ریاست سے خوفزدگی اور حکومتوں سے نوجوان نسل کی مایوسی کیوں,انور زیب

0
1052

پاکستان کی آبادی کا اس وقت 68 فیصد سوال، تقاضہ اور طلب کرنے والے نوجوان نسل پر مشتمل ہے ـ ـ ـ سالانہ دو ملیئن سے زیادہ نوجوان روزگار کی طلب میں جاب مارکیٹ کا رخ کرتے ہیں ـ جس کے لیے شرح نمو سات سے آٹھ فیصد تک ہونی چاہیے تاکہ ان کو کھپایا جاسکے ـ لیکن 35 . شرح نمو و قرض اور خساروں میں گھری ہوئ معیشت و معاشی اور مالی پالیسی سازوں کی ناقص منصوبہ سازی اور ترجیحات اس قابل نہیں کہ ان کو روز گار دلائ جاسکے ـ
سنجیدہ معیشت دانوں کے مطابق اس وقت بے روزگاری کا لیول گیارہ سے بارہ فیصد ہے ـ دو سال سے ریاست اور حکومت بے روزگاری اعداد و شمار دینے سے گریزاں ہیں ـ بیورو آف ایمیگریشن اور اور سیز ایمپلائمنٹ کے حالیہ رپورٹ کے مطابق 2002 میں 8،32،339 اور 2023 میں گزشتہ پانچ مہینوں کے دوران 3،15،787 پاکستانی نوجوان ملک سے ہجرت کرگئے ہیں ـ یہ ہماری ابادی کا وہ قیمتی ہنرمند حصہ ہے جس سے ہم محروم ہوگئے ہیں ـ جس میں وہ لاکھوں غیر قانونی طور پر جانے والے شامل نہیں جو جان جوکھوں میں ڈال کر اپنا اور اپنے خاندان والوں کا پیٹ پالنے کے لیے جاچکے ہیں ـ جن میں کئ اپنے جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ـ جس کی حالیہ مثال بحر روم کے یونانی حدود میں تقریباً تین سو سات نوجوان جانوں سے گئے ـ جس کی ذمہ داری حکومت وقت اور ریاست پر آتی ہے ـ جن کی غلط معاشی اور مالیاتی پالیسیوں کی وجہ سے ایک طرف مسلسل بے لگام افراط زر و مہنگائ کا نہ ختم ہونے والا طوفان ہے. جس نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنادی ہے اور دوسری طرف سیاسی غیر یقینی اور عدم استحکام نے ہر کسی کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ جتنا جلدی ہوسکے پاکستان سے بھاگ جائے ـکیونکہ ریاست اورـاستحصالی مافیا کا گدھ نما کردار عام آدمی پر اب عیاں ہوچکا ہے ـ کہ ریاست صرف محدود چند افراد، خاندانوں اور مخصوص مفادات ہی کو مراعات اور تحفظ دینے کا حقدار سمجھتی ہے ـ جس کا مظاہرہ اورـاندازہ سینٹ میں پیش کیے گئے قرارداد اور سالانہ بجٹ کی عوام دشمن اقدامات سے کیا جاسکتا ہے ـ
حکومت اور ریاست کے پاس عام آدمی کو دینے کے لیے مہنگائ، بے روزگاری اور اذیت دینے کے سوا کچھ نہیں ـ اب یہ فیصلہ عام آدمی نے کرنا ہے کہ وہ یا تو جو کچھ حکمرانوں نے ان کے تقدیر میں لکھا اس کو خدا کا حکم مان کر بخوشی قبول کرے ـ یا پھر کسی معجزے کا انتظار کرے ـ اور اگر نہیں تو پھر بحیثیت طبقہ عوامی جدوجہد کا راستہ اختیار کرکے اپنی منزل کا تعین خود کرے ـ

تحریر, کامریڈ انور زیب

SHARE

LEAVE A REPLY