غزل گو شاعر اور صحافی انور شعور سے عالمی اخبار کیلئے روما رضوی کی ملاقات

1
1278

ہمارے معاشرے میں ایک ایسا حساس طبقہ بھی موجود ہے جو اپنی رائے کے اظہار کے لئے ادب کا سہارا لیتا ہے۔۔بلکہ عالمی ادب ہی برسہا برس سے ہر زبان ہر قوم کی تاریخ کو اپنے اندر محفوظ کرتا چلا جارہا ہے ۔۔تمثیلات کی صورت حالات و واقعات کے ریکارڈ اگلی نسل کے لئے ادبی فن پاروں کی شکل میں بیشمار عالمی لائبریریوں کی زینت بن چکے ہیں
مصنفین اور کہانی نویسوں کے ساتھ ساتھ شاعر حضرات بھی معاشرتی ناانصافیوں اور طبقاتی عدم مساوات کے معاملات کی نشاندہی کرتے ہیں۔
آج ایک ایسے شاعرعالمی اخبار میں  ہمارے مہمان ہیں جو غزل گوئی میں اپنی علیحدہ شناخت رکھتے ہیں ۔۔ صحافت یعنی پرنٹ میڈیا سے ہمیشہ ۔منسلک رہے ہیں ۔ اخبار جہاں سب رنگ ڈائجسٹ کی ادارت میں شامل رہے ۔۔آپ اکثر مشاعروں اور ادبی محافل میں مہمان اعزاز یا صدارت پر فائز کئے جاتے ہیں ۔۔
اردو شاعری میں ہر دلعزیز شاعر کی حثیت سے جانے جاتے ہیں ۔۔
آج جناب انور شعور کو عالمی اخبار کی نشست میں خوش آمدید کہتے ہیں ۔۔
سوال 1– پہلا سوال تو میں یہ کروں گی آپ سے کہ ایسے کیا حالات تھے یا کیا ایسی چیز تھی جو آپ کو شاعری کی طرف کھینچ لائی؟
جواب _
یہ بات آپکو یقینا.ً دلچسپ لگے گی کہ بچپن میں میں والد صاحب کیساتھ جب نماز پڑھنے مسجد جاتا تھا تو اکثر نماز با جماعت ختم ہونے کے بعد درود و سلام و نعت خوانی میں حصہ لیتا تھا ۔۔آواز اچھی تھی تو بیشمار عربی ،فارسی اور اردو کی نعتیں یاد کر رکھی تھیں انکا اثر یہ ہوا کہ شعر کی اچھی سمجھ پیدا ہوگئی ۔۔بچپن سے کبھی بھی غیر متوازن شعر نہیں پڑھا ۔
پھر لڑکپن سے خود بھی شعر کہنے شروع کردیئے اور ابتداء ہی سے میرے کلام میں پختگی اور روانی بھی پیدا ہوگئی. یہ سب محض مشق کا نتیجہ نہیں ہے. مشق تو وقت کے ساتھ ساتھ سکھاتی ہے مگر روانی میرے بالکل شروع یعنی ابتدائی کلام سے ہی میرے لکھے ہوئے اشعار میں موجود نظر آئے گی۔

سوال2
کیا بچپن میں ہی احساس ہو گیا تھا کہ میں عام بچوں سے مختلف ہوں ؟

جواب _ جی جی یہ بات ضرور ہے کہ بچپن میں عام بچوں میں زیادہ دوستی نہیں ہو سکی. صرف پڑھنے لکھنے والوں میں ہی یعنی ہم مزاجوں میں ہی اٹھنا بیٹھنا زیادہ رہا. اور اب بھی ہم مزاجوں میں ہی اٹھتا بیٹھتا ہوں. ظاہر ہے کہ لکھنے والوں کے دوست تجارت پیشہ تو نہیں ہوں نگے ۔

سوال3-اپنے لڑکپن میں کن شعراء کو آپ نے شوق سے سنا جو آپ کی انسپائریشن یا آپ کو متاثر کن لگے۔۔ ؟
جواب_ یہ کہہ سکتے ہیں کہ لڑکپن سے ہی کراچی میں کیونکہ بہت مشاعرے ہوا کرتے تھے جو ہماری جوانی کا زمانہ تھا. تو نامور شعراء کو بہت سنا اور پھر یہ ہے کہ ہم اپنے بچپن میں حسینی ہائی سکول میں پڑھتے تھے. اور بہت بچپن میں ہی سمجھیں پانچویں چھٹی جماعت میں ہوں گے کہ اسکول سے اور گھر سے فرار ہو گئے. یہ حسینی ہائی سکول شالیمار سینما ناظم آباد کے پاس ہی تھا تو وہاں سے جو بھاگے ۔تو گھر بار کی کوئی پابندی تو رہی نہیں تھی پھر لڑکپن سے ہی اچھے اچھے ادیبوں اور شعراء میں میل جول بڑھا. محافل میں شرکت کی گھر بار تھا نہیں تو سارا وقت ان صحبتوں کو ہی دیا کرتے تھے. تو جیسے اس وقت کے ادبی مراکز تھےان محفلوں کے اور سیکھنے سکھانے کے کہ ریڈیو کہیں. مشاعرے اور ادبی محافل میں آنا جانا مستقل رہا.
اچھا لڑکپن سے جب ہم محفلوں میں بیٹھنے لگے تو پھر اچھے شعراء کو سنا بھی اور ان سے اصلاح بھی لی تین اساتذہ سے تو باقاعدہ اصلاح بھی لی. اچھی صحبت کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ غیر ارادی طور پر بھی انسان ان کی صحبت سے فیض اٹھاتا ہے. کچھ نہ کچھ تو وہ ہم سے بہتر جانتے ہیں. تو ان سے ضرور کچھ نیا سننے اور جاننے کو مل جاتا ہے.

سوال 4_
آپ کے خیال میں آپ کی شاعری میں کون سا رنگ نمایاں ہے۔۔ معاشرتی مسائل پر زیادہ لکھتے ہیں ۔یا یا اندرونی کیفیات جو کسی بھی شاعر یا لکھنے والے کی ہوا کرتی ہیں اپنے اطراف کی چیزوں کو دیکھنے کے بعد ذہن کو تحریک دیتا ہے یا ہجر اور خدائی آپ کے اشعار میں نمایاں رکھتے ہیں؟

جواب _
بات یہ ہے کہ میں تو شروع سے ہی غزل ہی زیادہ کہتا ہوں۔ یا پھر قطعات لکھے ہیں ۔ غزلوں کے ہی پانچ مجموعے ہیں جو میرے چھپ چکے ہیں. چار مجموعے تو ایک ہی کتاب میں ہیں کلیات انور کے نام سے آئے ہیں اور پانچواں رنگ ادب پبلیکیشنز نے چھاپا ہے
” آتے ہیں غیب سے ” تو یہ مجموعہ جو پانچواں ہے وہ الگ سے چھپا ہے اب یہ پورے پاکستان بھر میں مل سکتے ہیں. یہ انشاءاللہ آپ کو لاہور میں بھی ملے گا. بلکہ اگر رنگ ادب پبلیکیشنز سے کوئی رابطہ کرے تو وہاں سے بھی ان کو حاصل کیا جا سکتا ہے.

سوال 5_ اکثر شعراء کے گھروالے بھی شاعر کی گھر کے حوالے سے جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ان سے مطمئن نہیں ہوتے
. آپ کے گھر والوں آپ کی بالخصوص آپ کی شریک حیات کا ایسے موقعوں پر کیا ردعمل ہوتا تھا کہ جب آپ شاعری کے سلسلے میں خاموشی اختیار کر لیتے تھے اور دیر تک جب تک مکمل نہ کر لیں لکھنا اپنا ان سے گفتگو نہ کرتے تھے؟

جواب _میرے گھر والے ہمیشہ سے بہت تعاون کرتے ہیں یعنی آپ یہ سمجھ لیجیے کہ آپ کی آنٹی مسز انور جب ہماری شادی ہوئی تو میں شاعری کرتا تھا یعنی مکمل طور پر ایک شاعر تھا انہیں میری مصروفیات کا باقاعدہ علم تھا. اور پھر میری تین بیٹیاں بھی اور ایک بیٹا بھی ہے. مجھے ان بچوں نے میری آہ بیوی نے میری شریک حیات نے ہمیشہ مجھے تمام کاموں سے آزاد رکھا. جو گھر کے حوالے سے مجھے کرنے چاہیے تھے. آلو ٹماٹر اور دال چاول کا بھاؤ تو کیا معلوم ہوتا. میرے اپنے کپڑے بھی یہ لوگ خود ہی لے کر آتے ہیں. بس یہ سمجھ لیجیے کہ اتنی زیادہ سہولتوں سے بس میری کاہلی میں ہی اضافہ ہوا ہے. حالانکہ میری فیملی میں شاعری سے لوگ اتنی دلچسپی نہیں رکھتے. مگر انہوں نےمجھے مکمل آزادی دی کہ میں اپنی سرگرمیوں کو زیادہ وقت دے اسکوں ۔یکسوئی سے اپنے کام کر سکوں یکسوئی سے شاعری لکھ سکوں یا جو بھی تحریر کرنا چاہوں اس کو وقت دوں۔
6سوال.
ماشاءاللہ آپ کی صاحبزادیاں بہت ذہین و باکمال خواتین ہیں۔ فیس بک پہ میری دوستی بھی ہے.۔ شائستہ مومن صاحبہ سے. تو میں ان کو دیکھتی ہوں کہ ما شاء اللہ وہ بہت ہی لائق ہیں۔. جب لکھنے پر آتی ہیں تو بہترین لکھتی ہیں. جب پینٹنگ ان کی دیکھتی ہوں تو مصوری میں انکا ایک منفرد انداز ہے تو آپ کو اپنی تربیت یا آپ کی شخصیت کا اپنے بچوں پرکس قدر اثر لگتا ہے ؟

جواب _ میرے ماشا اللہ تین بیٹیاں اور ایک صاحبزادے ہیں  بچوں کی تربیت و تخلیقی صلاحیتوں کا کریڈٹ تو میں ان کی والدہ کو ہی دوں گا. میں تو اپنے آپ میں بہت ہی مگن زندگی گزارتا رہا ہوں ۔۔ میری تو بیشمار دلچسپیاں و ذمہ داریاں تھیں جن میں میرا وقت مصروف گزرتا تھا. میرے بچوں کو تو زیادہ تر ان کی والدہ نے ہی دیکھا. ہماری تو مصروفیات ہی ایسی تھیں کہ رات گئے گھر لوٹتے تھے. اب اگر بچوں کی کامیابی کا سہرا کسی کو باندھا جائے گا تو وہ یقینا ان کی والدہ ہی ہیں. جن کو زیب دے گا.۔
میں اکثر یہ کہتا ہوں کہ خدا نے میری اوقات سے زیادہ مجھے نوازہ ہے میں اس لائق نہیں تھا کہ مجھے اس قدر راحتیں ملی. واقعتا اس بات پر خدا کا بہت شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے مجھے کبھی بھی تکلیف میں نہیں رکھا۔

سوال 7_ آپ یقینا نئے لکھنے والوں کو بھی پڑھتے ہوں گے فیس بک پر تو میں نے آپ کو نہیں دیکھا ۔۔ مگر مجھے یقین ہے کہ آپ تک بھی کتابیں تواتر سے پہنچتی ہوں گی ۔ یا نوجوان شعراء کا کلام سننے میں آتا ہوگا. آپ کو اب کیا محسوس ہوتا ہے کہ ان کی شاعری میں کیا ایسا پیدا ہو گیا ہے جو آپ کی شاعری میں نہیں تھا یا جو آپ کی شاعری میں موجود تھا وہ ان کی شاعری میں نہیں رہا ہے؟

جواب _ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمارے زمانے میں شاعری کے لوازمات کا بڑا خیال رکھا جاتا تھا. اس زمانے میں سیکھنے سکھانے کا بہت رواج تھا. شاعری بھی تمام فنون کی طرح ہے ۔۔ جیسے مصوری ہے موسیقی ہے. اس کی طرح ہی ایک فن ہے۔۔فن ہمیشہ سیکھنا ہی چاہیے بلکہ باقاعدہ اسے سیکھ لینا چاہیے. میں تو یہ کہتا ہوں کہ جب سے استاد اور شاگرد کا انسٹیٹیوشن ختم ہوا ہے تو ناقص الکلام یعنی ناقص الاول ، ناقص الاوسط ، ناقص الآخر ایسے کلام نظر آنے لگے ہیں. یعنی میں اگر یہ کہوں کہ اب فنی طور پہ متوازن کلام دیکھنے کو آنکھیں ترس گئی ہیں. تو غلط نہ ہوگا. میں یہ نہیں کہوں گا کہ آج کے لکھنے والے کم محنت کر رہے ہیں یا توجہ نہیں دے رہے ہیں مگر بنیادی چیز شاعری کے محاسن اور محاصل وغیرہ.ہیں جو برسوں میں طے ہوتے ہیں. ان کے بغیر یہ محنتیں بے کار ہیں. کم شعریت والا کلام اردو کے آب حیات میں آ تو جاتا ہے مگر ناقص الکلام ہوتا ہے تو رد ہو جاتا ہے. میں مثال اس طرح دوں گا کہ ہمارے اپنے دور میں دو بہترین اور مقبول شاعر تھے جو بہت سنے اور پڑھے گئے ۔۔ ساحر لدھیانوی اور فیض احمد فیض یہ دونوں ہی بے انتہا مقبول شاعر ہیں. اور ان دونوں کا کلام بھی ایسا ہے کہ جو دل کو چھو جاتا ہے. دونوں کا نقطہ نظر بھی ایک ہی ہے. یعنی ترقی پسندی سے تعلق ہے دونوں کا لیکن اہل ادب سے ساحر کی وہ پذیرائی نہیں ہو سکی. جس قدر کے فیض احمد فیض کی ہوئی. اگر اس پر غور کیا جائے تو نسبتًا ساحر جو ہیں وہ فنی طور پہ نا پختہ ہے. تو ان کے کلام میں جو فنی کمی موجود تھی اس نے ان کو اُس مقام سے اب تک محروم رکھا ہوا ہے کہ جو فیض کو حاصل ہو گیا. اسی طرح نظیر اکبر آبادی کے کلام پہ بھی میر نے کچھ اسی طرح کا. اعتراض کیا تھا کہ فنی نقائص ان کے کلام میں ہیں. بہرحال یہ ایک عمومی دور ہے اور جلد اس کا احساس تمام لکھنے والے لوگوں کو ہوگا. تب وہ پلٹ کر آئیں گےاور سیکھنے کی ضرورت کو محسوس کریں گے.
سوال 8– کس دور میں آپ نے سب سے زیادہ لکھا؟

جواب _ ایسا موقع کبھی کبھی آجاتا ہے کہ آپ روزانہ ہی لکھتے ہیں۔ اکثر ایسا مجھ پر بھی ہوا ہے کہ روزانہ ہی غزلیں لکھی ہیں اور کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ واقعی وقفہ آجاتا ہے. مگر حیرت کی بات ہے کہ یہ میرا وقفہ کبھی طویل نہیں ہوا. روزانہ بھی اکثر لکھا ہے اور ناغے بھی کافی کیے ہیں. لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا کہ سال دو سال کے لیے ہی منظر سے غائب ہوجاوں ۔ ناغہ کیا ہے مگر مستقل ہی لکھتا رہا ہوں بلکہ میں اکثر اپنی اس بات پر خود حیرت کرتا ہوں کہ کوئی کام بھی ایسا نہیں تھا کہ جو میں لگ کر کرسکتا ہوں. تو یہ کام کیوں اس قدر لگن اور باقاعدگی سے میں نے جاری رکھا۔

سوال 9 _آپکی پیشہ ورانہ مصروفیات کیا رہیں؟
جواب _
پروفیشنل لائف میں میں نے صحافت کو ہی منتخب کیا. سب رنگ ڈائجسٹ میں بہت عرصہ گزرا اخبار ِجہاں میں کام کیا. ہمیشہ سے صحافت ہی میرا شعبہ رہا. سب رنگ ڈائجسٹ میں نسبتًا زیادہ وقت گزارہ اور جناب شکیل عادل زادہ کے ساتھ کام کرتا رہا ان کا رویہ ہمیشہ سے دوستانہ رہا میرے ساتھ اور اب بھی دوستانہ ہے. اب فی الوقت میں اخبار جنگ میں روزانہ ایک قطعہ لکھتا ہوں۔ آپ جانتی ہوں گی رئیس امرووی صاحب نے پاکستان بننے کے بعد سے سن اٹھاسی تک یہ ذمہ داری نبھائی اور وہ جب تک حیات رہے سن اٹھاسی تک روزانہ حالات حاضرہ پر جنگ اخبار میں قطعہ لکھتے تھے ۔ بلکہ ان کا اپنے بارے میں اس طرح کہنا تھا
“اس شہر کی تاریخ ہیں میرے قطعات
اس شہر تاریخ لکھی ہے میں نے”.
یہ ان کا اپنے بارے میں خود کہنا تھا. کیونکہ انہوں نے ابتداء سے کہ جب پاکستان بنا. تب سے روزنامہ جنگ میں سن اٹھاسی تک پابندی سے لکھا ۔۔ ان کے انتقال کے بعد یہ ذمہ داری مجھ تک آئی ۔ تب سے میں لکھتا ہوں۔۔
میں تو یہی کہوں گا کہ یہ انہی کا فیض ہے جو ہم لکھ رہے ہیں اور یہ واقعی حقیقت ہے کہ ان جیسے باقاعدگی سے لکھنے والے شاید کوئی اور بھی ہوں لیکن قطع لکھنے والا جس کی نظر سیاست پر ہو جو چار سطر میں تجزیہ اپنا پیش کر دے تو یہ واقعی آسان کام نہیں ہے جو رئیس امرووی صاحب نے آغاز کیا اور زندگی کی آخری سانس تک مستقل نبھایا۔۔ اس میں ہمیشہ حالات حاضرہ پر ہی کوئی بات ہوتی تھی اور بڑے سے بڑے واقعات کو وہ مختصر الفاظ میں سمو دیتے.

سوال 10 _ آپکو غزل کے بعد قطعہ لکھنا مشکل نہیں لگا؟
جواب _
جواب بڑی سے بڑی بات کو محض چار سطروں میں محدود الفاظ میں لکھنا واقعی یہ آسان کام نہیں ہے لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ جو کام آپ تواتر سے کرتے چلے جائیں. وہ بہرحال آپ کے لیے آسان ہو جاتا ہے. مگر اچھا لکھنا مشق کے بنا ممکن نہیں ۔ ظاہر ہے انسان اچھا لکھنے کی کوشش تو کرتا ہے ہو گیا تو ہو گیا نہ ہوا تو نہ ہوا.

سوال 11 _ لکھتے وقت تنہائی اور خاموشی درکار ہوتی ہے؟
ایسا کبھی نہیں ہوا کہ لکھنے کے لئے روزانہ کے جو معمولات ہیں انہیں چھوڑ دوں۔۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ سوچ کو مرکوز کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ میں نے خاموشی اختیار کی ہو. یا سارے معمول کے کام چھوڑ کر صرف لکھنے ہی بیٹھ گیا ہوں یا سب سے لاتعلق ہو کر صرف لکھوں ..روز مرہ کی زندگی کے دوران ہی یہ لکھنے لکھانے کا عمل بھی جاری رہتا ہے.۔

سوال12
موجودہ دور میں شاعری کو اور کس طرح بہتر کیا جاسکتا ہے
جیسے نئے لکھنے والے بے ساختہ لکھ رہے ہیں بے ساختہ پن میں نئے دور کے الفاظ شامل کر رہے ہیں اردو انگریزی کا ملاپ گفتگو کے ساتھ شاعری میں بھی شامل ہے ۔۔آزاد ۔۔ اور نثری نظمیں بھی خوب لکھی جارہی ہیں؟

جواب_
میں تو یہ کہوں گا کہ یہ کچھ ایسا ہی ہے کہ جیسے سننے والا ہر گانے والے کو سن لیتا ہے. اب نورجہاں اور مہدی حسن کی طرح تو ہر کوئی نہیں گا سکتا ۔۔ غالب تو ہیں نہیں ہے اقبال بھی نہیں ہے تو ظفر اقبال کو ہی سن لیا جائے. تو اس طرح کچھ سلسلہ ہے. اب شعر کی پرکھ پر لوگوں کی رہنمائی کے بارے میں آپ نے سوال کیا. تو ہاں بھائی بہت سے بچے آتے ہیں ان سے گفتگو بھی رہتی ہے بہت سوں کو میں نے کہا ہے کہ سیکھنے کی طرف توجہ دیں. جس چیز کی کمی ہو یعنی اس چیز کا احساس ضياع بہر صورت رہتا ہے. میں تو چاہتا ہوں کہ ایسا ہو اور زیادہ سے زیادہ اس موضوع پر نوجوانوں سے گفتگو کی جائے کہ بھائی سیکھنے سکھانے کے عمل کو دوبارہ رائج کیا جائے. سیکھنے پر زیادہ توجہ دی جائے.

موجودہ دور کی شاعری میں آپ نے آزاد شاعری اور نثری شاعری کا تذکرہ کیا. تو یوں سمجھیے کہ اچھا خیال جس صورت میں بھی ہوگا وہ اچھا لگے گا. دل کو چھو جائے گا. اچھی شاعری چاہے غزل کی صورت میں ہو. آزاد ہو یا پابند ہو اچھی ہی ہوتی ہے. بہت سے مشہور لکھنے والوں نے آزاد شاعری بھی کی ہے نثری نظمیں بھی لکھی ہیں اور وہ بہت مقبول ہیں. کچھ تو اس طرح سے دل کو پسند آجاتی ہیں کہ زبانی یاد بھی ہو جاتی ہیں. فیض نے کئی نظمیں آزاد نظمیں لکھی ہیں. جس میں ایک بہت مقبول ہے
۔۔یہ رات اس درد کا شجر ہے
جو مجھ سے تجھ سے عظیم تر ہے
عظیم تر ہے کہ اس کی شاخوں
میں لاکھ مشعل بکف ستاروں
کے کارواں گھر کے کھو گئے ہیں
ہزار مہتاب اس کے سائے
میں اپنا سب نور رو گئے ہیں
یہ رات اس درد کا شجر ہے
جو مجھ سے تجھ سے عظیم تر ہے
مگر اسی رات کے شجر سے
یہ چند لمحوں کے زرد پتے
گرے ہیں اور تیرے گیسوؤں میں
الجھ کے گلنار ہو گئے ہیں
اسی کی شبنم سے خامشی کے
یہ چند قطرے تری جبیں پر
برس کے ہیرے پرو گئے ہیں
یہ دیکھیں کہ مجھے یہ اب تک زبانی یاد ہے۔.

یوں سمجھ لیجیے کہ جس کا متن بہتر ہو یعنی خیال کا بہتر ہونا بہت اہم ہے. خیال اچھا ہو الفاظ خوبصورت ہوں. یہ سب نہ ہو تو اکثر غزل بھی بالکل بے کار لگتی ہے. ذرائع ابلاغ سے زیادہ جو چیز ابلاغ کی جا رہی ہو اس پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ کس قدر پسند کی جائے گی اور کس کس کو اپنے دل سے قریب تر لگے گی.۔
سوال 13
آپ بھی حالات حاضرہ پر لکھتے ہیں ۔۔آپ کو کبھی ایسا نہیں لگا کہ اب ظلم کی صورت میں شدت آگئی ہے؟
لوگوں میں نرمی اور رحمدلی کی کمی ہوگئی ہے؟ ہر طرح کی معلومات ہر ایک کی دسترس میں ہے؟
جواب _
واقعی ایسا ہی ہے جس طرح اچھائی کو دیکھ کے اچھائی کی ترویج ہوتی ہے اسی طرح برائی اور جرائم کو دیکھ کے ان کی ترویج ہوتی ہے بلکہ برائی کی ترویج زیادہ ہی ہوتی ہے. یہ ذرائع ابلاغ جسے آپ سوشل میڈیا کہہ رہی ہیں اس کا بہتر یا پابند ہو کر استعمال فی الحال ممکن نہیں ہے. جیسے نئی نئی کسی چیز کا انسان کو شوق ہوتا ہے نا تو اسی طرح اس کا استعمال بھی ایسا ہی چلتا رہے گا اس میں کاٹ چھانٹ سینسر یا نظم و ضبط روک ٹوک کو پیدا کرنا فی الحال مشکل ہے. یہ نظام جو انفارمیشن پہنچانے کا ہے اس میں یوں سمجھیں کہ ہمیں اوقات سے زیادہ سہولت مل گئی ہے. بلکہ یوں کہیے کہ پانی کناروں سے ہی چھلک گیا ہے.۔
یقین کریں کہ میں تو معاشرے میں ظلم کے ہی خلاف ہوں کہ جبر و زیادتی کسی بھی صورت کی ہو. کسی فرد پر کی جائے. کسی کی بھی مرضی کے خلاف اس کے ساتھ کچھ بھی کرنا زیادتی ہے. آپ نے کہا لوگوں میں شقاوت بڑھتی جا رہی ہے بے رحمی بڑھتی جا رہی ہے. تو مجھے اس پہ ایک مشتاق احمد یوسفی کا ایک جملہ یاد آگیا کہ یہ دنیا بیکل ہے یعنی بے چین ہے. انسان کو اس کے حقوق نہیں مل رہے. ہمارے ہاں بلکہ پوری دنیا میں جو نظام رائج ہے جسے ہم سرمایہ دارانہ نظام کہتے ہیں یہ انتہائی ظالمانہ نظام ہے. اور اس دور میں ہر فرد کیا غریب کیا امیر ۔۔کیا چھوٹا کیا بڑا۔۔ کیا عورت کیا مرد ہر ایک ہی پریشان ہے اور اس طرح کی پریشانی کے اثرات یعنی مضمرات ہوتے ہیں. آپ بے بس ہیں تو کہیں نہ کہیں آپ کی بھڑاس نکلتی ہی ہے اور یہ جرائم بھی دراصل آپ کے اندر کی محرومی کی یا کسی عمل کی بھڑاس کی صورت میں ہی نظر آتے ہیں. آپ دیکھیے گا کہ ہم جیسے عام آدمی ہیں مگر ہمیں بھی ایک دم کسی بات پر غصہ آجاتا ہے۔۔ وہ دراصل اس چھوٹی سی بات پر غصہ نہیں آیا ہوتا بلکہ کئی غصے جمع ہوئے ہوتے ہیں اور وہ کسی ایک وقت میں نکل پڑتے ہیں. کہ جب آپ بھڑک اٹھتے ہیں کسی معمولی بات پر آپ کو بہت زیادہ غم و غصہ محسوس ہوتا ہے. تو ایک وہی وجہ نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیچھے اور بھی کئی باتیں پہلے ہو چکی ہوتی ہیں.۔

سوال 14 _ کن خاص حالات میں لکھنے کو دل چاہتا ہے ؟

جواب
لکھنے پر تحریک کا یقیناُ ایسا ہی ہے کہ کبھی کبھی کوئی واقعہ ایسا ہو جاتا ہے یا آپ کچھ پڑھ رہے ہوں تب لکھنے پر متوجہ ہو جاتے ہیں. اس کا اکثر اندازہ آپ کو بھی نہیں ہو پاتا کہ کیا چیز آپ کو لکھنے کی جانب متوجہ کرتی ہے ۔ میں آپ کو بتاؤں کہ میرے لڑکپن کے زمانے میں نئے لکھنے والے منٹو تھے ۔۔ جب کبھی منٹو کو تو میں نے پڑھا تو اس میں ہمیشہ کچھ نہ کچھ نیا پن نظر آجاتا. اور یہ سمجھئے کہ جب جب میں نے منٹو کو پڑھا ہے ہمیشہ کچھ نیا لکھا گیا ہے اور یہ نہیں کہ میں خالی منٹو کو ہی پڑھتا تھا. خشونت سنگ بھی مجھے پسند تھے. بیدی کو بھی میں بہت پڑھتا تھا. مگر حیرت کی بات ہے کہ خاص طور پہ جب بھی میں نے منٹو کو پڑھا لازمی لکھنے کے لیے آمادہ ہوا.
موجودہ حالات میں جیسے بچوں پر زیادتی پر بہت لوگوں نے لکھا اور کببھی کبھار معاشرے میں ظلم کے حوالے سے کچھ موضوعات ایسے ہوتے ہیں جو دل پر بہت اثر کرتے ہیں. اول تو یقین مانیں کہ میرا ان حالات پر یقین کرنے کو دل نہیں چاہتا۔ اب جو موجودہ حالات ہیں جو واقعات اور حادثات ہیں. میں بیان ہی نہیں کر سکتا کہ ان موضوعات کو ان خبروں کو میں پڑھ ہی نہیں پاتا یعنی مجھ سے یہ خبریں برداشت ہی نہیں ہوتیں.۔
سوال 15 _ کبھی ایسا کچھ لکھا کہ بہت مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا ہو؟

جواب _
جی لکھنے والے سے اختلاف رائے تو سننے والی عوام کا اختیار ہوتا ہے۔۔
ابھی کی تازہ بات ہی بتا دیتا ہوں کہ اسی دوران کوئی آن لائن مشاعرے اور انٹرویوز کا سلسلہ جاری ہے. عنبرین حسیب عنبر میرا انٹرویو کر رہی تھیں تو میں نے اپنا یہ ایک قطع پڑھا کہ۔۔
کیا کریں ہم جھوٹ کے عادی نہیں
اور سچ کہنے کی آزادی نہیں۔
. اس تعلق میں کہاں ممکن طلاق
یہ محبت ہے کوئی شادی نہیں.
اس پر آپ جانتی ہی ہوں گی سینئر شاعرہ ہیں. محترمہ ڈاکٹر فاطمہ حسن. انہوں نے کہا کہ اس کو حذف کر دیں. یعنی اس میں خیال متنازعہ لگتا ہے. ایک بار ایسے ہی ایک غزل کہی تھی جس کا ردیف تھا انشاءاللہ.۔۔ تو اس پر اکثر دوستوں نے کہا کہ ایسا ردیف نہیں ہونا چاہیے. سمجھنے والے سننے والوں کی ہر ایک کی مختلف رائے ہوتی ہے. سننے والوں کی سمجھ پر ہے کہ وہ اس کو کس طرح سمجھ کر اور کیا رائے دیتے ہیں
اب اقبال کی نظمیں ہی آپ دیکھ لیجیے. جیسے خضر راہ ہے یا مسجد قرطبہ ہے یہ سب لوگوں کے سامنے آئیں تو اب انہی کی ہیں۔۔ ظاہر ہے عوام کی ہیں جو عوام کے لیے لکھی گئیں ان کے پاس پہنچی تو اب انہی کی ہے اب قبول یا رد انہی کی جانب سے ہے۔۔۔بعض اوقات بہت لوگ کسی کلام کو پسند کرتے ہیں اور کچھ لوگ جو اسے سمجھ نہیں پاتے اس کے مقصد کو نہیں پا سکتے. وہ اس کے خلاف بھی رائے دیتے ہیں. اب لکھنے والے کر چکے ہیں اپنا کام آپ کا اور ہمارا کام ہے کہ اسے سمجھیں اور اس کو جیسے اختیار کر سکتے ہیں اس کو اختیار کریں. ۔

سوال 16 _
اپنے چاہنے والوں اور نوآموز شعرا کو رہنمائی کے کئے کیا پیغام دیں گے؟
جواب _
جی نصیحت میں یہی ہمیشہ کہتا ہوں کہ حالات کیسے ہی برے کیوں نہ ہوں. کیسے ہی ۔ایوس کن کیوں نہ ہوں. اچھی چیز کی جگہ ہمیشہ خالی رہتی ہے. ہمیں بہرحال اچھائی کی توقع رکھنی ہی چاہیے. جو بڑے کہہ چکے ہیں جو پیغام دے چکے ہیں وہی دہرایا جاتا رہا ہے جیسے غالب نے کہا تھا
رات دن گردش میں ہیں سات آسمان
ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا؟
تو آپ اب بھی اچھی امید رکھیے اچھائی کی جگہ تو ہمیشہ موجود رہتی ہے اچھے سے اور اچھا آتا ہےاور اپنا مقام بناتا ہے. تو مایوسی کے بجائے اپنے حالات میں بہتری لانے کے لیے محنت کرتے رہنا چاہیے.۔۔”

انور بھائی کا یہ پیغام انتہائی حوصلہ افزا ہے ۔۔
آپ کے قیمتی وقت کے لئے اور بہت ساری کارآمد باتوں کے لئے عالمی اخبار انور شعور صاحب کا از حد ممنون ہے۔۔

روما رضوی

SHARE

1 COMMENT

  1. ایک عمدہ شاعر سے بہت ہی مفید اور معلومات افزا گفتگو اچھا لگا بہت اچھا لگا جیتی رہیں

LEAVE A REPLY