پاکستان کے نامور براڈ کاسٹر مصطفی علی ہمدانی کی تاریخ پیدائش 29 جولائی 1909 ہے۔
تیرہ اور چودہ اگست 1947کی درمیانی شب، رات کو ٹھیک 12 بجے، جس براڈ کاسٹر کی آواز نے برصغیر کے مسلمانوں کو آزادی کی نوید سنائی اور یہ تاریخی اعلان کیا۔
’’بسم اللہ الرحمن الرحیم، السلام علیکم 13 اور 14 اگست 1947 کی درمیانی شب، رات کے 12 بجے
پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس طلوع صبح آزادی‘‘

مصطفی علی ہمدانی 29 جولائی 1909ء کو موچی دروازہ ، لاہور ، برطانوی ہندوستان (موجودہ پاکستان) میں ایک معزز گھرانے میں پیدا ہوئے. والد کا نام جناب صفدر علی ہمدانی تھا۔ مصطفی ہمدانی کے دادا ایران کے شہر ہمدان سے ہجرت کر کے کوئٹہ میں آباد ہوئے تھے۔1935 میں کوئٹہ کے زلزلے کے بعد اس خاندان میں سے کچھ گھر انے پشاور ہجرت کر گئے اور باقی لاہور آ کر آباد ہوئے ۔ مصطفی ہمدانی کے گھر میں شروع سے فارسی بولنے کا رواج تھا ۔ مصطفی علی ہمدانی نے تعلیم کے ابتدائی مدارج طے کرنے کے بعد اورینٹیل کالج سے اورینٹیل لینگویجیز میں گریجویشن کی ( جو لسان شرقیہ میں مہارت کہلاتی تھی)۔ لسان فہمی کا یہ عالم تھا کہ بشمول انگلش ،اردو ، عربی اور فارسی کے وہ سات زبانوں میں مہارت رکھتے تھے ۔
ناصر قریشی نے اسی کتاب ‘‘یادوں کے پھول‘‘ کے ایک اور باب میں لکھا ہے‘‘1938ء کی بات ہے کہ ہمدانی صاحب نے کسی تقریر کے سلسلے میں ریڈیو لاہور پر نظرکرم کی اسٹیشن ڈائریکٹر نے ان کی آواز سن کر ماہرانہ مگر عاجزانہ انداز میں عرض کیا ’’جناب آپ کی آواز تو بنی ہی ریڈیو کے لیے ہے ‘‘ چنانچہ اگلے سال موصوف ریڈیو میں بطور اناؤنسر رکھ لئے گئے. 1938 میں انہوں نے اس وقت کے آل انڈیا ریڈیو کے لاہور اسٹیشن سے اپنے فنی سفر کا آغاز کیا ۔ 1938 سے 1969 تک مسلسل مائیکروفون کے ذریعے کروڑوں عوام کے دلوں سے رابطہ رکھنے والے مصطفیٰ علی ہمٰدانی 1969 میں ریڈیو پاکستان ، لاہور سے چیف اناؤنسر کی حیثیت سے ریٹائرڈ ہوئے۔ تاہم 1971 کی پاک بھارت جنگ میں جذبہ حب الوطنی نے گھر نہ بیٹھنے دیا اور وہ رضاکارانہ طور پر مائیکروفون پر آ گئے. بعد ازاں اسوقت کے وزیر اطلاعات و نشریات اور انکے بے حد مداح مولانا کوثر نیازی کے بے حد اصرار پر وہ ایک معاہدے کے تحت 1975 تک اناؤنسرز کی تربیت کاکام کرتے رہے ۔
مصطفی ہمدانی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ قیام پاکستان کے بعد ریڈیو پر اردو میں پہلا اعلان آزادی ان کی آواز میں سنا گیا۔ اس اعلان کے الفاظ یہ تھے ۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم، السلام و علیکم13 اور 14 اگست 1947ء کی درمیانی شب، رات کے 12 بجے پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس طلوع صبح آزادی
مصطفی علی ہمدانی محض ایک براڈکاسٹرنہیں بلکہ ایک صحافی ، ادیب اور شاعر کی حیثیت سے بھی جانے جاتے تھے ۔انیس سو تیس کے اواخر عشرے میں انہوں نے لاہور سے اپنا اخبار ” انقلاب ” بھی نکالا تھا۔ جو تقریباً ایک عشرے تک شائع ہوتا رہا۔ سید مصطفی ہمدانی کے خانوادے میں سے بھی زیادہ تر کا تعلق صحافت اور ادب سے رہا ہے ۔ان میں انکے برادرِ نسبتی رضا ہمدانی ، بہنوئی فارغ بخاری شامل ہیں جبکہ ان فرزند صفدر علی ہمدانی نے ان سے ورثہ میں نہ صرف شاعری کو پایا بلکہ صحافت اور براڈ کاسٹنگ کے میدان میں بھی سرگرمِ عمل ہیں ۔

پیاسا ہے محمد کا نواسہ لبِ دریا

لختِ دلِ حیدر و زہرا لبِ دریا

اشرار کے نرغے میں ہے تنہا لبِ دریا

فرزندِ شہِ یثرب و بطحا لبِ دریا

غزل کے اشعار

محبت بحرِ طوفانی ہے جو ساحل نہیں رکھتا

محبت دشتِ بے پایاں ہے جو منزل نہیں رکھتا
محبت اک بگولا ہے جو دشتِ دل سے اٹھتا ہے

محبت پردہِ محمل ہے جو مشکل سے اٹھتا ہے

وفات

مصطفی علی ھمدانی نے 21 اپریل 1980 کو وفات پائی اور انہیں مومن پورہ کے قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا ۔

مصطفی علی ہمدانی سٹوڈیو کا اعلان اورافتتاح

دو اور تین اپریل 2014ء کو پی بی سی کے چیئرمین نظیر سعید اور ڈی جی ثمینہ پرویز کی زیرِ صدارت ایک کانفرنس ریڈیو پاکستان کے ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں منعقد ہوئی ۔جس میں دیگر اہم فیصلوں کے ساتھ سا تھ صدا کاروں کو مصطفی علی ہمدانی ایوارڈز دینے اور ایک سٹوڈیو کو مصطفی علی ہمدانی (مرحوم) کے نام سے منسوب کرنے کا فیصلہ ہوا ۔لہذا 13 اگست 2014 کو محترمہ ثمینہ پرویز نے مصطفی علی ہمدانی اسٹوڈیو کا افتتاح کیا

https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B5%D8%B7%D9%81%DB%8C_%D8%B9%D9%84%DB%8C_%DB%81%D9%85%D8%AF%D8%A7%D9%86%DB%8C

SHARE

2 COMMENTS

  1. Thanks dear Safdar Hamadani for providing a detail of Agha Ji. I remember, I was in the graveyard, where Agha Ji was buried. May Almighty Allah keep the soul of Mustafa Ali Hamadani in peace and comfort. Ameen. Khalid Asghar, former Controller/ Station Director, Radio Pakistan, Lahore. (14 August 2018)

LEAVE A REPLY