سب اعمال و افعال خود ہمارے وجود میں محفوظ ہوتے ہیں

0
1180

ہمارے سوچ بھلے ہی کتنی سجی سنوری گہری پختہ معیاری اور منطقی ہو ، ہم جذباتی طور پر کتنے ہی ذہین ہوں ، ہم کتنا ہی علمی مسائل پر مہارت رکھتے ہوں ، ہماری فکر میں عقل کی بنیادیں کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہوں ، ہماری سوچ معاشرے ، انسانیت ، اور اس دنیا کیلئے دنیا میں موجود ہر انسان کی سوچ سے زیادہ مفید اور اعلیٰ ہی کیوں نہ ہو۔ ہمیں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
۔
کیونکہ ہم اصل میں کیا ہیں ، کیسی شخصیت رکھتے ہیں ، باطنی اعتبار سے کیسے انسان ہیں ، انسانیت کے کس مقام و مرتبے پر ہیں ، اس دنیا کیلئے دل میں کس قدر درد اور اخلاص رکھتے ہیں، یہ سب ہماری سوچ طے نہیں کرتی ، نہ ہی ہماری سوچ ہمیں کسی اچھے یا برے ڈھانچے میں براہ راست ڈھالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
۔
یہ ایکشن ( عمل ) ہے جو ہماری شخصیت کو ڈیفائن کرتا ہے ، اس سے کسی سانچے میں ڈھالتا ہے ، جو یہ طے کرتا ہے کہ اس دنیا کیلئے ہماری کیا قیمت و اہمیت ہے ، ہمارا ایکشن ( عمل ) ہی یہ طے کرتا ہے کہ ہم کیسے انسان ہیں اچھے ہیں یا برے ہیں ، عظیم ہیں یا پست ہیں ، عقلمند ہیں یا احمق ہیں ، بھروسے کے لائق ہیں یا فریب کار ہیں ، محبت کے لائق ہیں یا نفرت کے۔
اور سب سے اہم یہ کہ ہم مستقبل میں کیا ہوں گے۔
۔
مستقبل میں کیا ہونے سے مراد یہ ہے کہ چونکہ ہمارا ہر چھوٹا بڑا جانا انجانا عمل ہماری ذات ، ہمارے وجود ، ہمارے قلب و روح نفسیات اور جذبات پر گہری چھاپ چھوڑتا ہے ، ہر عمل اس عمل کے مطابق ہمارے وجود میں محفوظ ہوتا ہے ، ہمارے باطن میں گھر کرتا جاتا ہے ، خوراک کی طرح جو خون کی صورت ہمارے جسم میں ہر دم نئے نئے سیل بناتا رہتا ہے ، جو ہمارا جسم آگے بڑھاتا ہے اور وہ پھلتا پھولتا ، بڑھتا گھٹتا رہتا ، اور خاص فیگر اور شیپ میں مسلسل تبدیل ہوتا رہتا ہے۔

۔
ہر عمل ہمارے لاشعور subconcious mind کی کوڈنگ coding اور پراگرامگ programming کرتا جاتا ہے ، ہمارا لاشعور ہمارے ہر عمل کو غور سے دیکھتا اور اسے مستقبل کیلئے اپنے اندر محفوظ کرتا ہے ، اور مستقبل میں اسی کے زریعے ہمارے ہر فیصلے ، انتخاب ، عمل ، کردار ، نیت وغیرہ پر اثر انداز ہوتا ہے۔ لاشعور سہی غلط میں فرق نہیں کر سکتا وہ بس یہ دیکھتا ہے کہ اس انسان نے یہ کام کیا ہے پس یہ یہی چاہتا ہے اسی لیے اس کو اسی سانچے کے مطابق ڈالنا ہے۔ اور سب سے خطرناک اور فکر کی بات تو یہ ہے کہ ہم جو فیصلے ، انتخاب ، کام یا حتیٰ کہ جو کچھ بھی کرتے ہیں ، اس میں 99 فیصد کردار لاشعور کا ہے ، ہمارے شعور کا حصہ اس میں مشکل سے دس فیصد بھی نہیں ہے۔
۔
ہمیں دس لوگوں میں سے ایک ہی انسان کیوں پسند آتا ہے؟ ہم میٹھی چیزیں ہی کیوں پسند کرتے ہیں؟ ہم اس کے بجائے اُس سے کیوں محبت ہو جاتی ہے؟ ہم کسی انسان سے نفرت کیوں ہو جاتی ہے جبکہ باقی اسے پسند کرتے ہیں؟ ہمیں گورے کے بجائے سانولا رنگ کے لوگ کیوں پسند ہے؟ ہم پیچیدہ علمی مسائل کے خم و پیچ سے زیادہ تخیلاتی اور افسانوی ادب کیوں پسند ہے؟ ہمیں سنجیدگی کے بجائے مذاحیہ گفتگو ، شوز اور کانٹینٹ ہی کیوں پسند ہے؟ ہمیں کسی سائنٹسٹ کے بجائے کوئی بزنس مین کیوں پسند آتا ہے؟ ہمیں غمزدہ میوزک کے بجائے رامنٹک میوزک یا رومانٹک کے بجائے کلاسیک میوزک یا کلاسیک کے بجائے پارٹی میوزک ہی کیوں پسند آتا ہے؟ ہمارا مزاج تحمل کے بجائے سخت کرخت کیوں ہے؟
۔
ہمارے پاس اس کا جواب بس یہی ہے کہ ہمیں نہیں معلوم ، یہ بس ایسے ہی ہے ، اس کی کوئی وجہ نہیں ہے ، یہ بس فسٹ سائٹ لو ہے ، یہ بس یوں ہی ہے ، یہ بس اچانک ہو گیا ، یہ بس اس مومنٹ کا اثر تھا۔ جبکہ یہ ایسا نہیں ہے یہ سب اچھی طرح سے کالکیلوٹیڈ calculated اور بہت خوبی سے نپے تلے اور مکمل ارادے اور اختیار سے چُنے گئ پسندیدہ چیزیں ہیں۔ لیکن ہمارے لاشعور نے تو انہیں نہیں چُنا؟ نہ ہی ہم نے انہیں چنتے ہوئے کچھ سوچا بلکہ اچانک سے ہی پسند آگیا۔ ہم نے تو کسی چیز کو چھانا پرکھا ہی نہیں ، نہ ہی سوچ سمجھ کر انہیں پسند کیا بس یہ سب پسند آگئے۔
۔
نہیں ایسا نہیں ہے ، یہ بس یوں ہی پسند نہیں آئے ، انہیں آپ کے لاشعور نے پسند کیا ہے ، اور لاشعور کو اس قسم کے پسند کی انسٹرکشنز آپ اپنی ساری زندگی ہر عمل سے وقتاَ۔ فوقتاََ دیتے آئے ہیں ، ہماری ہر پسند ناپسند ، رحجانات ، خواہشات ، نفرتیں اور محبتیں ، انتخاب ، نیتیں اور مزاج وغیرہ ہماری ساری زندگی کی لاشعور کو عمل action کے ترو دی گئی انسٹرکشن instruction کا نتیجہ ہیں۔
۔
اس لیے ہماری اصل اور حقیقی شخصیت ہماری سوچ نہیں بتاتی ، کیونکہ برے سے برا بھی اچھی سوچ رکھ سکتا ہے ، اور اچھی باتیں تو دیواروں پر بھی لکھی ہوتی ہیں ، بلکہ یہ ہماری پسند نا پسند ، رحجانات ، خواہشات ، حمایتیں وغیرہ ہیں جو یہ طے کرتے ہیں کہ ہم اصل میں کیا اور کیسے ہیں ، اور یہ سب ہماری زندگی میں کیے گئے ہر عمل کی ہمارے لاشعور پر چھاپ ہیں ، جو ہماری ذات کے بلڈنگ بلاکس کی طرح کام کرتا ہے۔ اور بےشک سوچ عمل کی بنیاد ہے لیکن خود سوچ کی کنسٹرکشن بھی عمل کا اثر ہے۔
۔
جب کہا جاتا ہے کہ انسان کا سب کچھ حتیٰ کہ زرہ برابر کا عمل بھی محفوظ ہو رہا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کوئی علیحدہ کتاب یا رجسٹر ہے ، بلکہ اس کا مطلب یہی ہے کہ یہ سب اعمال و افعال خود ہمارے وجود میں محفوظ ہوتے ہیں۔
۔
جسٹن سنو….

انتخاب….

فائزہ عباس

SHARE

LEAVE A REPLY