ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے کہ جب بھی کسی ملک کے اندرون خانے کا سربراہ مفاد پرستی کا شکار ہوتا ہے تو بیرونی سازشیں اس کا ہاتھ تھام کر پورا ملک ہڑپ کر جاتی ہیں ۔۔شام میں ہونے والی سول وار یعنی خانہ جنگی میں سب سے بڑا کردار بشارالاسد ہیں جو علوی کہلاتے ہیں اور نسلا نصیری ہیں ۔ ان کے ارد گرد رہنے والوں میں امریکہ ، رشیا ، سعودی عرب اور ایران ہیں کیونکہ ان کے اپنے ملکی اور مسلکی مفاد اس زمین سے جڑے ہوئے ہیں ۔اقتدار کی ہوس کے اس خونی کھیل میں سب شام کی مٹی تک ہڑپ کرنا چاہتے ہیں ۔
میں ہمیشہ آپ سب سے کہتی رہی ہوں کہ حکمران کاغذوں پر جنگ پلان کرتے ہیں اوراپنی فتح کے لئے میدان میں اپنےفوجی جوان اور نہتی عوام اتار دیتے ہیں ۔۔انسانیت کی لاشوں پر فتح کا جشن منانے کا شوق رکھنے والے بشارالاسد کوئی پہلے حکمران نہیں ہیں ۔ کاش وہ اعداد و شمار جان پاتے کہ اب تک اس خانہ جنگی میں 4 لاکھ افراد سے زائد مر چکے ہیں ۔ جن میں 15,948 بچے اور 10,540سے زائد عورتیں شامل ہیں ۔۔۔
دوستو اس گنجلک کو سمجھنے کے لیئے ایک تازہ خبر پڑھئے ۔۔۔۔۔۔جو26 نومبر 2016 کو العربیہ میں چھپی تھی ۔۔
“ شام کے شورش زدہ شہر حلب پر سرکاری فوج اور اس کی معاون روسی فوج کے جنگی طیاروں نے تازہ وحشیانہ بمباری کرکے نماز جمعہ کی ادائی کے لیے مسجد میں موجود نمازیوں پر بم گرادیے جس کے نتیجے میں کم سے کم 50 شہری شہید اور دسیوں زخمی ہوگئے۔ بمباری کے نتیجے میں تقاد قصبے میں واقع جامع مسجد ملبے کا ڈھیر بن گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آیئے اب اس خبر کا تجزیہ کیجئے ۔۔
سرکاری فوج اور معاون کون ہیں ؟
یعنی بشار الاسد کی رشیا اور ایران سے دوستی ہے ۔۔ جن کے ساتھ لبنانی جماعت حزب اللہ بھی شامل ہے ۔
لڑ کس سے رہے ہیں۔۔ ؟
مخالف مسلمانوں سے جو بشارالاسد کی مخالف جماعتیں جن میں داعش ، سعودی عرب اور امریکہ ہے۔
بشار الاسد اور اس کے حامیوں نے بم کہاں گرایا۔۔؟
” مسجد ” پر
شہید اور زخمی کون ہوئے ” ؟
نہتے عوام وہ بھی مسلمان ” ۔۔۔
سو دوستو جب مسلمان ہی مسلمان سے لڑے گا اور مسجد بھی اپنی ہی گرائے گا اور مسلمان ہی مریں گے تو ہم دعا کس کے لیئے کریں ۔۔ مدد کس کی کریں ۔۔۔ ؟
سب جانتے ہیں ایران شام پر اپنا تسلط چاہتا ہے کہ زیارات کا رستہ ممکن ہو سکے اور زرمبادلہ کی مد سونا چاندی کی ریل پیل ہوار اس کی مدد حزب اللہ کر رہے ہیں ۔ شام کے ساتھ روس اس لیئے ہے کہ اسے امریکہ کو نیچا دکھا کر اپنا کھویا ہوا تشخص واپس لینا ہے ۔سعود یہ کبھی بھی ایران کو شام میں نہیں دیکھ سکتا اور اسی طرح امریکہ کبھی رشیا کی سپر میسی قبول نہیں کر سکتا سو ان دونوں نے داعش کی مدد سے خانہ جنگی کی انتہا کر رکھی ہے تاکہ بشار الاسد شام چھوڑ کر چلے جائیں ۔ہوشیار باون سالہ بشالااسد جو نصیری ہیں انہیں ایران اور سعودیہ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور ان دونوں صورتوں میں فائدہ اٹھانا خوب جانتے ہیں یعنی جو بھی ان کے اقتدار کی عمر لمبی کر دے گا وہ انہیں کے ساتھ رہیں گے ۔ اسی لئے انہوں نے ڈونل ٹرمپ کو امریکی صدر ہونے کا حلف لیئے بغیر اپنا حلیف بنا لیا ہے ۔ یعنی اب انہیں روس اور ایران کی ضرورت نہیں رہی ۔ گو کہ بظاہر رشیا اس وقت ہارتا نظر آ رہا ہے لیکن اس ہار میں بھی اس نے اپنا ہوم ورک خوب کر لیا ہے ۔ دنیا کو اپنی یاد بھی دلا دی اور ساتھ ساتھ شام کو روسی ہتھیار بھی خوب ہی بیچے ۔۔
اس سارے تناظر میں شام کی نہتی بے بس عوام پر جو گزر رہی ہے اس سے بشارالاسد کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ اس لڑائی کی وجہ سے ہی اپنے اقتدار سے جڑے رہ سکتے ہیں ۔ امریکہ اور رشیا نے اپنے ہتھیار بیچ لیئے اور ایران اور حزب اللہ نے اپنی سفارت تازہ کر لی ۔۔ اور داعش جنونی گروپ ہے اس نے بھی اللہ رسول کے نام پر خونی کھیل کی انتہا کر کے خوب دل کی بھڑاس نکال لی ہے ۔ اب اگر بشار الالسد رہیں یا نا بھی رہیں تب بھی داعش شام میں ایسے رہ سکتا ہے جیسے افغانی پاکستان میں رہتے ہیں اور ان دونوں پر دنیا تو ایک طرف جنگل کا قانون بھی لاگو نہیں ہوتا ۔۔ اور یوں دھڑا دھڑ مسلمان ایک دوسرے کو مذہب مسلک کی چھری سے زبح کر کے جنت میں جاتے ریں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ دوستو کو مندرجہ بالا تصویر سے یقین ہو گیا ہو گا کہ کربلا بپا ہوئی تھی ۔۔ یزیدی مسلمانوں ہی نے امام حسین ع کو شہید کیا تھا ۔۔ اور مسلمانوں نے ہی امام وقت کا سر نیزے پر رکھ کر باقی مسلمانوں کو لے کر یزید کے دربار پر لے گئے تھے ۔۔ اور یزید کون تھا معاویہ کا بیٹا اور یہ دونوں بھی مسلمان تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تاریخ بتاتی ہے کہ مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن خود مسلمان ہے کیونکہ“ وہ اس ” علم ” سے دور ہے جو مسلکی عینکیں لگائے بغیر پڑھا جاتا ہے اور “ دل ” پر ہاتھ رکھ ایمانداری سے فیصلہ کیا جاتا ہے کون حق پر ہے اور پھر اس کے ساتھ ہو لیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قیمتی انسانوں کی ارزانی سرزمین شام پر کوئی نئی بات کہاں ہے ۔۔ چلئے 61 ہجری میں چلتے ہیں ۔۔ اسران کربلا ہیں ۔۔ بیمار امام سید الساجدین زین العابدین کے پاؤں میں بیڑیاں ہیں اور ہاتھ پیچھے کی طرف بندھے ہوئے ہیں ۔۔ نیزے پر جنت کے سردار امام حسین علیہ السلام کا سر مبارک نور جیسا چمک رہا ہے ۔۔ اور امام دکھ اور صدمے سے نڈھال پیچھے چل رہے ۔۔ اور ان کے پیچھے پاک بیبیاں بغیر کجاوے کے اونٹوں پر بے ردا دکھ اور صدمے سے سر جھکائے سوار ہیں اور شام کے بازار میں بالکونیوں میں کھڑے لوگ ان پر پتھر برسا رہے ہیں ۔۔۔
دوستو ۔۔!
کبھی سوچتی ہوں کہ اسیران کربلا کے دل پر کیا گزری ہو گی ۔۔ شام کی بے سروسامانی ، بربادی اور کبھی نا ختم ہونے والی یہ خانہ جنگی کہیں ان کی بدعا ہی نا ہو ۔۔ پھر سوچتی ہو نہیں یہ میرا وہم ہے ۔۔ پر آجکل شدت پسندی کی ایک نئی لہر نے سرزمین شام کو ایکبار پھر لہو رنگ کر دیا ہے ۔۔۔۔ یہ شاطر اسلام دشمن نہیں انسانیت دشمن ہیں ۔۔ ہمارا دین جہانوں کے لیئے رحمت اور سلامتی لے کر آیا تھا ۔۔۔۔۔ مسلمانوں نے اس کو اپنے تک محدود کر کے اس کی آفاقیت کو روند ڈالا ہے جس کا سب سے زیادہ فائدہ غیر مسلم ہی نے اٹھایا ہے اور مسلمانوں کو ان کی اسلامی چار دیواری محصور کر کے ان کے دربان بن بیٹھے ہیں ۔
خون بہنے کا رکتا نہیں سلسلہ
شام کا ملک جیسے کھنڈر بن گیا
سوچتی ہوں میں نگہت کہ اس ملک کو
کربلا کے اسیروں کی ہے بددعا؟
ڈاکٹر نگہت نسیم













