Published on: 8 Dec 2017
اٹلی کی پولیس نے ایک چونکا دینے والے واقعے کا انکشاف کیا اور بتایا کہ ایک شخص نے متعفن غار میں خاتون اور اس کے دو بچوں کو یرغمال بنا رکھا تھا۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اطالوی پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ کالابریا کی گورنری جیزیریا میں سامنے آیا ہے۔
مقامی اخبار ’کوری دیلا سیرا‘ کی رپورٹ کے مطابق ایک غار سے ملنے والی 29 سالہ خاتون، اس کا 9 سالہ بچہ اور تین سالہ بچی کی حالت انتہائی ناگفتہ بہہ تھی۔ انہیں ایک ایسی جگہ پر مسلسل دس سال تک یرغمال بنائے رکھا گیا تھا جو عموما ’خوفناک فلموں‘ کے مناظر کی طرح ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ 52 سالہ ایک اطالوی شخص نے رومانیہ سے تعلق رکھنے والی خاتون کی 10 سال قبل عصمت ریزی کی اس کے بعد اسے ایک غار میں بند کردیا۔ غارمیں موجود افراد طویل عرصے تک دنیا اور مافیھا سے الگ تھلگ رہے۔ وہ ایسی زندگی بسر کرتے تھے جو انسانوں کے لیے کسی صورت میں مناسب نہیں۔ اس دوران خاتون کو ہولناک اذیتوں کا نشاہ بنایا جاتا رہا۔ دونوں بچے بھی خاتون کی عصمت ریزی کا نتیجہ تھے۔ خاتون نےان دونوں بچوں کو اسی غار میں جنم دیا۔
اخباری رپورٹ کے مطابق غار میں منتقل کرنے سے قبل ملزم نے خاتون کو پہلے متعدد دیگر مقامات پر بھی یرغمال رکھا اور کئی سال تک اس کے ساتھ بدسلوکی کرتا رہا۔ اخبار کے مطابق پولیس نے ملزم کو حراست میں لے لیا ہے اور اس پر خواتین پر جنسی تشدد کے کئی دوسرے الزامات بھی عاید کیے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے ایک شخص کو ایک بچی کے ساتھ دیکھا جو انتہائی بوسیدہ کپڑے پہنے ہوئے تھی۔ پولیس اس شخص کے پیچھے چلتی رہی یہاں تک وہ دونوں ایک غار میں داخل ہوئے جہاں ایک خاتون زنجیروں میں جکڑی ہوئی تھی
میں مزید پڑھیں
https:/urdu.palinfo.com/7906
جملہ حقوق بحق مرکز اطلاعات فلسطین محفوظ ہیں













