمت کرنے کے قابل ہو تو آجانا۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ بہو آپ کے دکھ سکھ کی ساتھی بنے تو اس کا بھی حق ہے کہ آ پ اس کی تکلیف کو بھی بانٹیں۔ اس کو گھر میں دوسرے درجے کا شہری مت بنائیں۔ لڑکی کے والدین پیار محبت اور قربانیان دے کر ایک بچی کو پالس پوس کر اپنے دل کا ٹکڑا آپ کو دے دیتے ہیں۔ وہ پہلے ہی دل پر چوت کھائے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان کومزید دکھی نہ کریں۔ اور لڑکیوں کو بھی چاہیے کہ والدین کو اپنی طرف سے کوئی دکھ کی بات حتی الوسع نہ بتائیں۔
بہووں کو بعض اوقات چھوٹی چھوٹی بات پر والدین کے کمیاں اور خامیاں گنوائی جاتی ہیں ، طعنے دیے جاتے ہیں۔ یہ ایک نہایت غلط رویہ ّہے۔ اُس کے والدین کو ذلیل کر کے آپ کبھی اپنی عزت نہیں کروا سکتے۔ یاد رکھیں کہ لڑکی جب اپنے والدین ا ور بہن بھائیوں سے دور ہوتی ہے تو دراصل وہ ان سے اور قریب ہوجاتی ہے۔ وہ زندگی کے ہر لمحہ میں ان رشتوں کی یاد میں خود کو سموئے رکھتی ہے۔ان کی برائی کرنا اس کے دل میں آپ کے لیے برائی ڈال دے گی۔ ان کو ان سے ملنے یان بات کرنے کی سہولت دیں۔ کہ وہ دل کھول کر ان سے مل سکے۔ اور بہو کو بھی چاہیے کہ والدین کی وجہ سے اس کے اپنے گھر کی معمولات میں فرق نہ پڑے۔ گھر کی صفائی، کھانا وغیرہ وقت پر ہو۔
بیٹوں اور بہوؤں کو چاہیے کہ یاد رکھیں کہ ماں باپ کا سب سے بڑا خزانہ ان کا بیٹا اور ا سکی نسل ہوتی ہے۔ خاص طور پر بڑا بیٹا۔ ان کے بغیر وہ زندہ درگور ہو جاتے ہیں۔ بہو اور سسرال کے درمیان بیٹا ایک پل کی مانند ہوتا ہے۔ اس پُل کو مظبوط رہنا چاہیے۔ ہوتا یہ ہے کہ کھینچا تانی میں یہ کمزور ہو جاتاہے اور پھر وہ ایک جانب جھک جاتا ہے۔ کبھی والدین کی طرف اور کبھی مکمل بیوی کی طرف۔ خاندان میں ایک نہ پُر ہونےو الی دراڑ پڑ جاتی ہے۔ کبھی والدین رل جاتے ہیں اور کبھی بال بچے۔ اور کبھی دونوں ہی۔ اور بیٹا کسی اور طرف نکل جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر دونوں اطراف کے حقوق بیان کر دیے ہیں۔ حدیث ہے کہ بیٹے پر سب سے زیادہ حق اس کی ماں (باپ) کا ہے اور بیوی پر سب سے زیادہ حق اس کے شوہرکا۔ (بعض لوگ کہتے ہیں حقوق میں معاملے میں زیادہ ذکر والدہ کا ہی کیوں ہوتا ہے۔ باپ کا ذکر کیوں نہیں۔ شاید اس لیے کہ اولاداگر والدہ کےساتھ اچھی ہے تو والد کے ساتھ بھی ہو گی۔ حدیث ہے کہ والد اولاد کے لیے جنت کا دروازہ ہے۔)
خاندانی اکائی کی اہمیت ہر مذہب میں بیان ہوئی ہے۔ بچوں پر والدین کے ھقوق بھی ہر مذہب میں بیان ہوئے ہیں۔
اگر بہو ساتھ رہتی ہے توبہو کو گھر کا کچھ پورشن ایساملنا چاہیے کہ جس پہ ا سکی پوری دسترس ہو۔ خواہ کچن اکٹھا ہو لیکن ان کی پرائیویسی ہونی چاہیے۔ اس طرح وہ اپنے بچوں کی تربیت بھی بہتر طور پر کر سکتی ہے۔حضور ﷺ کے زمانے میں ہر شادی شدہ بچے کو ایک الگ حجرہ دیا جاتا تھا۔ خواہ صحن ایک ہی ہوتا۔
بہووں کو اپنے لیے وقت اور سپیس دینی چاہیے۔ وہ اپنے والدین سےکیابات کرتی ہیں کیا دیتی لیتی ہیں ۔ اس میں تانک جھانک اور دخل اندازی مناسب نہیں۔۔اگر آپ کا بیٹا آپ کے حقوق پورے کر رہا ہے تو آپ یہ بات ان دونوں پر چھوڑ دیں ۔او رمائیکے آتے جاتے وقت اس پر کسٹم آفیسر نہ بنیں کہ کیا لائی اور کیا لے جارہی ہو۔ بلکہ اپنی طرف سے بھی کوئی تحفہ اگر بھجوا سکتے ہیں تو بھجوا دیں۔
بڑے افسوس کی ا ور چھوٹی بات ہے لیکن بعض لوگ اپنی بہو کے کھانے پینے پر نظر رکھتے ہیں ا ور طعنہ دیتے ہیں۔ جبکہ بہو کا کھایا پیا آپ ہی کی نسل کے کام آتا ہے۔ اگرو ہ پہنتی اوڑھتی اچھا ہے تو بھی آپ ہی کے خاندان کی عزت بنتی ہے۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ چیزیں انسان کے لیے ہوتی ہیں نہ کہ انسان چیزوں کےلیے۔ اگر کوئی چیز دے کر کسی انسان کو خوش کیا جا سکتا ہے تو ضرور کریں۔
گھر معاشرے کی وہ اِکائی ہے کہ جو جمع ہو کر معاشرہ بنتا ہے۔ یہی معاشرے گاؤں قصبے شہر اور ملک بنتےہیں۔دنیا انہی ملکوں کا مجموعہ ہے۔ اگر اس اکائی میں سکون ہو گا تودنیا میں سکون ہو گا۔
طاہرہ ؔمسعود۔ کینیڈا

SHARE

1 COMMENT

LEAVE A REPLY