محبت کوئی وقتی جذبہ نہیں ، قرۃالعین راٹھور

0
1077

ہمارے یہاں محبت کے رنگ وقت گزرنے کے ساتھ پھیکے کیوں ہوجاتے ہیں؟ محبت کوئی وقتی جذبہ نہیں ہے اور نہ ہی ہمارے ہاں ہر دوسرے شخص کی چار بیویاں ہیں۔ کوئی 20-15 فیصد مردوں نے ایک سے زیادہ شادیاں کی ہونگی۔ کہا جاتا ہے کہ شادی چاہے مرضی کی ہو یا ارینج سال دو سال بعد ایک جیسی ہوجاتی ہے۔ لیکن ہم اس محبت کا کیا کریں جو شادی کے چند سال بعد معدوم ہوجاتی ہے۔

مغربی دنیا میں بوڑھے جوڑوں کی ایک دوسرے کے لئے جان چھڑکتی محبت دیکھ کر ہمیں اکثر حیرت ہوتی ہے۔ وہیل چیئر پر بیٹھی وہ بوڑھی عورت اور اس کی وہیل چیئر کو گھسیٹا اس کا بوڑھا شوہر رک رک کر اسے مختلف چیزیں دکھا رہا ہے، جھک کر مسکرا کر بات کرتا ہوا، بغیر کسی تھکاوٹ یا بیزاری کے اور کبھی باورچی خانے کی کھڑکی سے نظر پڑتی ہے دو بوڑھے ایک ایک ہاتھ میں سٹک اور دوسرے ہاتھ سے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے بمشکل سہارا لیے آہستہ آہستہ چل رہے ہیں، اسی طرح خریداری کر کے آہستہ آہستہ واپس آ رہے ہوتے ہیں۔ ذہن میں سوال اٹھتا ہے مشرقی معاشرے میں عموما بوڑھے جوڑے ایک دوسرے سے بیزار کیوں ہوتے ہیں؟ کئی ایک تو کمرہ الگ کر چکے ہوتے ہیں، پنجاب میں کئی خاندانوں میں عورت بڑھاپے میں گھر کی حکمرانی سنبھال لیتی یے اور بچے بھی ماں کو سر آنکھوں پر بٹھا رہے ہوتے ہیں اور ریٹائرڈ شوہر فالتو سا محسوس ہوتا ہے۔
جبکہ ہمارے ہاں تو رشتے جڑتے ہی ہمیشہ کیلئے ہیں۔ ان کی طرف رشتے اور تعلق جڑتے، ٹوٹتے، پھر نئے بنتے ہیں اور دیرپا صرف وہی چلتے ہیں جہاں حقیقی محبت ہو، وہ محبت کے بغیر رشتوں کا بوجھ نہیں اٹھاتے اور ہم رشتوں کو نبھانے کو اہمیت دیتے ہیں محبت موجود ہے یا نہیں یا کب رشتے کے درمیان سے پھسل کر گم ہو گئی۔ اس کو ہم اہمیت ہی کہاں دیتے ہیں؟

ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں بچوں کی فکر میں والدین ایسے گم ہو جاتے ہیں کہ ان کے درمیان گفتگو صرف بچوں، ان کی تعلیم اور شادی، شادیوں کے اخراجات اور اسکے بعد میں پوتوں اور نواسوں کے علاوہ کوئی موضوع نہیں بچتا۔ کافی حد تک غیر حقیقی، رواجی فکریں، بچوں کو دیر تک بچہ بنائے رکھنا، پھر جہیز اور بری، زیورات ، جائداد ان چکروں میں پڑے رہنا
مغرب میں لوگ کماتے ہیں، پیسہ جمع کرتے ہیں اور چھٹیوں میں خرچ کرتے ہیں، سیر و سیاحت کرتے ہیں، فیملی کو ٹائم دیتے ہیں۔ اور ہم نے اپنے معاشرے میں ایسا رواج بنا لیا ہے کہ ہم ہر وقت پیسہ جمع کرنے کی فکر میں ہوتے ہیں، بچوں کے مستقبل کے بارے میں پریشان ہوتے رہتے ہیں۔

کوئی شک نہیں کہ مشرق کا خاندانی نظام بہت خوبصورت ہے، ہم اپنے بزرگوں کے قدردان ہیں لیکن ان بزرگوں کے درمیان آپسی محبت گزرے ماہ و سال میں کیوزن کیوں کھو جاتی ہے، یا پھر معاشرے کے قبیح رسم و رواج میں۔۔۔۔ یہ وہ معاشرہ ہے جس میں جوان جوڑے کا ایک ساتھ بیٹھنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ جہاں مرد کی تربیت ہی اس طور کی جاتی ہے کہ آنے والی بیوی کو صرف دبانا ہے تاکہ وہ من مانی نہ کرسکے۔ شوہر سرِ عام بیوی کی تعریف نہیں کرسکتا۔ بہت سے خاندان میاں بیوی کے اکٹھا آنے جانے پہ بھی اعتراضات اٹھاتے ہیں۔ اگرچہ کہ حالات بہت بدل چکے ہیں لیکن ہم لوگ ابھی بھی اپنے بیٹوں کے کان بیویوں کیلئے بھرتے ہیں۔ ہم مرد کی تربیت کرتے ہوئے یہ کیوں سمجھاتے ہیں کہ والدین اور بہن بھائی نہیں مل سکتے جبکہ دوسری بیوی تو مل سکتی ہے۔ یہ معاشرے کے وہ ٹیبوز ہیں جن پر ہم توجہ نہیں کرتے۔ ہمارے ہاں نوجوان جوڑوں کی محبت بھی محض بچے پیدا کرنے تک رہ گئی ہے۔ ہم انہیں نہ تو ایسا ماحول دیتے ہیں جہاں ان دو لوگوں کی محبت پنپ سکے اور وہ ایک محبت بھرے گھر کی بنیاد رکھ سکیں۔ دوسرا گھر کا ماحول عورت بناتی ہے، ایک عورت کو اپنے وقت میں ایسے مسائل اور خدشات کا سامنا تھا وہ آنے والی بہو کیلئے راہ ہموار نہیں کرتی بلکہ زندگی اجیرن کرتی ہے۔ بہت کم عورتیں اپنی بہو کی خوبیوں کی معترف ہوتی ہیں۔ ہماری مڈل کلاس ساسوں میں اکثریت بہو کو کام والی اور بچے پیدا کرنے کی مشین سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتیں۔ ہم ایسا ماحول اپنے گھر میں نئی آنے والی لڑکی کو نہیں دیتے اور وہ اس استحصال کا بدلا اولاد کو اپنا ہمنوا بنا کر کرتی ہے جہاں مرد کی موجودگی اس کیلئے بےمعنی ہوجاتی ہے۔ مجھے خود حیرت ہوتی کئی بزرگ جوڑے اکٹھے کھانا نہیں کھاتے۔ الگ کمروں میں سوتے ہیں تو یہ سوچنے پہ مجبور ہوجاتی ہوں کہ انہوں نے بچے کیسے پیدا کئیے؟ اس طرح معاشرے میں پیدا ہونے والا بگاڑ ختم ہونے میں نہیں آتا۔ کہتے ہیں کہ مرد ظالم ہے لیکن اس معاشرے میں عورتیں عورتوں کا استحصال کرتی ہیں۔ اپنے پر ہونے والے ظلم ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل کئیے جاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ایک ہی خاندان کا حصہ ہوتے ہوئے اپنے ہی رشتہ داروں سے نفرت کا بازار گرم ہے۔ اس معاشرے کے دوہرے معیار بن چکے ہیں اپنی بیٹی کیلئے معیار کا پیمانہ الگ ہے اور بہو کیلئے اور۔ بہت سے خاندانوں میں ایسی کھچڑیاں پکنے سے ایک جوڑے کی آپسی محبت محض بچے پیدا کرنے تک رہ گئی ہے۔ بچوں کے بڑے ہوجانے کے بعد وہ محبت بھی کہیں دفن ہوجاتی ہے۔

آجکل کے دور میں دوسری شادی کو جو تقویت دی جارہی ہے اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ مرد کو جہاں زرا سی کسی دوسری عورت سے توجہ ملتی ہے وہ یہ سوچتا ہے کہ میری تو بیوی بھی ہے میرے ساتھ ایسا پہلے کیوں نہ ہوا؟اسے شاید مجھ میں دلچسپی نہیں ہے۔ پہلے دن سے ہی بہو کو اس حد تک دبایا جاتا ہے کہ وہ بول نہ سکے۔ یہانتک کہ شوہر سے بھی اظہارِ محبت نہ کرسکے۔ جوانی کی نسبت بڑھاپے میں میاں بیوی کو ایک دوسرے کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں جوانی تو رشتہ داروں کی بدولت غارت ہوچکی ہوتی ہے، بڑھاپے میں میاں بیوی ایسے اجنبی بن جاتے ہیں جیسے ٹرین کے انتظار میں بیٹھے ہوئے دو مسافر۔ جس کی ٹرین پہلے آئے گی وہ سوار ہوجائےگا۔

اس تمام بحث میں سب سے اہم یہ بات ہے کہ ہمیں اگر اپنے خاندانی نظام کو مضبوط بنانا ہے تو ہمیں عورتوں کی تربیت پر خاص توجہ دینی ہوگی۔ لیکن تربیت سے مراد ہم صرف تعلیمی ڈگری اور گھریلو کام کاج ہی لیتے ہیں۔ معاشرے کا ایک فرد بنانے کیلئے ہم یہ نہیں سمجھاتے کہ چغلی بری بات ہے، کسی کا دل دکھانا اچھی عادت نہیں، کسی کے معاملے میں دخل نہیں دیتے۔ اچھی تربیت والی عورت ہی اپنے بیٹے کی تربیت بہ احسن طریقے سے کرسکتی ہے۔ تبھی شاید ہماری آنے والی نسلیں خاندانی نظام میں پرسکون زندگی گزار سکیں گی

قرۃالعین راٹھور

SHARE

LEAVE A REPLY