موجودہ حکومت کے سودن۔۔۔ شمس جیلانی

0
77

ہمارے کان 71سال سے یہ سنتے سنتے اس ملک میں تھک گئے تھے! جو ملک اسلام کے نام پر بنا تھا کہ“ کبھی مکا بھاری تھا تو کبھی حقہ بھاری تھا۔ کبھی کوئی مداری سب پر بھاری تھا تو کبھی کوئی زرداری بھاری تھا ؟ہم سوچ رہے تھے کہ اب جو فضاؤں میں صدا گونجے گی، قافیہ گوئی کی بناپر، تو جو سننے کو ملے گا اب وہ یہ ہوگا“ایک کھلاڑی سب پر بھاری“ اور یہ ہی سو دن کی ہر تقریب میں ٹیپ کا بند بھی ہوگا؟ مگر عمران خان نے اپنے بجائے اسی کا نام بلند کیا جس کے نام پر یہ ملک بنا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ“ کوشش کرنا انسان کا کام ہے اور کامیابی دینا یا نہ دینا اللہ کی مرضی پر منحصر ہے کہ کامیابی وہی عطا فرماتا ہے“ وہ شاطر لوگ جو سوچ رہے تھے کہ ہم نہیں تو یہ ملک بھی ہمارے بغیر نہیں چل سکتا ہے؟ وجہ انہیں معلوم تھی کہ جو کانٹے وہ بو کر جارہے ہیں ان کا تقاضہ یہ ہی ہے؟ اول تو ہماری جگہ کوئی آہی نہیں سکتا، دوسرے کانٹوں کی سیج کو جان بوجھ کوئی لے گا ہی نہیں؟ کیونکہ ہم بے تحاشہ بارودی سرنگیں قرضوں اور اگلے سال کے مالی بجٹ کی شکل میں جو بچھا کر جارہے ہیں؟ وہی آنے والے کو ناکام بنانے کے لیے بہت کافی ہے؟ مگر جب اللہ سبحانہ تعالیٰ کسی کو اس کے تکبر اور انا کی بنا پر نشانِ عبرت بنانا چاہتا توایک چھوٹی سی چڑیا کی چونچ میں اٹھا کے لائی ہوئی کنکری سے ہاتھی کا چورابنا دیتاہے اور اس کوجو کعبہ کو ڈھانے چلا تھا اور اس کے ہاتھیوں کو دنیا کے لیے نشانِ عبرت بنا دیتا ہے۔ ہر سال ساڑھے چودہ سو سال سے تیس پینتیس لاکھ سے زیادہ مسلمان اس مقام کو دیکھتے ہیں اور خاموشی سے بغیر وہاں ٹھہرے ہوئے گزرجاتے ہیں کہ انہیں حکم ہی یہ ہے۔ ورنہ اس مقام پر بھی شیطان کی قیام گاہ کی طرح پتھر مارنے کا حکم ہوتا اور لوگ وہاں جیسے حد سے تجاوز کر جاتے ہیں کہ اپنے جوتے بھی پھینک مارتے ہیں یہاں بھی ایسا ہی کرتے۔
ایک صاحب کہتے ہوئے سنے گئے کہ دو ارب بیس لاکھ ڈالر کے قرضے برادر ملک سے لیئے جارہے ہیں؟ غور فرمائیں یہ جملہ عام نہیں ہے بلکہ جملہ “استجابیہ“ ہے کہ وہ اس ملک کو ایسا چھوڑ کر نہیں گئے تھے کہ کوئی اسے ایک ٹکا بھی قرضہ دیتا پھر یہ اسے مل کیسے رہا ہے! مزید یہ کہ ملک کے لیے ڈیم بنانے اور چندے کی پہل چیف جسٹس صاحب نے کی تھی جبکہ بعد میں وزیر اعظم کانام بھی اس میں شامل ہوگیا؟ پھر بھی ا س میں لوگ دل کھول کر چندہ کیوں دے رہےہیں آخر کیوں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بھائی ہر ایک دنیا میں اپنی ساکھ رکھتا ہے جو زبان اور عمل سے بنتی ہے اورآدمی کولوگ دیکھ کر چندہ دیتے ہیں؟ ایک صاحب جب اس ملک کے کرتا دھرتا تھے وہ بھی چندہ مانگنے نکلے تھے؟ انہیں جو باہر کے پاکستانیوں نے چندہ دیا وہ دینے والوں کے لیے کسی تلخ تجر بے سی کم نہ تھا کہ اس مرتبہ دوبارہ ملک کو چندہ دیا جاتا؟ اور وہ بھی دل کھول کر؟ نعرہ ان کا بھی یہ ہی تھا کہ پاکستان بچاؤ۔ مگر آدمی آدمی کا فرق ہے۔ یہ چند مثالیں ہیں ان کے کردار سے متعلق جنہیں حیرت ہورہی ہے کہ یہ ملک چل کیسے رہا؟ یہ ا س لیے چل رہا کہ یہ دنیا بنانے والے کے نام پر بنا تھا؟ وہ چلانا چاہے تو اسے کوئی روک نہیں سکتا اگر وہی روک دے تو کوئی چلا نہیں سکتا ہے؟ اس کے دشمن جو چاہیں کر لیں کوئی اس کی مرضی کے بغیر اسے مٹا نہیں سکتا۔ مگر وقت کے فرعون اس بات کوا کثر بھول جاتے ہیں پھر اس کانتیجہ بھی بھگتے ہیں؟ رہا سودن کاقصہ اس کا پہلا جواب تو یہ ہے کہ یہ چلن ہمارے یہاں کبھی نہیں رہا یہ اوروں کی نقل ہے ک سو دن کا کہدیا اور کہنے والے نے یہ نہیں سوچا کے یہ ان ملکو ں کے دستور ہیں؟ جو چل ہی نہیں بلکہ دوڑ رہے ہیں اور ان ملکوں میں رواج نہیں پاسکتے کہ جو دھکے سے بھی بمشکل چل رہے ہیں؟ دوسرا جواب یہ ہے کہ اللہ کے ہاں ہر کام لیے ایک وقت مقرر ہے اورا سی وقت پر وہ انجام پزیر ہوتا ہے۔ جس سے بندہ قطعی لا علم ہے ؟اسی لیے ہم کوہر بات کہنے سے پہلے انشا اللہ کہنے کا حکم ہے؟ کیونکہ اس سے اسلامی عقیدے کے مطابق اس کی بالا دستی کا بندے کے زبان سے بھی ا ظہار ہوتا ہے۔ جبکہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے تو پہچان ہی یہ بتائی ہے کہ“ میں نے خدا کوپہچانا اپنے ارادوں کے ٹوٹ جانے سے“ البتہ وہ کسی پر مہربان ہے تو اس کے غلط کام بھی سیدھے کر دیتا ہے؟ لہذا اس کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ کون کون سا وعدہ پورا ہوا؟ سب سے ضروری تھا ملک کو چلانا وہ الحمد للہ چل رہاہے۔ جو ہم سب دیکھ رہے ہیں دیوالیہ نہیں ہوا۔ اسی کی وجہ سے قرضہ بھی مل رہا رہی گرانی وہ تو بڑھنا ہی تھی کہ جانے والے مصنوئی بجٹ بنا کر چلے گئے تھے؟ کیونکہ پہلے سے ہی روپیہ تو گر رہا تھا ڈالر چڑھ رہا تھا جانے والو نےا سے گاؤ تکییے لگا کر روکا ہوا تھا۔ رہا چندہ وہ بھی مل رہا ہے ملتا رہے گا کہ پاکستانئ محب وطن ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اِنہوں نے بھی بجٹ کابعض حصہ جو پہلے تھا وہی کیوں رکھا؟اس کی وجہ ڈالر کی اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں؟ رہیں دوسری کامیابیاں؟ سادگی عملی طور پر اپنائی جا چکی ہے؟ سو دنوں میں کوئی گھپلے کاا سکینڈل نہیں بنا، جبکہ اس مجبوری کو مدِ نظر رکھیے کہ اِن کے پاس وہ انتظامیہ نہیں ہے جو مدنی ریاست کے پاس اس کے بننے سے پہلے سے تھی وہ تھا بے مثال ایمان؟ یہ ہی وجہ ہے کہ یہ حکومت لوگوں کو پرکھتی اور اپنے فیصلے واپس لیتی رہی اگر نہ لیتی تو کیا یہ بھی جھوٹی انا کی تصویر اور بقول عمران خان کہ بیوقوف کہلاتی جیسے کہ جا نے والے کیا کرتے تھے؟ ابھی توصورتِ حال یہ ہے کہ پہلے تو صرف چیف جسٹس صاحب ظلم دیکھ کرا کیلے کڑھتے تھے، جیسا کہ انہوں نے ا پنے دوورہ لندن کے دوران فرما یا ہے اوراب ان میں وزیرا عظم اور شامل ہوگئے ہیں۔ جس طرح عدلیہ نے بے انتہا دوبارہ جمہوریت کو مستحکم کرنے میں انتھک کام کیا جس کے لیئے چیف جسٹس صاحب قابلِ ستائش ہیں؟ اسی طرح وزیر اعظم کا بھی ظلم پر کڑھنا انشااللہ رنگ لا ئے گا؟ یہ 71 سال کی مختلف مافیا کی شکل میں بوئی ہوئی فصل جو اب کونپلیں نہیں بلکہ تن آور درخت بن چکی ہے! جن کی جڑیں چاروں طرف پھیلی ہوئی ہیں ؟ جس میں کامیاب ہونا عوام کے صبر اورتعاون کے بغیر ناممکن ہے؟ اگر کسی کی باتوں میں آکرعوام نے صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیا تو یہ بالکل ایسا ہی ہوگا جیسا کہ بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا ؟ غور سے دیکھئے یہ کیا کم ہے کہ ہر اسکیم کی ابتدا ہوچکی ہے وہ بھی اس قوم کے درمیان جو اپنے بہترین دور میں نو سال میں دستور نہیں بناسکی تھی؟ وہی قوم اب سودن میں کم ازکم اسکیمیں بنا کر کچھ پر عمل پیرا بھی ہوچکی ہے؟ خارجہ پالیسی نہ ہونے کے برابر تھی یہ حکومت سو دن میں اسے اتنا فعال کرچکی ہے کہ توہینِ رسالت(ص) کے معاملے پراثرا نداز ہوکر شاندار کامیابی بھی حاصل کرچکی ہے ۔ کرتار پور کوریڈر کاچند دن پہلے سنگ بنیاد رکھا جا چکا ہے ۔ جبکہ مودی کے الیکشن قریب ہیں اور وہ یہ نہ چاہتے بھی ہوئے کرنے پر مجبور ہوا؟ کیایہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کی نصرت کی نشانی نہیں ہے جو دشمنوں سے ان کی مرضی کے خلاف کام کرارہی ہے۔ اس سے پہلے روزانہ ایک ٹرین بند ہو رہی تھی اب یہ ہی جاری ہونے کا تناسب ہے۔ میرا عوام کو مشورہ ہے کہ صرف چشمہ بدل کر دیکھئے آپ کو چاروں طرف انشا اللہ، کام ہی کام ہو تا ہوا نظر آئے گا۔ اس لیے کہ نہ وزیر آعظم کے اور نہ ہی کسی وزیر کے کارخانے ہیں اور نہ زمینوں میں مفادات ہیں؟ جن کے ہوتے ہیں وہ صرف اپنا مفاد دیکھتے ہیں؟

SHARE

LEAVE A REPLY