زندگی ایسی کتاب ہے جس کے اگلے صفحے پر کیا لکھا ہے کسی کو پتہ نہیں، لیکن یہ سب کو پتہ ہے کہ آخری صفحے پر اَجَل لکھا ہوا ہے ۔جس سے ہم سب اتنے بے فکر اور بے خوف ہیں کہ جو چاہے کرتے ہیں اور جو چاہے کہتے ہیں ۔کیونکہ خوف ختم ہے جواب دہی کا ڈر نہیں ہے، چاہے دنیاوی معاملات ہوں یا دینی معاملات ۔ جس کا جو دل چاہتا کہتا اور لکھتا ہے بغیر یہ سوچے کہ اثر کیا ہوگا ،ایک بھیڑ چال ہے جو ہم سب نے اختیار کر لی ہے ۔یہ سوچنا چھوڑ دیا ہے کہ ہمارے روئیے ،ہمارے کردار کس قسم کی شبیہ بنا رہے ہیں ۔
نہ لیڈر کی بات میں اثر ہے نہ مولوی کی ،نہ تجزیہ نگار کی بات دل میں اُترتی ہے نہ مفکر کی ۔نہ اینکر سچ بولتا نظر آتا ہے نہ خبر دینے والا ۔نہ عدلیہ پر اعتبار رہا نہ فیصلوں پر ۔
جنہوں نے جھوٹ کی دیواریں کھڑی کر دیں ہم نے انہیں سَر آنکھوں پر بٹھا لیا ۔جنہوں نے ہمیں دھوکے دئے ہم نے انہیں اپنا رہبر مان لیا ۔جنہوں نے بے ایمانی کی ہم نے انہیں پھولوں کی پتیوں میں تول دیا ۔جنہوں نے ہماری شناخت چھین لی انہیں ہم نے اپنا نجات دھندہ سمجھ لیا ۔ہم نے ہر اُس چیز کو اپنا لیا جس نے ہم سے ہماری اقدار ،ہماری شناخت،ہماری شرم ،ہماری رواداری ہماری حیثیت ،ہماری حس ،ہماری سوچ ہمارا اخلاق تک چھین لیا ۔لیکن ہم نے آنکھیں بند رکھیں اور جب جاگے تو اب بھی ہم اُن باتوں پر توجہ نہیں دے رہے جو ہمیں یہاں تک لے آئیں ۔
بلکہ ہم اب بھی شخصیتوں کے پیچھے کھڑے ہیں ہاتھ باندھ کر کیا ہم سب ہی قومی مجرم نہیں ہیں جنہوں نے ان شخصیات کو اتنا طاقتور بنا دیا ہے کہ ہم ان کے جھوٹ اور دھوکے کو اب بھی سُںتے اور سَر دُھنتے ہیں ہم اب تک مُردوں کے ساتھ زندہ ہیں اور نہ جانے کب تک ہمیں یہ مادہ پرست ہرکارے اسی طرح قبروں کے ساتھ جوڑے رکھینگے۔
شاید جب تک ہم خود ہی اَن قبروں کو توڑ کر نہیں نکلینگے یہ ہمیں اسی طرح د،م گھونٹ گھونٹ کر مارتے رہینگے اور ہم مرتے رہینگے ۔اس لئے کہ ہم نے وہ حِس کھو دی ہے جسے زندہ قوموں کی روح سمجھا جاتا ہے ۔آج کل جدہر دیکھیں اس حکومت پر تبرہ پڑھا جا رہا ہے کیونکہ بڑی مچھلیوں کے لئے پانی کم ہو گیا ہے اور اُن کا دَم کبھی بھی گُھٹ سکتا ہے ۔لیکن اُن کے بہی خواہ اُن کے ساتھی اب بھی عوام کی آنکھوں میں دُھول جھونکنے کا کام بڑی تندہی سے سَر انجام دے رہے ہیں ۔اُنہیں پارسا ثابت کرنے کی ناکام کوشش بڑی طاقت سے کر رہے ہیں ۔یہ کیسے عوامی نمائندے ہیں جو عوام کا خون چوس گئے اور اب بھی اُن کی جان نہیں چھوڑنا چاہتے ۔اب بھی اپنی گندی سیاست سے اُنہیں ورغلا رہے ہیں کہ ہم صآف ستھرے ہیں ۔ہم نے کچھ نہیں کیا ۔
ایک سندھ کا فیصلہ آیا جو منی لانڈرنگ کے بارے میں تھا ۔کہا جاتا تھا بہت سخت کیس ہے کوئی نہیں بچے گا ،ہمیں نہیں پتہ کیا حقیقت ہے لیکن اتنا ضرور جانتے ہیں کہ اس مقدمے نے ایک جان لی وہ بھی حرام موت یعنی ایک خودکشی ۔پھر سارے دَر بہ دَر ہوئے اور اب فیصلہ آیا ہے کہ سب بے قصور تھے ۔؟؟؟ کیا ہم پوچھ سکتے ہیں کہ اُس خودکشی کا گناہ کس کے سَر ہے ۔اُس خواری کا زمے دار کون ہے جو اس خاندان اور اس کے بہت سے کام کرنے والوں نے بُھگتی ،کیا میری عدالت اُن لوگوں کو سزا دے گی جنہوں نے یہ جھوٹا مقدمہ بنایا ۔کیا کبھی وہ مکروہ چہرے سامنے لائے جا سکینگے جو نہ جانے کس مصلحت کس منافے کے لئے یہ کام کرتے ہیں کہ جھوٹے مقدمے بنا دیتے ہیں ۔پھر سچ اتنے لمبے عرصے بعد کیوں کھلا جب کہ سب کچھ اُس خانادان کا تہس نہس ہوگیا ۔ہمیں کسی سے نہ ہمدردی ہے نہ مخالفت صرف اتنا جاننا چاہتے ہیں کہ کیوں کسی کو سولی پر لٹگا کر عدلیہ بے فکر ہو جاتی ہے ؟؟؟
اور کیوں یہ بے ضمیر پھر بچ جاتے ہیں ۔کیا قانون کی ان تک دسترس نہیں کہ وہ اپنے بنائے ہوئے قانون پر عمل کرا سکے کہ جو بات غلط ہے سب کے لئے غلط ہے پھر وہ وزیرِ اعظم ہو یا صدر ،کوئی مُشیر ہو یا کارندہ ۔لیکن ہم تو چھ چھ ہفتے دیتے ہیں کہ جاؤ جو چاہے سوچ بچار کرو ۔اگر بیماری اتنی ہی شدید تھی تو کیوں فورا` اسپتال داخل نہیں ہوئے ۔ہماری ساری ہمدردیاں سب بڑوں کے ساتھ ہیں پھر تبدیلی کیسی ۔پھر انصاف کیسا ۔پھر سب کے لئے ایک جیسی بات کہاں ؟؟؟؟
اپنی کرپشن اور بد دیانتی کو بچانے کے لئے ایک اور خاندان نکل پڑا اور تازیانہ یہ کہ اُن کی جماعت کے سارے چیدہ چیدہ دماغ جن میں وکیل بھی ہیں اور بڑے بڑے پڑھے لکھے ،کمزور بھی ہیں اور غریب بھی سب ایک لائن میں ہاتھ باندھ کر کھڑے ہیں کہ بھٹو کا نواسہ ہے ،بے نظٰر کابیٹا ہے ،بے نظیر کا شوہر ہے اُس پارٹی کا لیڈر ہے جس کے بنانے والے کے بارے میں کچھ بھی کہو کرپٹ نہیں کہا جا سکتا ۔لیکن یہ رشتے کس طرح اُس کے کام کو پا مال کر تے آئے ہیں وہ سندھ کی صورتِ حال دیکھ کر واضح ہو جاتا ہے ۔غصے میں جو چاہے کہتے ہیں ،یہ لاتیں اگر اُن بینکوں کے لاکرز پر اور اکاؤنٹس پر مار لی جائیں جن پر ہر طرف بے نامی لکھا ہے تو شاید بلاول کو کچھ بھی کہنے کی ضرورت نہ پڑے خود ہی پتہ چل جائے کہ کتنے معصوم اور ایماندار ہیں ۔بلاول صاحب آپ کا تو سارا خرچہ ہی ان اکاؤنٹس سے چل رہا ہے ۔جو غریبوں کے نام ہے کیونکہ ہم نے اب تک تو سُنا نہیں کہ آپ کا زریعئہ معاش کیا ہے ؟کیونکہ آپ کو تو سب کچھ وراثت میں ملا ہے ۔اور آپ کے والد محترم تو ورثے سے صدر بھی بن گئے تھے ۔لیکن یہ سارا ورثہ جمع کہاں سے ہوا اسی ملک سے ،ان ہی ہاریوں اور غریبوں کے پیسوں سے ،ان ہی کی خون پسینے کی کمائی سے جنہیں آج بھی آپ صرف اور صرف بھٹو کی برسی کے لئے استعمال کرتے ہیں اور اب شاید کچھ اور فائدہ ہو جائے جب یہ سارے بقول زرداری صاحب کے سڑکوں پر لیٹینگے ۔
ویسے ہماری ایک آفر ہے اگر زرداری صاحب اور بلاول صاحب دو دن کے لئے گرم اور سخت زمین پر لیٹ جائیں توہم مان جائینگے کہ واقعئی غریبوں کے ہمدرد ہیں ۔کہنے کو کیا ہے کچھ بھی کہہ دو کہ عوام کی یاد داشت تو بس دو منٹ کی ہے شاید مچھلی کی طرح ۔لیکن نہیں اب عوام با شعور ہے لیکن کچھ لوگ اب بھی کمزور ہیں اپنی سوچ کا اظہار نہیں کر پاتے ۔کاش ہم سانپوں کو دودھ پلانا چھوڑ دیں ۔ کاش ہم بے ایمانی کو راہ دینا ختم کر دیں ۔کاش ہم لوٹنے والوں کی عزت کرنا چھوڑ دیں ۔کاش ہم دغا بازوں کو آئینہ دکھا سکیں ۔کاش ہم ہمت پیدا کر لیں کہ اب کوئی بھی ملک سے بے ایمانی کرے گا تو بخشا نہیں جائیگا ۔لیکن نہ جانے کیوں ہم کمزور پڑ جاتے ہیں اور اب بھی ہمیں ڈر ہے کہ ہم شاید ہی کسی بڑے کو سزا دے سکیں جیسے دنیا کے مہزب ممالک بے ایمانی پر سخت سے سخت ہاتھ رکھتے ہیں ۔جب ہی آگے بڑھتے ہیں ۔
بھتو کی برسی پر جو کچھ کہا گیا نتائج کیا ہونگے ہمیں نہیں پتہ مگر اتنا ضرور جانتے ہیں کہ ۔۔
مر رہے ہیں تھر میں بچے لیکن بھٹو ذندہ ہے
کچرا بھری کراچی کی سڑکیں لیکن بھٹو ذندہ ہے
جاہل سارے سندھ کے بچے لیکن بھٹو ذندہ ہے
جَل گئے سارے باغ بغیچے لیکن بھٹو ذندہ ہے
کل بھی بھٹو ذندہ تھا اور آج بھی بھٹو ذندہ ہے
کل بھی ہم سب مرتے تھے اور آج بھی ہم سب مرتے ہیں
کاش یہ لوگ خود بھی زندہ رہیں اور ہمیں بھی زندہ رہنے دیں ۔اب قبروں کا احترام کریں انہیں اپنے بچانے کے لئے استعمال نہ کریں ۔

SHARE

LEAVE A REPLY