اسلام اور والدین کے حقوق(50)۔۔شمس جیلانی

0
114

ہم تسلسل کے ساتھ حقوق العباد پر بات کر تے ہو ئے گھر ،بیوی بچوں اور ہمسایوں کے حقوق تک پہنچے تھے کہ پاکستان میں انتخابات شروع ہوگئے۔ کیونکہ سچائی یہ ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے کسی بھی معاملہ ہمیں بغیر ہدایت کے نہیں چھوڑا ہے؟ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ تمام مساجد کے لاوڈ اسپیکرانتخابات کے دوران پاکستانیوں کو ہدایت دینے کے لیے وقف ہوجاتے اور علماء یکسو ہوکر ملت کی اس سلسلہ میں رہنمائی فرماتے کہ مسلمانوں کووٹ دیتے ہوئے امیدوارں میں تقویٰ دیکھنا ہےاور صادق اور مین اس کے لیے شرط ہے؟ کیونکہ پاکستان خیر سے اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے اورآبادی بھی نوے فیصد سے زیادہ مسلمان ہے؟ مگرعلماء ٹکڑیوں میں بٹے رہے کوئی اس پارٹی میں تو کوئی اس پارٹی میں اور جو ان کا اتحاد بنا وہ بھی مختلف فرقوں پر مشتمل تھا لہذا وہ انہیں ہدایت دینے کے قابل نہیں ہوسکا اور وہ چارسو سے زیادہ کے ایوان میں صرف گیارہ نشتیں ایونِ زیریں میں لے سکا۔ اور س اتحاد کے باہر کے علماء نے حسب رواج اس مسئلہ کو اس لیے درخور ِاعتنانہیں سمجھا کہ وہ مسجد میں سیاسی بات کرنا گناہ سمجھتے ہیں جبکہ مسلمان کا کوئی فعل دین سے باہر نہیں ہے۔ جو کچھ دین کے تابع ہو تو وہ کرنا ثواب ہے ورنہ نہیں؟ جبکہ حضور (ص) کے زمانے میں سب کام مسجد میں ہی زیر بحث آتے تھے اور انجام پاتے تھے چاہیں وہ مقامی مسائل ہوں، بین القوامی مسائل ہوں یا مقدمات ہوں ؟ کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ “پورے پورے دین میں داخل ہوجاؤ“ وہ زندگی کے کسی بھی شعبے میں مومن کو استثنیٰ نہیں دیتا کہ یہاں اوروں کے قوانیں یا رواج پر چلو اور جب تمہاراجی چاہے اسلام پر چلو؟ اس سے استثنیٰ صرف بصورتِ معذوری ہے اور معذوری مجبوری سے مشروط ہے؟لہذ میں نے ا پنا فرض سمجھتے ہوئے اس مضمون پر معتدد کالم لکھے جن کو عوام نے پسند بھی کیا،الحمدللہ نتائج بھی خاطر خواہ نکلے؟ جس کی تفصیل آپ لوگ سب جانتے ہیں۔ کہ تحریک اِ نصاف کیا آئی کہ اب وہ بھی غریبوں کی بات کرنے لگے ہیں جوکہ ان کو پنا غلام سمجھتے تھے اور انہیں منہ لگانا بھی پسند نہیں کرتے تھے۔
جیسے کہ میں پہلے عرض کرچکا ہوں کہ اس سے پہلے ہم گھر سے شروع ہوکر بیوی بچوں کے حقوق بیان کرتے ہوئے ہمسایو ں تک پہونچ تھے۔ اب آگے بڑھتے ہیں۔ وہ ہیں والدین کے حقوق جن کے بارے میں مسلمانوں کو بہت کم معلومات ہیں؟ یہ ہی وجہ ہے کہ بوڑھے ماں باپ کی حالت اسلامی کہلانے والے ملکوں میں سب سے زیادہ نا گفتبہ ہے۔ ان کی حالت جو کوئی دیکھنا چاہے وہ ایدھی سنیرز ہوم جاکر دیکھ لے ؟ کہ اولاد کوجن کے چہرے مسکراکردیکھنے پر حضور(ص) نے لاتعداد عمروں کی بشارت دی ہے وہ خود اپنے بچوں کی زیارت کے لیئے تڑپتے ہوئے مر جاتے ہیں اورا نہیں ان کی زیارت نصیب نہیں ہوتی؟ جبکہ ا للہ سبحانہ تعالیٰ نے بہت سی جگہ اپنے حقوق کے فوراً بعد والدین کے حقوق کا ذکر فرمایا ہے لیکن ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہم اللہ کی بات ہی نہیں مانتے ہیں، نہ رسول (ص) کی باتیں مانتے ہیں جبکہ حضرت علی کرم وجہہ کا ارشاد گرامی یہ ہے کہ“ عمل کے بغیر ایمان کوئی چیز نہیں ہے اور ایمان کے بغیر عمل کوئی چیز نہیں ہے۔ یہاں میں صرف سورہ الاسراکی آیت نمبر 23 سے 30 تک کا ذکر کرتا ہوں۔ جہاں کے والدین حقوق کا ذکر بہت تفصیل سے ہے اور مفسرین نے بھی اس پر بڑی تفصیل سے بات کی ہے۔ اب پہلے آیت نمبر23 اور 24 کا اردوترجمہ پیشِ خدمت ہےکہ۔“ تیرا پروردگارصاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تو اس کے سواکسی اور کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک اور احسان کرنا اگر تیری موجود گی میں ا ن میں سے ایک یادونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے ہوں نہ کرنا! نہ ہی ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب اور احترام سے بات کرنا(23) اور عاجزی اور محبت کے ساتھ تواضع کابازو پست کیئے رہنا اور دعاکرتے رہنا اے میرے پروردگار ان پر (توبھی) ایسا ہی رحم کرنا جیسے کہ مجھے بچپن میں انہوں نے پرورش کیا ہے(24) ۔ یہاں پہلے اللہ سبحانہ تعالیٰ اپنے حقوق یا دلاتا ہے کہ دیکھو صرف میرا ہی حکم ماننا اور کسی دوسرے کاحکم نہیں۔ اور میرا حکم یہ ہے کہ والدہ یا والد یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں توان کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آنا ان کے سامنے اُف تک نہیں کرنا؟ہمیشہ انکساری اور تواضع سے پیش آنا !اور دوسری آیت کے شروع میں مزید زور دینے کے لیے وہی الفاظ پھر دہرائے ہیں کہ (ان کے سامنے) عاجزی اور محبت کا اظہار کرنا اور دستہ بستہ رہنا اور ان کے لیے دعاکرنا کہ جسطرح انہوں نے میں میری پرورش کی ہے (تو بھی اسی طرح ) ان پر مہربانی فرما۔ اب اس کے بعد احادیث کا ایک طویل سلسلہ ہے ان میں سے چند میں یہاں پیش کرتا ہوں۔ پہلی وہ حدیث ہے جس کی طرف میں نے شروع میں اشارہ کیا ہے کہ“ حضور (ص)نے فرمایا کہ والدین کی طرف ایک مرتبہ مسکراکر دیکھنا پچاس عمروں کے برابر ہے۔ صحابہ کرام ؓ نے پوچھا کہ چاہیں دن میں کتنی ہی مرتبہ ہم ایسا کریں؟ حضور(ص )نے جواب میں فرمایا نعم !(ہاں)۔ اس کے بعد اسلام میں جہاد کابڑا ثواب ہے ۔ ایک شخص حضور (ص) کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میں آپ کی خدمت میں یہ خوشخبری لیکر حاضر ہوا ہوں کہ میں اپنی بقیہ زندگی جہاد میں صرف کرونگا؟ حضور (ص) نے اس سے پوچھا کہ کیا تیری ماں ہے؟ اس نے کہا کہ ہاں! تو حضور (ص) فرمایا توواپس گھر چلا جا اور اس کی خدمت کر؟ ماں کے سلسلہ میں ایک اور حدیث بھی ہے کہ ایک شخص اپنی ماں کو کندھے پربٹھا کر طواف کرا رہا تھا۔ حضور (ص) کو دیکھا تو پوچھا کہ اب کیا اس کے حقوق سے میں فارغ ہوگیا ہوں؟ توحضور (ص) نے فرمایا کے ایک“ شمہ“ کے برابر بھی نہیں ! اور یہ حدیث تو بہت ہی مشہور ہے کہ “ ماں کے قدمو کے نیچے جنت ہے۔“اب حدیث باپ کے بارے میں پیشِ خدمت ہے کہً ایک شخص اپنے باپ کی شکایت لیکر آیا کہ میرا باپ میری ہر چیز پر قبضہ کرلیتا ہے ؟ تو حضور(ص) نے فرمایا کہ “ تیری ہر چیز تیرے باپ کی ہے اور توبھی اسی کا ہے“( باقی آئندہ )

SHARE

LEAVE A REPLY