وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد نے نشتر اسپتال کے معاملے پر بیان جاری کیا ہے۔
یاسمین راشد نے کہا کہ اگر لاوارث شخص کے ورثا 5،6 مہینے تک رابطہ نہ کریں تو لاش کو میڈیکل کالجز کے اناٹومی ڈیپارٹمنٹ منتقل کر دیا جاتا ہے اور میڈیکل طلبہ اس لاش پر تربیت حاصل کرتے ہیں جب کہ لاش کی باقیات کو دفن کر دیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ افسوس لاوارث لاش کی تجہیز و تکفین کیلئے کوئی ٹھوس ایس او پیز نہیں بن سکے۔
وزیر صحت نے بتایا کہ ملتان کے واقعے پر 5 رکنی کمیٹی بنا دی گئی ہے ۔
………………..
حکومتِ پنجاب نے نشتر اسپتال ملتان کی چھت سے انسانی لاشیں ملنے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی ہے جسے تین روز میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
انکوائری کمیٹی محکمۂ داخلہ پنجاب کے قواعدوضوابط (ایس او پیز) کے مطابق تحقیقات کرے گی۔ کمیٹی کی سربراہی ایڈیشنل سیکریٹری اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر ساؤتھ پنجاب مزمل بشیر کر رہے ہیں۔
کمیٹی اِن امور پر بھی تحقیقات کرے گی کہ آیا اسپتال کا عملہ لاشوں کے ڈھانچوں کو فروخت کرنے کے کاروبار میں تو ملوث نہیں ہے۔
واضح رہے بدھ کو نشتر اسپتال میں انسانی لاشوں کی بے حرمتی کا واقعہ سامنے آیا تھا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے مشیر طارق زمان گجر عوامی شکایات پر جانچ پڑتال کے لیے نشتر اسپتال ملتان پہنچے تو اسپتال کی چھت پر لاوارث لاشیں کھلے آسمان تلے بے گورو کفن پڑی تھیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق بعض لاشوں کو چرند پرند اور حشرات نے نوچ رکھا تھا جس کے باعث تعفن بھی پھیلا ہوا تھا۔
حکام کی جانب سے نوٹس لئےجانے کے بعد لاوارث لاشوں کو دوبارہ مردہ خانے منتقل کر دیا گیا ہے۔ جہاں اُن کی تدفین کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
وائس آف امریکہ نے اِس سلسلے میں نشتر میڈیکل کالج کے پرنسپل رانا الطاف سے متعدد بار رابطہ کیا لیکن وہ دستیاب نہیں ہو سکے۔ البتہ نشتر میڈیکل کالج کے ترجمان ڈاکٹر سجاد مسعود نے بتایا کہ اسپتال کی چھت پر موجود لاوارث لاشوں کی تعداد چارتھی اور لاشوں کو میڈیکل کے طلبہ کے پریکٹیکل کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ لاوارث لاشوں کو ڈائی سیکشن کر کے چھتوں پر پیوریفائی کر کے رکھا جاتا ہے۔ جن سے ہڈیاں الگ کرکے طب کے طالبعلموں کو پڑھایا اور سیکھایا (ٹریننگ) جاتاہے۔ یہ سلسلہ گزشتہ کئی سالوں سے جاری ہے۔ کئی لاوارث ڈیڈ باڈیز میڈیکل کالج کو عطیہ بھی کی جاتی ہیں۔ جس کا نوٹی فکیشن بھی موجود ہے۔












