محبت احساس کا آنچل ہے، فائزہ عباس

0
3632

محبت ۔ ۔ ۔خوبصورت کو نہیں بلکہ اس ۔ ۔
مہک کو پہچانتی ہے جو کہیں نہ کہیں جیسے اس روح کا مسکن ہوں۔ ۔ ۔ جس سے محبت ہوتی ہے۔ ۔ ۔محبت فقط آشنائی ہے، روشناس کراتی ہے اس قلب و روح سے جو کہیں نہ کہیں ، کسی بھی وجہ سے اس قلب و روح سے جڑا ہوتا ہے۔ ۔ ۔
محبت احساس کی وہ کرنیں ہیں جو اپنے آشنا روح کو بنا دیکھے , بنا بولے بھی پہچان کرا دیتی ہے, جو انسان کو جیسے متوجہ کر دیتی ہے اس ایک روح کی جانب جو کہیں نہ کہیں اس سے بندھا ہوتا ہے، اور وہ کڑیاں تلاش کرنے میں زمانے بیت جاتے ہیں جو وجہ تھے ،

محبت پانا ہی اگر ہوتی تو کوئی پانے والا پھر قحط سالی کا شکار نہیں ٹھہرتا،
محبت وہ جادوئی محل ہے جسکے در پہ پہنچ کہ انسان وہ نہیں رہتا جو کبھی تھا بلکہ اس سے جا ملتا ہے جو تھا۔ ۔ ۔پر نہیں جانتا تھا کہ وہ ۔ ۔ ۔وہ تھا، اور جب وہ اس سے متعارف کرواتا ہے کہ وہ جو جو بھی تھا وہ وہ پانے کی سعی کرنے لگے ۔ ۔ ۔

اس جادوئی محل کی سحر انگیزی اس انسان کی کائنات کے سبھی موسموں کو بدل ڈالتیں ہے اسکی شامیں ، اس کے سویرے ، اسکی سبھی رتیں ان سب کو بامعنی بنا کر اسے کھینچ لاتی ہے اس منزل پر جہاں سے بالکل الگ سفر شروع ہوتا ہے جسکی منزل خود کو مکمل دان رکھ کہ ہی ممکن ہو پاتی ہے۔ ۔ ۔ ۔

محبت وہ استعارہ ہے جسکی چمک آنکھوں سے نور کیجاتی ہے اور قلب وہ روح پر چھٹی سبھی تاریکیاں مٹانے ڈالتی ہے۔ ۔ ۔

محبت وہ راحت اور آسودگی ہے جو جلتے، تڑپتے، دہکتے ، برستے وجود پر اپنے احساس کے مرہم کی چند بوندیں شامل کر دیتی ہے ، جب وہ درد، وہ جلن، وہ گھٹن وہ درد ختم نہیں ہوتا بس۔ ۔ ۔
چند بوندوں کے باعث وہ درد سہنے لائق بنا دیتی ہے ۔ ۔ ۔ وہ جو آٹھ پانے سے قاصر تھے ، درد سے بوجھل قدموں کو درد و ازیت کی انتہاؤں کے باوجود ان کے قدموں کو تھکنے سے بچا لیتی ہے،

خون روتی آنکھوں کے سمندر کو وہ ساحل دیتی ہے جہاں وہ بے تحاشہ ٹکرا ٹکرا کر اپنا درد بہا دینے لائق بنا دیتی ہے۔ ۔ ۔

محبت وہ قوت مدافعت ہے جو دوا کو ۔ ۔ ۔
دعا اور دعا کو پراثر بنا دیتی ہے۔ ۔ ۔

محبت وہ آنچل ہے احساس کا جسے اوڑھ کر زخمی روح اپنے کرب کو سہلا دیتی ہے،

محبت رنگ و بو نہیں ہے یہ تو احساس کی وہ انچ ہے جو ہر ازیت و درد کو کیفیت کو راحت کی اس کھلتی ہوا سا تروتازہ بنا دیتی ہے۔ ۔ ۔

محبت اپنے اپنے جزیرے پہ، زندگی کو زندگی کے افق سے ملا دیتی ہے۔ ۔ ۔ ۔جہاں سے سفر شروع ہوتا ہے مگر اختتام پزیرنہیں ہوتا۔ ۔ ۔

فائزہ عباس

SHARE

LEAVE A REPLY