بڑی تیزی سے عدل اور انصاف سیڑھیاں چڑھ رہا ہے ،کہتے ہیں جب تیزی سے چلو تو گرنے کا اندیشہ سوا ہو جاتا ہے ۔جب جہل کا اندھیرا اتنا گہرا ہو جائے کہ آپ اپنے بنیادی علم سے بھی دور ہو جائیں تو سمجھ نہیں آتا کہ کون سا راستہ روشنی دکھائے گا ؟ کیا ستر سالوں نے ہمیں اس قابل بھی نہیں کیا کہ ہم اپنا اچھا برا سوچ سکتے ہم نے صرف اور صرف نفرتیں اور فائدے پالے ،صرف مفاد دیکھے نقصان کی طرف کبھی نظر نہیں کی ۔یہ سوچا ہی نہیں کہ علم کی کمی ہمیں کہاں لے جائیگی ۔اقرباٰء پروری اور رشوت جو کسی بھی صورت دی جائے چاہے عہدوں کی شکل میں چاہے ترقی کی شکل میں چاہے نا جائز تقرری کی شکل میں ہمیں کہاں لا کھڑا کرے گی ؟؟؟؟یہ سارے نقصان ہم نے شخصی فائدوں پر وار دئیے اور اخلاق کی اُن کھائیوں میں جا گرے جہاں سے نکلنے کا راستہ انتہائی کٹھن محسوس ہو رہا ہے ۔
میں ٹیوٹر دیکھتی ہوں تبصروں میں اتنی گالیاں ہوتی ہیں بغیر یہ سوچے کہ اآپ کے منہ سے نکلا ایک جملہ آپ کے قلم سے نکلا ایک لفظ آپ کی ساری شخصیت کی عکاسی کرتا ہے ،یہ ٹوئٹ آپ کی بہنیں بھی پڑھتی ہیں کہ زمانہ ہے ایلکٹرانک ،مائیں بھی پڑھتی ہیں ،بیٹیاں بھی پڑھتی ہوں گی اور شاید آپ کے بچے بھی پڑھتے ہوں ،لیکن ہم نے شرم کو اتنی گہری قبر میں اُتار دیا ہے کہ ہم ہر حد عبور کر گئے ہیں ،یہاں تک کہ ہماری بہنیں بھی پیچھے نہیں رہیں کیونکہ وہ مَردوں کی برابری کی راہ پر چل کھڑی ہوئی ہیں ،سمجھانے والا دقیانوسی ٹہرتا ہے ۔کیونکہ ہم اپنے بنیادی علم ہی سے روشناس نہیں جہاں سب سے پہلا سبق ہی حُسنِ خُلق کا دیا گیا ہے اچھی بات کرنے کا دیا گیا ہے ۔گالیاں تو جاہل بھی دیں تو بری لگتی ہیں نہ کہ جب نام کے ساتھ ڈاکٹر اور انجینئر لکھا ہو تو لگتا ہے کہ ہم پتھروں کے زمانے سے بھی کہیں پیچھے چلے گئے ہیں ۔ہماری التجا تو صرف اتنی ہے کہ خود سنبھلو ،گرتوں کو بچانے کوئی نہیں آتا ۔۔کم از کم گالیاں اور برے خطابات سے گریز کرنا چاہئے ۔نہ ہم امریکی ہیں نہ برطانوی کہ یہ راہ بھی ان ہی کی اختیار کر لیں ،
قانون دان نے جو کچھ ایک سزا کے بارے میں لکھا وہ انتہائی تکلیف کا باعث بنا ،اس لئے کہ اس قسم کی سزا کی تو اجازت ہمارا دین بھی نہیں دیتا پھانسی کی سزا ہے لیکن لاش کی بے حرمتی کی بات کہیں نہیں ملتی ۔یہ کیسی نفرتیں ہیں جو ہمیں عدل میں بھی نظر اآتی ہیں سیاست میں بھی اور شاید زندگی کے ہر شعبے میں خاص کر اس کو پھیلانے میں میڈیا کا کردار نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔جس طرح ہر فیصلے کے بعد وہ تقریریں جو اس وقت کے حالات یا لا علمی میں کر دی جاتی ہیں انہیں چلایا جاتا ہے ،بتانا ضرور چاہئے کہ اُس وقت کیا کہا گیا لیکن جب آپ وہ ااوڈیو دکھاتے ہیں تو جزبات اور بھی برافروختہ ہو جاتے ہیں اور جلتی پر تیل کا کام کرتے ہیں ۔اگر آپ وہ بیانات اپنے الفاظ میں بتا دیں گے تو اتنا رَدِ عمل شاید نہ ہو اور نہ ہی مخالفت پیدا ہو ،وہ تو انسان ہی نہیں جو اپنی غلطی کو نہ مانے یا اُس سے سبق نہ سیکھے لیکن خرابی یہ ہے کہ ہم اپنا ماضی اپنی غلطیاں سُدھارنے کے لئے نہیں بلکہ اپنی غلطی پر قائم رہنے کے لئے یاد رکھتے ہیں ۔بہ حٰثیت قوم ہم ابھی سنبھلے ہی نہیں کیونکہ مقدمے سالوں پر محیط ہیں فیصلے صدیوں پر ،
سزا ضرور ملنی چاہئے مگر جتنا جرم ہے اتنی چاہے لال مسجد ہو یا سیاچن پہلے اُسکی تحقیق کرو اور اس پر بھی میڈیا کو چاہئے کہ اُس وقت لکے پروگرام چلائے جب میڈیا پر سارا دن کہا جاتا تھا کہ حکومت کچھ نہیں کر رہی اور جب حکومت نے کچھ کیا تو وہ ہی سارے اینکر اُس بات کے مخالف ہو گئے جو خواتین کو ڈنڈے لئے دکھا رہے تھے نقاب پوشوں کو لاٹھیاں اُٹھائے دکھا رپہے تھے ۔یہ ہی میڈیا تھا جو پوری کار روائی دکھا رہا تھا ۔ہم نہ مشرف کے حامی ہیں نہ مخالف ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ بات انصاف کی ہونی چاہئے ۔چاہے اختلاف کتنا ہی کیوں نہ ہو جو کچھ انہوں نے برا کیا اُس پر سزا دو مگر اُن کی بات سُن کر کیونکہ ہمیں بھی تمام خبریں میڈیا اور اخباروں اور رپورٹ کرنے والوں ہی سے ملتی ہیں جنہیں اآپ سو فیصد درست نہیں کہہ سکتے کیونکہ ہر دور میں افواہوں اور غلط خبروں کا ایسا بازار لگا رہتا ہے کہ ہم سوچ بھی نہیں سکتے ۔
ضمانتوں پر ضمانتیں دی جارہی ہیں اب یہ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ اگر جرم نہیں تھا تو پکڑا کیوں ؟اور اگر پکڑا تھا تو تحقیق کیوں نہیں کی ؟اگر تحقیق کی تھی تو سامنے کیوں نہ لائے چاہئے وہ جرم تھا یا نہیں تھا کم از کم سچ بات بتاؤ تو تاکہ عوام جو ان باتوں سے نفرت اور عناد پال لیتے ہیں اُن شخصیات سے جن کے بارے میں پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے ہمارے حقوق پر ڈاکہ ڈالا یا ملک کو نقصآن پہنچایا وہ اس مشکل سے تو نکلیں کہ کیا سچ ہے کیا غلط ۔کیا ہی اچھا ہو کہ ایک روایت یہ بھی ڈال لی جائے کہ اگر کسی کے خلاف جرم ثابت نہ ہو تو اس سے معافی مانگی جائے ۔کیونکہ ہم نے یہ وطیرہ بنا لیا ہے کہ اُس وقت جو کچھ ہو رہا ہے اُسے ہوا دو چاہے جھوٹ یا سچ اور پھر اُسے پی جاؤ ۔
یہ وہ باتیں نہیں جو ہمیں ایسے فیصلے بھی سناتی ہیں جو ہماری اقدار سے بھی رو گردانی ہو تی ہے اور ہمارے شعار سے بھی ۔ہم نے نفرتیں پال لی ہیں جس میں ہمارے اُن لوگوں کا بڑا ہاتھ ہے جو نفرت کو پھیلا کر ہمیں مُٹھی میں رکھنا چاہتے ہیں اگر جمہوریت چاہئے تو جس کا جو مینڈیٹ ہے اُسے پورا کرنے دو ،تاکہ یہ جمہوریت ٹھیک ہو سکے ہم دیکھتے ہیں کہ کس طرح ہم نے بڑے عہدوں کو بھی ملامت کا نشانہ بنایا ہوا ہے ہم روز ایک ہی جیسی باتیں سنتے ہیں نا اہل حکومت ،نالائق لوگ ، نکمے لوگ ،انہیں کچھ نہیں آتا ۔ہر معاملے میں ایک ہی گردان ہے ہمیں صرف یہ افسوس ہوتا ہے کہ ہم ملک کے بارے میں سوچتے ہی نہیں ہم صرف شخصیات کے گرد گھیرے ڈالتے ہیں چاہے نفرت کے ہوں یا محبت کے ،محبت میں اتنے اندھے ہوتے ہیں کہ کوئی ایک برائی نظر نہیں آتی ،اور نفرت میں اتنے گزر جاتے ہیں کہ پاتال سے بھی زیادہ گہرائی میں چلے جاتے ہیں۔ نہ زبان پر اختیہار رہتا ہے نہ قلم پر اور نہ ہی سماعت پر ۔یہ تو بھیڑ چال ہوئی یہ کیسا معاشرہ ہم نے بنا دیا یہ کیسی قوم ہم بن گئے جنہیں اچھے برے کی تمیز ہی نہیں رہی ،۔بس ہر کوئی خود کو سب سے زیادہ دانشور اور سچا سمجھتا ہے ۔ہر ایک اپنی بات کو صحیح جانتا ہے ۔ اپنا فائدہ ہو تو سب ٹھیک اپنا نقصان ہو تو سب غلط ۔
ہمارا تو ایک مشورہ ہے کہ سب کو چھوڑ دو ۔کیونکہ نہ ہمارا عدل طاقتور ہے نہ ہمارے ثبوت ۔نہ وکیلوں میں سچ بولنے کی ہمت ہے نہ وزیروں میں ،کوئی بھی شعبئہ زندگی اُٹھا لیں ہم نے طوق ڈا؛ل لئے ہیں اپنی گردنوں میں ۔جھوٹ کے انبار ہیں غلط بیانی کے ڈھیر ہیں اور عمل کا فقدان ہے ۔ہم کہتے کچھ ہپں کرتے کچھ ہیں ۔متحد ہو کر جب تک ہم سب سچائی اور عمل کا دامن نہیں پکڑیں گے اسی طرح خوار ہوتے رہیں گے نہ ہماری قسمیں کام آئینگی نہ عہد ۔آج رانا ثنا چھوٹے کل اور بھی چھٹ جائینگے ۔پھر انہیں پکڑ کر ان پر ہمارا بچا کھچا پیسہ بھی کیوں برباد کیا جارہا ہے ۔جو ان کے آنے جانے اور سیکیورٹی پر خرچ ہوتا ہے کم از جہاں اور کفایت شعاری ہو رہی ہے اس میں بھی خرچہ کم کرو ۔یہاں سے بھی بہت پیسہ بچے گا ۔نہ وکیلوں کو سزا ملی نہ ڈاکٹروں کو جوجانیں گئیں ۔ گئیں ۔اسی طرح شریف بھی وہیں بیٹھے بیٹھے مزید وقت لیتے رہیں گے اور ہم سب اسی خوش فہمی میں مبتلا رکھے جائیں گے کہ بس پیسہ آیا کہ آیا حالانکہ اگر آبھی گیا تو جائیگا کہاں ؟یہ ہمیں نہیں پتہ کیونکہ عوام کی زندگی تو ویسی ہی ہے جیسی تھی ۔
اللہ ہمیں عمل کی توفیق دے آمین
یہ جہل کا اندھیرا,عالم آرا
956
0












