اسلام اورحقوق العباد (12) از ۔۔۔شمس جیلانی

0
775

ہم گزشتہ مضمون میں بات کرتے ہوئے یہاں تک پہونچے تھے۔ کہ اگر اللہ سبحانہ تعالیٰ کو اس کی پوری صفات کے ساتھ ہم ماننے لگیں اورسب عدل اور حساان پر عامل ہو جائیں تو دنیا سے بے انصافی ختم ہو جائے گی ! پھر بہت سے محکمے ختم کرنے پڑیں گے۔ کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کا مقصد صرف اپنی عبادت کرانا نہیں ہے بلکہ بندوں کو طرز ِ بندگی سکھا کراچھا انسان بنانا ہے۔تاکہ وہ آپس میں امن اور سکون سے رہ سکیں۔ ورنہ اس کی عبادت کے لیے توفرشتے ہی کافی ہیں جن کی تعداد ایک مشہور حدیث کے مطابق اتنی ہے کہ جوحضور (ص) کےا س ارشاد سے ثابت ہے کہ“ پورا آسمان ان کے وزن سے چرچرا رہا ہے اور وہ چپے چپے پر مصروف ِ عبادت ہیں“ جبکہ ہمارا ایمان ہے کہ حضور (ص) کی زبان ِ مبارکہ سے نکلا ہوا ہرلفظ سچ ہے۔ تو پھر سوال پیدا ہوتا ہےکہ“ انسانوں کو کیوں پیدا کیا اس لیئے کہ ان کی پیدائش کا مقصد بھی عبادت ہے؟ اس کا جواب پیدا کرنے والے نے خود قرآن میں دیدیا ہے “ تاکہ وہ تمہیں آزمائے اور تمہارے اعمال کے مطابق ان کے اجر عطافرمائے“ اور اس کے مطابق جنت یا جہھنم کے مستحق بنو! ااس پر رحمت دیکھئےکہ انسان کے ہر اس فعل کو جو اس کی دی ہوئی ہدایت کے مطابق انجام دے تو وہ عبادت ہے حتیٰ کہ مسکراکر کسی کی طرف دیکھ لے تو وہ بھی عبادت ؟( جبکہ یہ صفت بھی غیروں نے اپنائی ہوئی ہے ،جبکہ ہم نے چھوڑی ہوئی ہے) غرضیکہ کہ جو کچھ بندہ کرے حالانکہ وہ بھی اسی کی دی ہوئی توفیق اور اسی کی نعمتوں اور مال میں سے کرتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ وعدہ بھی شامل ہے کہ اگر خلوص نیت کے ساتھ وہ نیک فعل کیا ہے تو اس کا اجر ایک فعل کا دس گنا فوراً ہی ہے۔ باقی جتنا خلوص اور یقین پکا ہو تو سات سو تک یا پھر “بغیرِ حساب “ بھی ہے۔ اور یہ صرف کرنے پر ہی منحصر نہیں ہے۔ بلکہ نیکی کرنے کے ارادے پر بھی ملتا ہے۔ جبکہ برائی کرنے پر ایک برائی ہے اور برائی کے ارادہ پر کچھ نہیں ہے اگر سوچنے کے بعد کر گزرے تو برائی ا یک ہی لکھی جا ئیگی اس کے لیے بھی توبہ کرنے کے لیے تھوڑی مہلت دی جائیگی ۔اگر پھر بھی توبہ نہ کی تو کہیں جاکر لکھی جا ئیگی ۔اس کے بعد توبہ کرلے تو بھی وہاں اعمال نامہ سے خارج کردی جا ئیگی۔اگر اس کے فورًا بعد کوئی ایک نیکی کرلےتو اس طرح اس کے اعمال نامے میں نیکی کا پلڑا ہمیشہ بھاری رہے گا چاہیں نیکی کتنی ہی چھوٹی ہو۔ ان تمام نعمتوں کے لیئے وہ کسی سے کوئی صلہ نہیں مانگتا۔ “مال بھی اسکا ہے دی ہوئی توفیق بھی اسکی ہے“ اس پر وہ صلہ دے بھی رہا ہے۔ اس کے بدلے میں وہ چاہ کیا رہا ہے کہ انسان ہر مرحلے میں دوسرے انسانوں کا خیال رکھے؟ لیکن یہ شرف اسے جبھی حاصل ہو سکتا ہے۔ کہ بندہ اسے اس کی بتائی ہوئی تمام صفات کے ساتھ مالک مانے!اور اس کے عطا کردہ دین کو اپنے اوپرلاگو کرکے اس کی بات مانے۔ پھر یہ وہ تجارت ہے کہ جس میں کبھی گھاٹا نہیں ہے۔
مگر اتنے بہت سے وعدوں کے باوجود انسان اتنا ناشکرا اور کاہل ہے کہ ہمیشہ“ شارٹ کٹ“ کی تلاش میں رہتا ہےاور نتیجہ کے طور پر شرک کا مرتکب ہوتاہے جوکہ قابل ِ معافی نہیں ہے اور ان ٹھگوں کے ہتھے چڑھ جاتا ہے۔ جن کی نظر ہمیشہ بندے کی جیب پر ہوتی ہے؟ اس بدقسمتی کو آپ کیا کہیں گے؟ جبکہ ہر لمحہ آپ اس کے رحم وکرم پر ہیں اور وہ ڈھیل دیئے ہوئے ہے، کیونکہ رحم اس نے اپنے اوپر واجب کرلیا ہے اور وہ فرماتا ہے کہ میں کسی کو عذاب دیکر خوش نہیں ہوتا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY