ریحام خان صاحبہ اور ان کی کتاب، طاہرہ مسعود

0
565

جب کچھ سال قبل ریحام خان اور عمران خان کی شادی کی خبر سنی تھی توایک گونا خوشی ہوئی تھی کہ چلو دونوں کا گھر ایک بار پھر بس گیا۔ لیکن جتنی دیر میں شادی میں سلے تمام جوڑے اور دوسری اشیاء ابھی پوری طرح استعمال بھی نہیں ہو پاتیں اتنے عرصے میں ہی طلا ق کی خبر بھی آ گئی۔ کیونکہ ہمیں دونوں کی ذاتی زندگی میں کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔ ا س لیے شادی کی خبر سننے کے بعد ایک عرصے تک گو ان کی خبریں نظر سے گزرتی رہتیں مگر ان پہ کبھی توجہ نہ دی تھی۔ کہ جہاں رہیں خوش رہیں۔ عمران خان ہمارے لیے صرف ایک وجہ سے اہم تھے اور وہ یہ کہ انہوں نے ورلڈ کپ کا وعدہ پورا کر کے پاکستان کو سرخرو کیا تھا۔ ساری زندگی میں پہلا کرکٹ کا میچ جو میں نے بھی پوری دلچسپی سے دیکھا وہ ورلڈ کپ ہی تھا۔
خیر جب ان کی طلاق کا دھماکہ ہو اتو الٹی میٹلی خبر کو بے یقینی سے پڑھا۔ کہ یہ کیا اور کیونکر ہوگیا۔ دونوں بچے تو نہ تھے ۔ میچور اور بال بچے دار تھے۔ پہلے تو شادی کا اتنا بڑا فیصلہ آناً فاناًاور پھر طلا ق کا؟ یقین نہیں آ رہا تھا کہ کپتان صاحب جو دھیرج اور احتیاط میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے آخر اتنی عجلت کا مظاہرہ کیوں کر گئے؟ کہاں تو شروع میں ایک عمر شادی کے بغیر گزار دی اور اب کرنے پہ آئے تو ایک اورشادی ہی نہیں ایک اور طلاق؟
اور پھر جو وجوہات کا سیلاب امڈا تو حیرتوں کے سلسلے سوز نہاں تک آگئے۔ اور ریحام خان صاحبہ کے انکشافات تو میڈیا اور صحافت کے افق پر شاید کسی کی جاں تک آگئے۔ تب خیال آیا کہ موصوفہ سے بھی تعارف کر لیا جائے۔ ابھی یہ سوچا ہی تھا کہ میڈیا پراس دوپٹے میں لپٹی بظاہر ایک گھریلو سی خاتون کا وہ ماضی نظر آیا کہ الامان الحفیظ۔ علم ہو اکہ موصوفہ کا خدا اور دین صرف پاکستان میں ہی ہے اور یہ کہ یہ حلیہ ان کی سیاسی زندگی سے مشروط تھا۔ مجبوری تھا۔ ورنہ پاکستان کی حدود سے باہر وہ کسی اور ہی ملک اور عقیدے کی باسی تھیں۔ ان کے اور ایک مغربی خاتون کے رہن سہن میں کوئی فرق نہیں تھا۔ پارٹیز ڈانس ، لباس اٹھنا بیٹھنا بول چال کسی زاویے سے وہ گھریلو یا مشرقی خاتون نہیں تھیں۔
ابھی ہم ” سانوں کی” کہہ کرا س ورطہ ء حیرت سے نکل نہ پائے تھے کہ ایک اور دھماکہ ہوا۔ وہ تھا ان کی عمران و فوبیا کتاب کا دھماکہ۔ جو دھماکوں کا ایک سلسلہ تھا۔ جو مسلسل دھماکوں کی پھلجڑیاں چھوڑتا ہی چلا گیا۔ تب علم ہوا کہ وہ سر جس کا کچھ حصہ دوپٹے سے ڈھکنے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے اس کے اندر کس قدربدصورت اور دوغلا دماغ ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کا لبا س ہیں۔ کوئی شریف عورت یا مرد اپنے میاں یا بیوی کے بارے میں طلا ق کے بعد بھی اس کی عادات یا کمزوریوں کا تذکراس طرح نہیں کر سکتی / سکتا۔ یہ گناہ ہے۔ لیکن آفرین اس معصوم اور اس شریف بی بی پر کہ اس نے کوئی پہلو مخفی نہ رکھا،۔ بلکہ اس کی عبارت کی تصحیح اپنے بیٹے سے کروا کر اپنے حیادار ہونے کا بھرم مکمل گنو ادیا۔
کوئی ماں اپنے بچوں سے یہ تفصیل شیئر نہیں کرسکتی۔ اب وہی ریحام جو شروع میں ایک معتبر خاتون لگتی تھیں جب میڈیا میں کہیں نظر آتیں ہیں تو واضح شکشست خوردہ پیلی سی مسکراہٹ ان کے چہرے پر ہوتی ہے۔ جس کو وہ چھپانا بھی چاہیں تو چھپا نہیں سکتیں۔
اگر وہ خاموش رہتیں تو ابھی تک اعتراضات کا ہدف عمران خان بنتے۔ لیکن اعتراضات کے ا س دہکتے لاوے کا رُخ اس خاتون نے ہمیشہ کے لیے اپنی طرف موڑ لیا ہے۔ اللہ جانے ریحام خان صاحبہ نے نے یہ فاش غلطی کیوں کی۔ کس وجہ سے کی۔ لیکن یہ بات یقینی ہے کہ ا س کتاب کا سب سےزیادہ نقصان خود ان کی اپنی ہی ذات کو ہوا ہے۔ اب ممکن ہے کہ باقی کی زندگی وہ یہی کہتی رہیں کہ مجھ سے یہ کتاب کویں لکھوائی گئی؟ مجھ سے کیوں لکھوایا؟؟ اگر خاموش رہتیں توان کا نام ہمیشہ عزت سے لیا جاتا۔ اور عمران خان صاحب پر ہی سوال اٹھتے۔ ایک خاتون ہونے کے ناطے ریحام خان کے ساتھ جو ہوا ہے ا س پہ افسوس ہے۔ انکو علم ہیں نہیںہو اکہ کسی نے خود کو بچانے کی آخریکوشش کے طور پر ان کو کس برح طرح سیاسی منظر نامے میں فریم کیا ہے۔ اگر ان کو اس کتاب سے کوئی مالی فائدہ بھی ہو اہو تو وہ اس بدنامی سے بہت کم ہے جو ان کے حصے میں آئی۔
لگتا ہے کپتان صاحب ان کی سرشت سے جلد واقف ہو گئے جبھی انہوں نے وقت ضائع کیے بغیر یہ غلطی سدھار دی۔ ریحام خان صاحبہ نے کتاب لکھ کر عمران خان کا فیصلہ صحیح ثابت کردیا۔
طاہرہ مسعود کینیڈا

SHARE

LEAVE A REPLY