ابھی یا پھر کبھی نہیں۔از۔۔۔شمس جیلانی

0
63

آجکل پاکستان کے حالات بڑے عجیب ہیں۔ ہر دماغ میں سیکڑوں وسوسے جنم لے رہے ہیں کہ یہ ہو کیا رہاہے۔یہ اس لیئے کہ وہ وزیر اعظم جو ہمیشہ سے امیر المونیں اور اس کی آڑمیں بادشاہی کے خواب پہلے ہی دیکھ رہے تھے۔ اور سونے پر سہاگہ یہ کہ انہیں سعودی حمرانوں کی بھی دس سالہ صحبت اور تربیت حاصل ہوگئی۔ وہ کیوں اتنے عدالتوں کے ساتھ تعاون میں بڑھ گئے کہ وہ ان کو اور انکے خاندان کو جب اور جہاں بلاتے رہے بلا چون وچراں وہ حاضر ہوتے رہے کہیں بھی انہوں نے کوئی الجھن پیدا نہیں کی ؟ جبکہ پاکستان میں ایسا نہیں ہوتا وہاں وہ وہ پینترے کھیلے جاتے ہیں کہ جس کی وجہ سے معمولی مقدمہ بھی دادا کی زندگی میں شروع ہوتا ہے، اور بعض اوقات پوتوں تک بھی ختم نہیں ہوتا۔ اس لیے وزیر اعظم کااس قدر تعاون بہت ہی معنی خیز ہے؟

پہلے تو لوگ یہ سمجھ کر چپ رہے کہ مسلمانوں کاا یمان ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ جب چاہے کسی کوہدایت دیدے شاید وہ پسیج گئے ہوں اورا ن چودہ لاشوں پر پشیمان ہوں جو ماڈل ٹاؤن میں بے گناہ گرائی گئیں ۔ اس سے شاید دیر میں سہی مگر ان ضمیر جاگ گیا اور نفس ِ لوامہ بیدار ہوگیاہو؟ اس میں سچائی اس لیے اور دکھائی دی کہ انہوں نے کورٹ کا فیصلہ بھی فوراً تسلیم کرلیا اور وزیر اعظم ہا ؤس چھوڑ کر فوراً پنجاب ہا ؤس اسلام آباد چلے گئے۔ مگر ابھی فیصلے کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی۔ کہ سیاق اور سباق کو چھوڑ کر انہوں نےایک جملہ کو پکڑلیا کہ “ میں نے کوئی جرم کیا، مجھے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کہ جرم میں نااہل قراردیا گیا اور پھر ریلی کی تیاری شروع ہوئی۔ پہلے خبر تھی کہ وہ موٹر وے سے تشریف لے جائیں گے۔ لیکن پھر خبر تبدیل ہوگئی کہ وہ جی ٹی روڈ سے تشریف لے جائیں گے۔ اس تبدیلی کی وجہ تو ہر کند ذہن بھی سمجھ سکتا ہے۔کہ موٹر وے پر عوام چلتے پھرتے نہیں ہیں۔ صرف خواص کی حد ِ نظر تک کاریں دوڑتی نظر آتی ہیں ۔لہذا وہاں آدمی جمع کرنا مشکل تھا؟

جبکہ جی ٹی روڈ پر ویسے ہی عوام الناس چلتے پھر تے رہتے ہیں، تھوڑی رکاوٹ ہو تو جم ِ غفیر جمع ہوجاتا ہے۔ دوسرے یہاں سرکاری ملازمین باآسانی مہیا ہوسکتے تھے اور لوگوں میں چھپ کر یہ تاثر دے سکتے ہیں کہ لوگ جوق درجوق اپنے محبوب لیڈرکی ایک جھلک دیکھنے کے لیے جسے پہلے خواص کو دیکھنے کی بمشکل اجازت ملتی تھی۔اب وہ با سانی دیکھ رہے ہیں ممکن ہے اس منظر کو آنکھیں مل کر کچھ نے دیکھا ہو کہ خواب تو نہں دیکھ رہے ہیں؟ جبکہ ان کے مفت طعام کا بھی اتتظام تھا ،ممکن ہے کہ اس میں راہ گیروں کوبھی“ چپڑی اوردو دو“ نظر آئیں ہوں کہ وہ سفر بھی کرلیں گے اور ڈھابے کا بل بھی ادا نہیں کرنا پڑیگا۔ یعنی جیسا منصوبہ تھا کہ لوگ آتے جائیں گے اور کارواں بنتا جائے گا۔ وہ ان کی نظروں میں کامیاب ہو گیا۔اب وہ بقول انکے عوام کی عدالت میں ہیں۔کہ “ بھائیوں بتاؤ! کہ بیٹے سے تنخواہ نہ لینا جرم ہے؟میں نے جب لی ہی نہیں تو دکھا تا کیا؟ جبکہ فیصلہ کے باقی صفحات غائب کردیئے صرف یہ جملہ بار بار یادآ رہا۔

اس کے باوجود ہم نے مجمع کی ایریل پکچر میں۔ جو ہاتھ اٹھے دیکھے وہ چند ہی تھی اور منھ بھی خاموش۔اور کیا دیکھا تفصیل کو جانے دیجئے؟ وہ آپ خود بھی دیکھ رہے ہونگے ٹی وی پر کہ سرکاری ملازمین فائر برگیڈ کی چھت سے نون لیگ کے جھنڈے لگانے کا کام لے رہے تھے، وغیرہ ، وغیرہ؟ ہماری سمجھ میں یہ نہیں آرہا ہے کہ پہلے اتنا تعاون کیوں ؟ پھر یکایک ججوں پر تنقید کیوں؟ہم تو یہ سمجھ رہے ہیں۔ وہ جو کام نوے دن میں کرنےکا وعدہ کرکے آئے تھے۔ وہ پانچ سال میں بھی نہیں کرپائے۔ تو انہوں نے کوشش شروع کردی کے کسی طرح ہم مظلوم بن جائیں۔ جب کسی نے ا نہیں ان کی شدید خواہش کے باجود مظلوم نہیں بننے دیا ،تو انہوں نے یہ ڈرامہ رچایا۔ اس میں وہ کامیاب ہو نے کی کوشش کر رہے ہیں اور اب اگلے انتخابات میں وہ عوام کے سامنے فریادی بن کے پیش ہونگے کہ ہمیں تو کام کرنے ہی نہیں دیا۔ انہیں یقین ہے کہ عوام انکی وعدہ خلافیاں بھول جائیں گے اور پانچ سال کے لیے پھر وہ آجائیں گے ۔پانچ سال ممکن ہے کہ پھر کبھی ختم نہ ہوں ۔اس لیے ہم یہ مشورہ دینے پر مجبور ہیں کہ عوام جاگ جائیں ادارے بھی ،جاگ جائیں تو بہتر ورنہ پھر کبھی مصنوعی جموریت یا بدترین آمریت سے نکلنے کا موقعہ انہیں نہیں ملے گا۔

SHARE

LEAVE A REPLY