بھارت کے ایوانِ زیریں لوک سبھا کے انتخابات میں پانچویں مرحلے میں 20 مئی کو 9 ریاستوں کے 49 حلقوں میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔ اس مرحلے میں بہار، اتر پردیش، مغربی بنگال اور مہاراشٹر میں کئی اہم حلقے شامل ہیں جن میں رائے بریلی، امیٹھی اور بارہمولہ بھی شامل ہیں۔
ریاست اتر پردیش کے فیض آباد حلقے میں بھی پولنگ ہو گی جہاں ایودھیا شہر واقع ہے اور جو حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی سیاست کا مرکز رہا ہے۔
حکمراں جماعت ’بھارتیہ جنتا پارٹی‘ (بی جے پی) نے 2019 میں ان میں سے 32 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ اس بار وہ ان میں سے 40 پر اور کانگریس 18 پر الیکشن لڑ رہی ہے اورباقی نشستیں حلیف پارٹیوں کے لیے چھوڑ دی ہیں۔
پانچویں مرحلے میں اترپردیش میں 14، مہاراشٹر میں 13، مغربی بنگال میں سات، بہار اور اڑیسہ میں پانچ پانچ جھارکھنڈ میں تین اور جموں و کشمیر میں ایک حلقے میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔
تاحال 379 حلقوں میں ووٹ ڈالے جا چکے ہیں۔ پہلے اور دوسرے مرحلے میں 19 اور 26 اپریل کو جب کہ تیسرے اور چوتھے مرحلے میں سات اور 13 مئی کو پولنگ ہوئی تھی۔
چھٹے مرحلے میں 25 مئی کو اور ساتویں اور آخری مرحلے میں یکم جون کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔
چار جون کو ووٹوں کی گنتی اور نتائج کا اعلان ہوگا۔
پانچویں مرحلے کے قابلِ ذکر امیدواروں میں اترپردیش کے رائے بریلی سے کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی، امیٹھی سے مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی اور بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے حلقے بارہمولہ سے نیشنل کانفرنس کے عمر عبد اللہ شامل ہیں۔ راہل گاندھی کیرالہ کے وایناڈ سے بھی الیکشن لڑ رہے ہیں۔ وہاں 26 اپریل کو ووٹ ڈالے جا چکے ہیں۔
رائے بریلی کانگریس کی سینئر رہنما سونیا گاندھی اور امیٹھی راہل گاندھی کے حلقے رہے ہیں۔ سونیا نے خرابیٴ صحت کی وجہ سے انتخابی سیاست سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔ وہ راجستھان سے راجیہ سبھا رکن منتخب ہو چکی ہیں۔ راہل گاندھی کو 2019 میں بی جے پی کی اسمرتی ایرانی نے شکست دی تھی۔
رائے بریلی سے راہل گاندھی کی جیت کے قوی امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ ہفتے کو انتخابی مہم کے خاتمے سے قبل سونیا گاندھی نے وہاں ایک عوامی جلسے سے خطاب کیا اور رائے بریلی کے عوام سے کہا کہ وہ اپنا بیٹا انہیں سونپ رہی ہیں۔
اس بار امیٹھی سے بی جے پی نے پھر اسمرتی ایرانی کو میدان میں اتارا ہے جب کہ کانگریس کی جانب سے سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کے ایک قریبی معاون کے ایل شرما کو میدان میں اتارا گیا ہے۔
امیٹھی میں بی جے پی اور کانگریس دونوں نے پوری بھر پور مہم چلائی ہے۔ پرینکا گاندھی نے امیٹھی کی انتخابی مہم کی کمان سنبھال رکھی تھی۔ دونوں پارٹیوں نے اپنی اپنی جیت کے دعوے کیے ہیں۔
لکھنؤ سابق وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپٹی کا حلقہ ہوا کرتا تھا۔ وہاں سے موجودہ وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ لڑ رہے ہیں۔ اس بار ان کا مقابلہ سماجوادی پارٹی (ایس پی) کے روی داس مہروترا اور بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے سرور ملک سے ہے۔
پانچویں مرحلے میں اترپردیش کے قیصر گنج میں بھی ووٹ ڈالے جائیں گے۔ یہ حلقہ بی جے پی کے طاقت ور سیاست داں اور ’کشتی فیڈریشن‘ کے سابق صدر برج بھوشن شرن سنگھ کا ہوا کرتا تھا۔ لیکن خاتون پہلوانوں کی جانب سے ان پر جنسی استحصال کے الزام اور ان کے خلاف مہینوں تک چلنے والے دھرنے کی وجہ سے اس بار بی جے پی نے ان کے بیٹے کرن بھوشن سنگھ کو ٹکٹ دیا ہے۔
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے بارہمولہ حلقے سے نیشنل کانفرنس کے عمر عبد اللہ میدان میں ہیں۔ ان کے مقابلے میں پیپلز کانفرنس کے سجاد لون ہیں۔













