ایک شہادت سب کو مومن کرگئی!رخسانہ رخشی

2
2053

ایک شہادت سب کو مومن کرگئی

مولا علی اور آیت اللہ خمینی کے اوصاف کیسے ہوں بیاں!

رخسانہ رخشی

آیت اللہ خمینی کی شہادت آج دنیا بھر کا موضوع ہے اور یہ ایسے مرد شہید کا موضوع ہے کہ جو شاید قیامت تک یا پھر عرصۂ دراز تک تو رہے گا ۔ آ ج جب جب شہیدان کربلا کو یاد کریں گے اور مولا علی کی شہادت یاد کریں گے تو زہن کے کسی نا کسی گوشے میں عہد حاضر کی شہادت بھی سر اُبھارے گی اور دنیا بھر کے مسلمان کہیں کہیں اپنے سینے پر ہاتھ مارنے سے پہلے گریبان میں بھی جھانکیں گے کہ ہم انکی اور انکے وطن کی کوئی مدد و معاونت انکی زندگی میں نا کرسکے۔
مسلمانوں کی تاریخ میں ہر بڑی شخصیت کی شہادت ایمان اُجاگر کرتی ہے ، جوش و جذبہ جواں ہوتا ہے اور ہم اپنی منافقتوں اور کوتاہیوں کو بھول کر جوش و خروش سے لبریز ہوجاتے ہیں ایسی ہی شہادت سید علی خامنہ ای کی ہے جو ہم سبھی کی زندگی میں ایک خلش چھوڑ گئی ، ہماری روح کو گھائل کرگئی مگر ایمان تازہ کرگئی ہر کوئی کہنے پہ مجبور ہوگیا کہ ایمان اسے کہتے ہیں، تقوی اسے کہتے ہیں، سادگی اسے کہتے ہیں، مومن اسے کہتے ہیں، اسلام کے نام پر زندگی گزارنا اسے کہتے ہیں اور ہم اپنی نسلوں تک یہ بات پہچائیں گے کہ ایسی زندگی گزارکر پھر شہید ہوجانا دشمن کو بھی حیرت میں ڈال دیتا ہے اور جینے کے ڈھنگ سکھا دیتا ہے۔
ویسے ہم اسی ڈھنگ کی بات کرتے ہیں جو عموما شہدا کے نصیب میں ہوتی ہے انھیں اسلامی فقہ میں شہید مارکہ کہتے ہیں ، یہ وہ میدان مارکہ ہے کہ جہاں میدان جنگ میں دشمن سے لڑنے پر انھیں غسل نہیں دیا جاتا ، کفن اور تابوت بھی نہیں ملتے انھیں خون آلود حالت میں ہی دفن کردیا جاتا ہے۔
آج ایک شہید کی موت چاہے حکمہ تھی یا معرکہ آرائی میں ممکن تھی مگر وہ آج کے ہر مسلمان کو مومن بنا گئی آج سبھی کو اپنا عقیدہ مومن کرنا پڑرہا ہے ، آج حضرت خمینی آیت اللہ کے گن و اوصاف کو ایمان سمجھ کر اپنایا جارہا ہے، انھیں جیسی طرز زندگی کو اپنے لئے ایک جینے کا ڈھنگ گردانا جارہا ہے، انکی عظمت پر یقین آج ہر کافرو مسلمان ایک مثالی زندگی آنکھیں بند کرکے مان رہا ہے۔
کہا تو یہ بھی جارہا ہے کہ

مولا علی کی تلوار سے باطل ہمیشہ ہارا ہے
امام خمینی کا پیغام آج بھی حق کا سہارا ہے
یزیدیت کے ہر دور کو للکارتی ہے یہ صدا
حق کے راستے پر چلنے والاکبھی نہیں ہارا ہے
شہادت چاہے مولا علی کی ہو یا پھر علی کے عقیدت مندوں کی ہو مومنوں کیلئے ایسی بےمثال شہادتیں ایک عظیم سانحہ ہوتی ہیں، بھلے ہی وہ شہادت کے اعلی منصب پر ہوں۔
وہ عظیم شہدا جن کی زندگی جدوجہد میں گزری، جو خارجی اثرات اور نا انصافی کےخلاف اپنا ہی ایک موقف اور نظریہ رکھتے ہوں۔
مولا علی نے خارجیوں کو مدمقابل جان کر جان توڑ جدوجہد کی آج آیت اللہ خمینائ بھی مغرب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر شہادت پاگئے۔
انکے درجات کی بلندی کے لئے بہت دعائیں

SHARE

2 COMMENTS

  1. اس سے بڑی بدنصیبی اور کیا ہو گی۔
    دونوں دینی تعلیم سے آراستہ مدارس کے فارغ التحصیل لیکن کام دیکھو ۔ کیا حریم شاہ اور کیا مفتی عبدالقوی ۔اتنی رنگینی بھی نہیں ہونی چاھئے کہ بندہ اپنی روایات کو ہی بھول جائے۔کم سے کم اپنے منصب کا ہی خیال رکھ لیں۔مجھے دکھ ہے اس بات کا۔ یہ لوگ دین کی بدنامی کا باعث ہیں ۔
    بیہودگی کی انتہا ہے۔

  2. دُنیا چھپا اور ظاہر ہے جو چھپ گیا بچ گیا جو ظاہر ہوا ننگا ہو گیا۔مگر ہمارے اندرکا انسان چھہے ہوئے کی تلاش میں رہتا ہے سو فساد برپا کرتا ہے۔منو نے جو کچھ ظاہر اور باطن کے تناظر میں جا کر حقیقت کو ظاہر کیا وہ آدھا سچ نہیں پورا سچ تھا۔ آج اسی سچ کو دُنیا دیکھ رہی ہے ۔آپ نے جس طرح واقعات یاد کروائے ایسی ہی کہانیاں تو منٹو کا سچ تھیں۔وہ سچ جو آج بھی سامنے آتا ہے گویا منٹو نجومی تھا

LEAVE A REPLY