وفاقی وزیرِ داخلہ چودھری احسن اقبال نے دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ حکومت کسی صورت دھرنے والوں کے ناجائز مطالبات کو تسلیم نہیں کرے گی۔ حکومت کے پاس دھرنے والوں کے سامنے سرنڈر کرنے کا کوئی آپشن نہیں ہے۔ آج ان کے مطالبات مان لیے تو مزید لوگ اسلام آباد میں دھرنے دینا شروع ہو جائیں گے۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں احسن اقبال کا کہنا تھا کہ دھرنے والوں کے ناجائز مطالبات ماننے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ قوم کو تقسیم کرنا ختمِ نبوت قانون کے ساتھ دشمنی ہے۔ عوام کو مشتعل کرنے والے اس قانون پر سیاست کر رہے ہیں۔

یہ قانون زاہد حامد نے تیار نہیں کیا تھا بلکہ پارلیمانی کمیٹی نے بنایا تھا۔ وزیر قانون نے ضابطے کے مطابق قانون پیش کیا جو ان کی ذمہ داری تھی۔ وزیر قانون زاہد حامد نے اس قانون کو مزید موثر کر دیا ہے۔ دھرنے والوں کی جانب سے وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے کا مطالبہ کسی صورت تسلیم نہیں کر سکتے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ دھرنا آسمان سے نہیں گرا بلکہ ایک سیاسی ایجنڈے کے تحت ہے۔ اس کا مقصد مسلم لیگ ن کو بریلوی مسلک کے ووٹ بینک کے ساتھ لڑانا ہے تا کہ ہماری جماعت کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ملک میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں دیکھنا چاہتے۔ جائز شکایات پر بات چیت ہو سکتی ہے۔ وزیر قانون کا استعفی محض ان کی ضد ہے۔ دھونس اور دھاندلی کیساتھ اپنی مرضی سے وکٹ گرانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔

SHARE

LEAVE A REPLY