افغانستان کی نئی صورتحال میں ہماری ذمہ داریاں،انور عباس انور

0
633

ہمسایہ ملک افغانستا سے خیر کی خبریں نہیں آ رہی ہیں ہر طلوع آفتاب کے پریشان کر دینے والی اطلاعات سننے کو مل رہی ہیں ۔یقیننا کابل اور اسلام آباد کی انتظامیہ اس بات سے آگاہ ہونگے کہہ کابل سے واشنگٹن اور اس کی اتحادی افواج کے انخلا کے بعد کس قسم کی صورتحال و نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کابل اور اسلام آباد کابل سے غیر ملکی افواج کے انخلاء سے انکے فرائض و ذمہ داریاں کیا ہونگی ؟ اسکے مطابق ہی دونوں اپنی تیاریاں کررہے ہوںگے۔
واشنگٹن کا سارا زور اسلام آباد پر ہے کہ وہ اسے اطمینان دلائے کہ مجھے تعجب اس بات کا ہے کہ واشنگٹن نے یہ کیسے سوچ لیا کہ اسلام آباد کابل انتظامیہ کے خلاف طالبان کو باز رکھ سکتا ہے اور اسکے جانے کے بعد کابل انتظامیہ کے لیے مشکلات پیدا نہیں ہونگی۔ اول دیکھا جائے تو واشنٹن کا یہ مطالبہ ہی احمقانہ ہے۔
واشنگنٹن سے کوئی پوچھے کہ آپ اپنے اتحادیوں کی مکمل مدد و نصرت کے ساتھ دو دہائیوں میں اس بات کو یقینی نہیں بنائے پائے کہ اب کابل انتطامیہ تنہا اپنا تحفظ کرنے کے قابل ہو گی ہے تو اکیلا پاکستان کیسے کابل انتظامیہ کے خلاف بلند ہونے والی آوازوں کو روکنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ واشنگٹن کو پنجابی کی مشہور کہاوت ” نیانا گل کرے تے سیانا قیاس کرے ” پر غور کرکے اپنے مطالبے پر نظرثانی کرنی چاہئیے ۔ ان سطور کے لکھتے ہوئے خبر آئی ہے کہ پینٹاگون نے افغانستان حوالے کہا ہے کہ فریقین ایسے اقدامات نہ کریں کہ کشیدگی بڑھے۔
“اطلاعات ٹو یہ بھی ہیں کہ امریکی صدر نے یہاں تک کہہ دیا ہےکہ
ہمیں افغانستان سے امریکی افواج واپس نکالنے پر پچھتاوا نہیں”

کابل سے آنے والی اطلاعات کے مطابق کابل کی اشرف غنی انتطامیہ طالبان کے ہاتھوں زچ ہو رہی ہے اور اطلاعات کے مظابق طالبان کی پیش قدمی بڑھتی جا رہی ہے اور طالبان نے پل خمری اور فراہ پر بھی قبضہ کر لیا ہے اور ماہرین افغان وار کا کہنا ہے کہ اگر طالبان مزار شریف پر بھی کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں تو دنیا کو یقین ہو جائے گا کہ کابل انتظامیہ کی گرفت کمزور ہےاور اطلاعات تو یہ بھی بتاتی ہیں کہ کابل انتطامیہ کی فورسز میں بددلی پھیل رہی ہے اور شاہین فورس کے افسران ” چھٹیوں ” پر جانے کی درخواستیں دینے لگے ہیں۔
تیسری جانب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس جو بلایا ہی افغانستان کی صورتحال پر غور کے لیے تھا لیکن پاکستان کو اس میں پاکستان کو بلانا گوارا نہیں کیا گیا اور یہ الارمنگ صورتحال ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی اس صورتحال ” پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ انڈیا نے افغانستان کے معاملے پر سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان کی اپنا موقف بیان کرنے کی درخواست رد کر کے ’ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کیا‘ جبکہ عالمی برادری ’افغانستان میں دوسروں کی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈال رہی ہے‘۔ کی”
کیا ہمارے وزیر خارجہ کا اتنا کہنا کافی ہے کہ سلامتی کونسل کو بریفنگ دینے کی ہماری درخواست قبول نہیں کی گئی؟ کیا اسلام آباد کو اپنی پآلیسی پر نظرثانی نیہں کرنی چاہئیے؟
پاکستانی کو اندرونی سطح پر اور بیرونی محاذ پر جو خطرات اور چلینجز درپیش ہیں انکا تقاضا ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد اتحاد پیدا کریں اور احتلافات کو ختم کرکے دشمنوں کے ناپاک عزائم خاک میں ملانے چاہئیں اور خارجہ پالیسی کی ان کمزوریوں کو دور کریں جو ہمارے دوست ممالک کو ہم سے دور کرنے کا موجب بن رہی ہیں ۔
آگر ہم انا کا مسلہ نہ بنائیں تو ہمارے دفتر خارجہ کو بتانا چاہیئے کہ اسرائیل اور بھارت سے متعلق ہماری پآلیسی سے ہمارے دوست ممالک کو کیا مسائل در پیش ہیں؟
ان سطور کے لکھتے ہوئے خبریں آئی ہیں کہ افغان نائب صدر ملک سے فرار ہوگئے ہیں ۔ کابل انتظامیہ کے کئی جنگجوں کے ہتھیار ڈالنے کی خبریں بھی شائع ہوئی ہیں اور درجن سے زائد صوبوں پر طالبان کی عملداری ہے۔ ان حالات میں جو منظرنامہ بن رہا ہے وہ یہ ہے کہ دو دہائیوں میں امریکی افواج اور اسکی ساتھی فورسز نے جو ڈھانچہ افغان عوام کو دیا تھا وہ امریکیوں کے جاتے ہی دھڑام سے زمین بوس ہوگیا ہے ہماری تاریخ گواہ ہے کہ یہاں جتنے بھی آمر آئے انکی رخصتی کے ساتھ ہی انکے نظام بھی رخصت پوگئے ۔
اس تمآم صورتحال پر امریکی اور اسکے اتحادی کیا سوچ رہے ہیں اس راز سے پردہ چند ہفتوں میں سامنے آ جائے گا۔

SHARE

LEAVE A REPLY