قائدِ اعظم محمد علی ؒ جناح۔۔۔ از۔۔ شمس جیلانی

0
218

پچیس دسمبر کوحضرت قائدآعظم محمد علی ؒ جناح کایوم پیدائش منارہے ہیں۔ جوکہ ہر سال مناتے ہیں اور ایک ہی سی باتیں سب دہراتے ہیں، حتیٰ کہ سب کو وہ زبانی یاد ہوچکی ہیں۔ مثلاًوہ کہاں پیدا ہوئے وہ کس خاندان سے تھے انہوں نے پاکستان کے لیئے کتنی جدوجہد کی۔ لیکن اس خالق حقیقی کو بھول جاتے ہیں۔ جس نے انہیں اس کام کے لیے پیدا کیا تھا؟ جب وہ کسی کو کسی خاص کام لیے پیدا کرتا ہے تو ویسی ہی اسے صلاحیتیں بھی عطا فرماتا ہے، وہ جس کام کے لیے پیدا کرتا ہے۔ قائد آعظم بھی ان میں سے تھے جن کو اس نے پاکستان بنانے کے لیئے پیدا کیا؟ اور اس کے لیے اپنے منصوبے کے مطابق تمام اسباب بھی پیدا فرمائے۔ یعنی ان سے پہلے یہ ہوا کہ مسلمانو کو بری طرح انگریزوں ہاتھو ں1857ء میں شکست ہو گئی تو سب سر جوڑ کر بیٹھے کہ ہماری شکست کے اسباب کیاہیں اور کیوں ہم ترقی کرتے کرتے ایک دم پستی میں چلے گئے اور سب کچھ کھو بیٹھے؟ سب ایک ہی نتیجہ پر پہونچے کہ اس کی وجہ جہالت ہے۔ اور اسے جب تک دور نہیں کریں گے اسی طرح ذلت سے دو چار ہوتے رہیں گے۔ اس سلسلہ میں دو تحریکیں نمودار ہوئیں ایک مدرسہ علی گڑھ جو اب مسلم یونیورسٹی ہے دوسرا درالعلوم دیوبند۔ گو کہ راستے مختلف تھے مگر منزل ایک تھی کہ جہالت کو دور کرنا ہے۔ ایک کے بانی سرسید ؒ احمد خان تھے جوکہ عوامی چندے سے شروع ہونا تھی جس میں بڑی مشکلات پیش آئیں اور دوسرے کے بانی حضرت امدد اللہ مہاجر مکّی ؒ تھے۔ انہوں نے فوری طور پر اپنی خانقاہ کو مدرسے میں بدل دیا اور طے یہ پایا کہ وہ ہر گاؤں اور شہروں میں مدرسے بنا ئیں گے۔ ابھی وہ تحریک زیادہ آگے نہیں بڑھی تھی کہ ان کے خلاف انگریزی حکومت حرکت میں آگئی اور انہیں ہجرت کرکے مکہ معظمہ جانا پڑ گیا۔ وہ تحریک ان کے خلفاء کے ہاتھوں میں چلی گئی جو عقائد میں ان سے مختلف تھے اورصرف دیوبند تک محدود رہی۔
لیکن اس جاگ کے نتیجہ کے طور پر ہر مسلمان باپ جو ذراسی بھی بصارت رکھتا تھا۔ اپنی اولاد کو تعلیم دلانے کے لیے جدوجہد کرنے لگا؟ انہیں کروڑوں لوگوں میں قائد اعظم (رح) کے بھی والدین بھی تھے۔ جوکہ گجرات کے ایک گاؤں میں سکونت پذیر تھے۔اور کپڑا بنا کرتے تھے ۔ اب وہ اسی کا کاروبار کرنے لگے جس میں ان کے بھائی بھی شریک تھے ۔ یہ تجارت کراچی تک بڑھ گئی۔ کیونکہ سوئز کینال کھلنے کی وجہ سے کراچی بندر گاہ کو اہمیت حاصل ہوگئی دوسرےکھڈی کپڑے کی مانگ مانچسٹر میں بہت بڑھ گئی؟ ان کے والد نے وزیر مینشن میں ایک فلیٹ کرایہ پر لیا تاکہ وہ کراچی سے کپڑاایکسپورٹ کرسکیں؟ ان کے بھائی کے تعلقات میکنزی شپنگ کمپنی کے جنرل منیجر سے ہو گئے اور انہیں قائد اعظم کولندن بیرسٹری کی تعلیم کے لیے بھیجنا آسان ہو گیا۔ورنہ اس دور میں کسی متوسط خاندان آدمی کا وہاں پہونچنا ہی ممکن نہ تھا۔ صرف والیان ریاست یا اعلیٰ طبقہ کے لوگ وہاں جایا کرتے تھے۔ کسی متوسط ہندو ستانی کا وہا ں جانا اور تعلیم حاصل کرنا بہت دور کی بات تھی۔ مگر مشیت ایزدی تھی کہ اس نے سب کچھ آسان کر دیا۔ جب وہ کامیاب اور کامراں وہاں سے واپس آئے تو یہاں کوئی مسلمانوں کی سیاسی جماعت ہی نہ تھی اس لیے ان کے پاس کوئی چارہ نہ تھا۔ سوائے اس کے کہ وہ کانگریس میں شامل ہو جائیں ۔جس پر پارسی چھائے ہو ئے تھے۔ ا نہوں نے ان سے تعلقات بڑھائے اور انہیں ہی میں شادی بھی کرلی۔اس طرح ان کو جلد ہی ہندو ستان گیر شہرت حاصل ہو گئی کیونکہ خدادا صلاحیت ان کے پاس پہلے ہی سے تھی۔
1905 ء میں مغربی بنگال سے علیٰحدہ کرکے, مشرقی بنگال کو صوبہ بنا دیا گیا, جس میں مسلم اکثریت تھی۔ یہ بات ہندو اکثریت کو بہت گراں گزری اور اس کی مخالفت میں طوفان اٹھ کھڑا ہو۔ وہاں کے مسلمانوں کی نگاہیں پہلی مرتبہ بقیہ ہندوستان کے مسلمانوں کی طرف مدد کے لیے اٹھنے لگیں اور علی گڑھ مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی پر نگاہ ٹھہری ۔ اور اس سلسلہ میں1906 ء میں ڈھاکہ میں اس کا اجلاس ہوا جو کہ مسلم لیگ کے قیام پر ختم ہوا اور سر آغا خاں اس کے پہلے صدر بنے ۔ اس وقت قائد اعظم سفیرا تحاد کے طور پر پہچانے جا تے تھے اور کانگریس میں انکی پوزیشن بہت مضبوط تھی۔ لہذا وہ فوری طور پر مسلم لیگ میں شامل نہیں ہوئے؟ جبکہ مسلمانوں کی خواہش تھی کہ وہ بھی مسلم لیگ میں شامل ہوجائیں؟پھر ایک وقت ایسا آیا کہ مسلمان دعائیں مانگنے کہ وہ مسلم لیگ میں شامل ہو جائیں، دعائیں بر آئیں؟ کیونکہ کانگریس پراب گاندھی جی افریقہ سے آکر صرف قابض ہی نہیں ہو چکے تھے۔ بلکہ اپنی آشرم تحریک کے ذریعہ وہ مہاتما بن چکے تھے۔ جبکہ مسلمان مہاتما نہیں بن سکتا تھا۔ یہ تھا قدرت کا منصوبہ جس سے قائد اعظم مجبور ہوگئے۔ اور پوری طرح مسلمانوں کی آنکھ کاتارا بن گئے۔ اپنی پوری صلاحتیں جو کہ اللہ تعالیٰ نے انہوں نے ودیعت فرمائی تھیں ان کو صرف مسلم مفادات میں روبکار لانے لگے؟ ایک مرحلہ ایسا بھی آیا کہ کیبنٹ مشن کے ذریعہ ہندو مسلم معاملات طے پاگئے اور یہ طے پایا کہ کچھ مراعات کے عیوض پاکستان کے مطالبہ سے مسلمان دستبردار ہو جائیں گے؟ اور قائد آعظم نے ریڈیو پر اعلان بھی کردیا کہ “میں قوم کو جو زیادہ سے زیادہ لیکر دے سکتا تھا وہ میں نے لیکر دیدیا اب ہم ساتھ رہیں گے؟ ابھی اس معاہدے کی سیاہی خشک بھی نہیں تھی کہ پنڈت نہرو کانگریس کے صدر بن گئے اورا نہوں نے اپنی پہلی ہی پریس کانفرنس میں فرمادیا کہ“ کیسا معاہدہ اور کا ئے کا معاہدہ یہ تو آنے والی پاارلیمنٹ طے کریگی کہ ہمارا دستور کیسا ہوگا اور کیا ہوگا“ یہ وہ وار تھا کہ ا تحاد کا خواب چکنا چور ہوگیا۔
کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ مسلمانوں کو ایک ریاست عطا فرماناچاہتا تھا۔ اور ان کے اس دعوے کو آزمانہ چاہتا تھا جو مسلمان 1857 ء کی شکست کے بعد سے بار بار دہرا رہے تھے۔ کہ “تواگر ہمیں دوبارہ ریاست فرمادے تو ا س میں ہم تیرا نام بلند کریں گے“ اس نے حالات ایسے پیدا کر دیئے کہ نہرو کہنے لگے کہ ہم پاکستان بنا ناچاہتے ہیں ؟ا للہ سبحانہ تعالیٰ نے اس کے قیام کے لیئے راتوں میں سب سے مقدس رات یعنی رمضان مبارک کی 27 ستا ئیسویں شب ۔ پاکستان بنا دیا ؟ قائد اعظم کے نزدیک اب سب سے اہم کام جوتھا وہ اس ریاست کا دستور تھا ۔لہذا نہوں نے پہلی پارلیمنٹ کا نام ہی دستور ساز اسمبلی رکھا اور اس کی صدارت بھی اپنے پاس ہی رکھی ،مگر زندگی نے وفا نہ کی وہ بیمار ہو گئے۔ تربت جیسے دور راز مقام پر انہیں منتقل کردیا گیا؟ وہ دستور نہ بنا سکے ؟ جس کی بات انہوں نے اس کے بعد کی تھی جب کانگریس نے بہت پہلے دستور ساز کمیٹی بنا ئی تھی تو ان کے سامنے مولانا شبیر احمد (رح) تتجویز پیش کی کہ ہم بھی دستور ساز کمیٹی بنا لیں؟ اس کے جواب میں قائد اعظم نے فرمایا مولانا! ان کے پاس تو دستور نہیں ہے اس لیے وہ بنا رہے ہیں؟ ہمارا دستور تو قرآن ہے۔ پھر کیا ہوا؟ وہ آپ سب کو معلوم ہے کہ جس قوم کا ہادی (ص) صادق امین ہے، جس ملک بانی صادق امین تھا ؟ اب اسی ملک کے حکمراں کہہ رہے ہیں ؟ کہ خدا کے واسطے ہم سے صادق اور امین ہو نے کا مطالبہ مت کرو ہم وہ ہم نہیں ہوسکتے ؟ ۔ اس پورے سفر کی تاریخ بڑی طویل ہے جو ہم نے اس لیے نظر انداز کردی ہے کہ اس ریاست کے باشندوں کے پاس اسے پڑھنے کے لیے اتنا وقت نہیں ہے ۔ اس لیے یہ مختصر روداد اس موقع پر پیش خدمت ہے کہ کچھ یاداشتیں تازہ ہوجائیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY