کرونا اور حقوق العباد(80)۔۔۔ شمس جیلانی

0
963

اسلام کا تقاضہ یہ ہے کہ مومن ہمیشہ موت کو یاد رکھے۔کیونکہ کسی کو بھی نہیں پتہ کہ وہ اگلی سانس بھی لے سکے گا یا نہیں؟ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے یقینا یہ سوچ کر کے پورا دن انسان کو دیدیا ہے کہ ہر شام کو ہر فرد اپنا احتساب خود کر لے کہ اس نے آج آنے والے کل کے لیئے کیا آگے بھیجا ہے؟ اگر کچھ نہیں بھیجااور پورا دن برا ئیوں میں گزارا ہے تو وہ گھاٹے میں رہا۔ وہ ہر سانس کے بعد بھی اپنا احتساب کرنے کا حکم دے سکتا تھا کیونکہ وہ اس پر قادر ہے۔مگر اس کے علم میں انسان کی ساری کمزوریاں ہیں مثال کے طور پر کہ اس نے بندے کو جلد باز اور لا لچی بنا یا ہے۔ لہذا ہمیشہ اس کے لیئے وہ آسانیاں خود پیدا کرتا ہے کیونکہ وہ سب پر مہربان ہے؟ اور تمام حکمرانوں اور فرشتوں کو بھی حکم اور موقع دیتا ہے کہ وہ آسانیاں پیدا کریں۔ مشکل نہیں۔ لہذا اس نے سورہ حشر کی آیت نمبر 18 میں ہر ایک کوروز کاروز احتساب کرنے کا فرمایا ہے،ہر سانس پر نہیں۔ تا کہ بندہ اس کی دی ہوئی مہلت سے فا ئدہ اٹھا سکے؟اگر دن میں کوئی غلط کام کیا ہو تو توبہ کر لے؟ یا غلطی کی ہے اور سوتے وقت تک یاد آ جائے تو ایک کم از کم ایک نیکی ہی کرلے تا کہ فرشتوں نے اگر ابھی تک وہ بدی نہ لکھی ہو، تو وہ نہ لکھیں کیونکہ گناہ کی سزاایک ہے جبکہ ہرنیکی کا ثواب کم از کم دس گناہ ہے۔ بشر طِ کہ حقوق العباد کامعاملہ نہ ہو۔اس کے برعکس اگر کسی انسان کے حقوق پامال کیئے ہیں تو وہ اسی سے جا کر معاف کرا نے پڑیں گے جس کے ساتھ برائی کی ہوگی۔ یہ کام جتنی جلدی ہوسکے کرلے ورنہ وہ گناہ، نہ نیکی کر نے سے دور ہوگا نہ توبہ کرنے سے دور ہوگا۔ کیونکہ اس کو وہی معاف کریگا جس کے حقوق کسی بندے نے پامال کیئے ہونگے۔ اس لیئے اس میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہے۔ بعض گناہ ایسے ہیں کہ اگر کوئی بعد میں ازالہ بھی کرنا چا ہے تو نہیں کرسکے گا۔مثلا ً کسی نے ذخیرہ اندوزی کی اس لیئے کہ جب قیمت بڑھ جا ئیگی تب فروخت کرونگا۔ قیمت بڑھی کسی شخص نے وہ زیادہ قیمت فروخت کیا؟ اگر وہ ہزاروں ٹن میں تھا اور لاکھوں ضرورت مندوں کے ہاتھ فروخت کیا؟اب وہ ان کو کہاں تلاش کریگا جن کے ہاتھ یہ فروخت ہوااور کس طرح اپنی توبہ کی قبولیت یقینی بنا ئے گا۔ اسی طرح کم تولنا یا ملاوٹ کی وغیرہ، وغیرہ کا معاملہ ہے۔
مگر ہم اس کوسب سے کم اہمیت دیتے ہیں اہمیت اسی کو دیتے ہیں؟ کیونکہ ہم عبادات صرف اس کو سمجھتے ہیں جو لوگوں کو کرتے ہوئے نظر آئیں؟ جیسے نماز۔ روزہ، زکات،اورحج۔ آپ کہہ سکتے ہیں آپ نے اس میں روزہ شامل کرلیا جو راز ہے اللہ اور بندے کے درمیان، اس کاجواب یہ ہے کہ آپ نہ جانتے ہوئے اس میں ریاکاری کر کے اسے بھی ضائع کر دیتے ہیں۔ جیسے کہ آپ نے فوٹو سیشن منعقد کرالیا تاکہ اخبارو ں اور میڈیا میں تعریف ہو؟ اگر اس کی قدرت نہیں ہے۔ تو خود ہی دن بھر لوگوں سے لڑتے پھرے کہ میں روزے سے ہوں؟اور اس طرح آپ نے اپنے گاڑھے پسینہ کی کمائی کھودی بیکار محنت کی اور حاصل کچھ بھی نہ ہوا۔ کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ صرف اس عمل کوقبول کرتا ہے جس میں کہ خلوص ہو اور خلوص یہ ہے کہ جو نیک عمل بھی کیا ہو وہ خالص اسی کے لیئے کیاہو کوئی دوسری غرض شامل نہ ہو؟ جبکہ اسلام میں عبادت دائیرہ بہت وسیع ہے۔ مختصرا“ یوں سمجھ لیجئے آپ بغیر ہیر پھیر کے اللہ کے قائم کردہ حدود کو تڑے بغیر جہاں بھی اسے خرچ کرہیں اور فضول خرچی بھی نہیں کر رہے ہونگے تو وہ سب عبادت میں شامل ہے۔ چاہیں اپنے اوپر اپنے بیوی بچوں پر خرچ کیا ہو رشتہ داروں پر خرچ کیا ہو۔ البتہ جو رشتہ داروں پر خرچ کیا ہوگااس کا ثواب دو گنا ہے۔ مگر نا واقفیت بنا پر ہم اس کا الٹ کرتے ہیں اور ثواب کی امید بھی رکھتے ہیں۔ اس طرح اس ظلم مرتکب ہو تے ہیں جس کاآ پ کو علم بھی نہیں ہوتا۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہم سب کو اس سے محفوظ رکھے۔ کیونکہ ہم ظلم کے بھی معنی صرف یہ سمجھتے کہ کسی کو مارا پیٹا ہو تو وہ ظلم جبکہ ظلم کی تعریف یہ ہےکہ اگر بشمول اللہ سبحانہ تعالیٰ کسی کے بھی حقوق نہ ادا کرے تو نہ ادا ادا نہ کرنے والا ظالم ہے۔
اس کی روشنی میں دیکھیں گے؟ تو آپ کو بہت آجکل بہت سوں کے حقوق پامال ہوتے ہوئے نظر آئیں گے۔ مثلا ً آجکل لاک ڈاؤن ہے۔ اگر آپکا کوئی پڑوسی بلا تفریق مزہب اور ملت بھو کا سو گیا تو آپ ظلم کے مرتکب ہوگئے۔ جبکہ پڑوس کا اطلاق چاروں طرف، چالیس چالیس گھر تک ہو تا ہے۔ تو آپ کا کھانا حلال کی کمائی کا ہونے کے با وجودوہ آپ پر بھی حرام ہوگیا۔ اسی طرح آپ کے اوپران کے بھی آجکل حقوق لاگو ہیں۔ جوحکومت کے اہلکار ہیں۔ آپ ان کی آنکھ بچا کر یا رشوت دیکر نکل گئے۔خود کو توخطرے میں ڈالا ہی حکومت جو اس وبا پر قابو پانے کی کوشش کر رہی اس میں اس طرح مزاہم ہوئے اس کی وجہ سے جو بھی اموات واقع ہونگی ان کے ذمہ دار آپ بھی ہونگے اور تو آپ ضرور پڑا ہوگا کہ رشوت دینے اور دینے دونوں جہنمی ہیں۔ ویسے بھی معاشرتی ذمہ داریاں پورا کرنا۔ وہ مذہبی ذمہ داریوں کا لازمی حصہ ہیں۔ کیونکہ صرف کلمہ پڑھنے سے یا مسلمان گھرانے میں پیدا ہونے سے کوئی مسلمان نہیں ہوتا جب تک وہ حتیٰ الامکان اپنی ساری ذمہ داریاں پوری نہ کرے۔ (بقیہ آئندہ)

SHARE

LEAVE A REPLY