حکیم میرغلام الحسنین کنتوری،،،ڈاکٹر سید علی عباس شاہ

0
2286

سیدنا امام موسیٰ کاظم کے جلیل القدر فرزندأبِيْ الْقاسِمْ حمزہ کی اولاد ِاطہار میں سے سادات ِموسویہ کاظمیہ مختلف ادوار میں وارد ِہند ہوئے اورخداداد فضل وکمال کے باعث سندھ طاس کی سرزمین پر جاوداں نقوش ثبت کیے۔سید ابوالقاسم حمزہ کی اولاد میں سے دسویں پشت میں سید ابوطالب شرف الدین ’سَیِّدُ الأشْرَفْ‘ معروف ہیں۔ آٹھویں صدی ہجری میں اپنے خانوادے کے ہمراہ نیشاپور سے ہندوستان تشریف لائے۔آپ کے ایک فرزند ’ألغ خان سلطان محمدشاہ بن غیاث الدین تغلق‘کے عہد میں سپاہ میں شامل ہوئے اور کامرانی حاصل کرتے دربار شاہی سے وابستہ ہو کر حاکم کے مقرب ہوگئے۔سیاسی بازیگروں نے آپ کی ترقی اور منزلت سے خائف ہو کر’عجائب الخلائق فرمانروا‘کو ان سے بدظن کر دیا۔ چغل خوری کے باعث محمد شاہ تغلق نے انہیں شہید کروا دیا لیکن جلد ہی حقیقت جان کر معذرت خواہ ہوا اور آپ کے والد کو دریائے گھاگھرا کے اطراف نوسومواضع پر مشتمل جاگیر پیش کی جس میں آپ دریا کے مغربی کنارے پر آباد قصبے کِنتُوْر(مہابھارت کے مرکزی کردار راجہ پانڈوْکی ملکہ کُنْتِيْ کے نام پر آباد جس کا پرانانام کُنْتاپُوْر تھا۔لکھنؤ سے ۲۶۰کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے۔) میں قیام فرماہوئے۔بیٹے کی شہادت کے بعد آپ گوشہ نشیں ہوکر عبادت میں منہمک ہوگئے اور ادعیہ ومناجات میں وقت گزارتے تھے۔صاحب ِکشف و کرامات ہوئے۔ آپ کا مزار ِپرانوار کنتور میں مرجع خلائق ہے۔ آپ کے دوسرے فرزند عزالدین محمد کی زوجہ نیشاپور سے ان کے ہمراہ آئی تھیں۔کِنتُورْمیں قیام کے بعد ان کے ہاں ابومظفر علاء الدین حسین کی ولادت کے بعدیہ خاندان کِنْتُورِي کہلایا۔اسی خانوادے میں نابغہ ء دہر حکیم میر غلام الحسنین کنتوري ۱۷ربیع الاول ۱۲۴۷ھ میں پیداہوئے۔آپ نے قرآن ِکریم کی ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی اور ۱۲۵۴ھ میں لکھنؤ آئے اور شاہان ِاودھ کے زیر اہتمام مدرسے میں مبادیات سے بہرہ مند ہوئے۔۱۲۶۲ھ میں آپ نے پندرہ برس کی عمر میں مفتی محمد قلی موسوی نیشاپوری کی دختر سے عقد کیا۔
مفتی سید محمد قُلِيْ نیشاپوری بن سید محمد حسین معروف بالسید أللّہ کرم بن سید حامد حسین بن سید زین العابدین بن سید محمد معروف بالسید البولاقي بن سید محمد بن سید حسین بن سید حسین بن سید جعفر بن سید علی بن سیدکبیرالدین بن سید شمس الدین بن سید جمال الدین بن سید شہاب الدین أبيمظفرالحسین ملقب بسید السادات والمعروف بالسید علاء الدین أعلی بزرگ بن سید محمد معروف بالسید عز الدین بن سید شرف الدین أبي طالب مشہور بالسید الأشرف بن السید محمد ملقب بالمہدي معروف بالسید محمد ألمحروق بن حمزہ بن علی بن أبيمحمد بن جعفر بن مہدی بن أبي طالب بن علی بن حمزہ بن أبي القاسم حمزۃ إبن الإمام أبي إبراہیم موسیٰ الکاظم؛ سیدناامام موسیٰ کاظم کی پچیسویں پشت میں ۵ذی قعد۱۱۸۸ھ، ۱۷۷۴ء میں ممتاز عالم دین سید محمد حسین کے ہاں متولد ہوئے۔سید غفرانمآب کے شاگرد ِرشید،میرٹھ میں قاضی القضاۃرہے۔ آپ کے تین صاحبزادے حکیم سید سراج حسین ’صاحب ِرسالہ در مخروطات‘، سید اعجاز حسین ’صاحب ِ کشف الحجبو شذور العقیان في تراجم الاعیاناورسید میر حامد حسین ’صاحب ِ عبقات الانوار‘شہرۂ دوام کے حامل ہیں۔صاحب ِطعن الرماح والضربۃ الحیدریہ سید محمد نقوی نصیر آبادی آپ کے تلامذہ میں سے تھے۔سید محمد قلی نیشاپوری نے علمی آثار سے ِبرصغیر کونوازا۔آپ کی بیس سے زائد گرانقدر تحقیقی کتب علمی حلقوں میں مقبول ہیں۔لکھنؤ میں آپ کا کتب خانہ علمی نوادر اور مخطوطات کے باعث بین الاقوامی شہرت کا حامل ہے جس میں آپ کے فرزند میر حامد حسین اور پوتے سید ناصر حسین نے خاطر خواہ اضافہ کیا جس کے باعث اسے ناصریہ کتب خانہ کہا جاتاہے۔اواخر ِحیات میں لکھنؤ واپس تشریف لائے اور ۸۴ سال کی عمر میں ۹محرم الحرام ۱۲۶۸ھ میں واصل بحق ہوئے اور اپنے تعمیر کیے گئے امام بارگاہ میں دفن کیے گئے۔
میر حکیم غلام الحسنین کنتوری
کمال الدین حسین ہمدانی اصول طب صفحہ۲۶ پرلکھتے ہیں؛
’علم طب بھی چونکہ شیخ الرئیسبوعلی سینا کے بعد سینکڑوں برس تک حدود ِقدامت تک محدود رہالہٰذافرسودگی کے آثار اس پر طاری ہوئے اور اسی بنا پر جدید علوم کی روشنی میں اس علم کی تجدید ناگزیر تھی،چنانچہ مسیح الملک حکیم محمد اجمل خاں صاحب نے اس ضرورت کوشدت کے ساتھ محسوس کیا اور اطبائے کرام کو تجدید ِطب کی جانب متوجہ فرمایا اور ایک مجلس ِتحقیقات ۲جولائی ۱۹۲۶ء کوقائم فرمائی جو علم طب کے ارکان اربعہ،مسیح الملک حکیم محمد اجمل خاں صاحب،ڈاکٹر فضل الرحمان صاحب،صدر الاطباء حکیم محمدالیاس خاں صاحب اور علامہ حکیم محمد کبیر الدین صاحب پر مشتمل تھی،اس ادارے کی سعی سے نظریہ تجدیدطب کے مطابق پہلی کتاب ’قانون ِعصری‘ معرض ِوجود میں آئی۔مذکورہ ادارے کے ارکان کے علاوہ علامہ حکیم مولوی سید غلام حسنین کنتوري، رئیس الاطباء حکیم محمد حسن قرشی،شفاء الملک حکیم عبداللطیف فلسفی،علامہ حکیم محمد کبیر الدین اورحکیم خواجہ رضوان احمدنے مستند طبی کتب اور گرانقدر مقالات کے ذریعے طب ِیونانی کو جدید انداز پہ پیش کرکے نظریہ تجدید ِطب کے مطابق تصنیف وتالیف سے دلچسپی رکھنے والے اطباء کے لیے نئی راہیں پیدا کیں۔‘
علی گڑھ یونیورسٹی شعبہ فارسی کے ممتاز محقق ودانشور جناب نبی ہادی Dictionary of Indo-Persian Literature کے صفحہ ۱۹۸ پرلکھتے ہیں؛
Ghulam Hasanain, ‘Allamah Kanturi (d.1337/1918) lived in Lucknow and was known by the title mentioned above, due to his versatile qualities as a scholar. Religious learning apart, he was an excellent physician and pharmacologist, and also, tried his hand at alchemy. His place of birth was Kantur, a town in the district of Barabanki, Awadh. In boyhood days, when a student in Lucknow, he witnessed the reign of Wajid ‘Ali Shah and the subsequent transition, the so called Mutiny of 1857. One of his teachers was the famous theologian, Miran Saheb, Maulawi Saiyed Husain, son of Ghufran Ma’ab. The latter’s grandson, Maulawi Muhammad Taqi, also took interest in promoting Ghulam Hasanain ‘s career. Therulers of Awadh being powerful agents of culture infused the entire society around them with their taste. Music, otherwise forbidden ·in Islam, was ardently patronized by them; and, notwithstanding their piety, the religious classes also responded to its charm. ‘Allamah Kanturi, commanding the position of a Mujtahid = religious dignitary, was supposed to have attained perfection in that field before turning to serious studies. His superior, Maulawi Saiyed Muhammad, whom Amjad ‘Ali Shah made Chief Mufti = judicial authority, of his kingdom, also possessed the knowledge of classical music and quite often discussed the subject with professional masters. It must be interesting to note that the dancing girl, Haidar Jan, who acquired fame as “Nightingale of Lucknow”, had been trained in the art of singing by the pious scholar and reciter of the Qur’an, Mirza Jan ‘Azimabadi. The latter, like ‘Allamah Kanturi, was a favourite pupil of the above-named Miran Saheb, ‘Allamah Kanturi left many works to his credit. He was the earliest scholar to make full-length translation of Avicenna’s al-Qanun into Urdu. Among his Persian
works concerning medicine was: Tarjumah-i-Tashkhis-i-jalinus.

SHARE

LEAVE A REPLY