اس کو ناقدریٔ عالم کا صلہ کہتے ہیں
مر گئے ہم تو زمانے نے بہت یاد کیا
کسی بھی معاشرے میں استاد کا کردار اہم ہوتا ہے کیونکہ وہ معاشرے کے ان ستونوں کو بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے جو مستقبل میں ملک و ملت اور معاشرے میں اہم کردارادا کرنے کا ذمہ دار ہوتے ہیں جس معاشرے نے استادوں کی قدر کی انہوں نے ترقی کے منازل طے کرنے میں دیر نہ کی۔
اُستاد ایک چراغ ہے جو تاریک راہوں میں روشنی کے وجود کو برقرار رکھتا ہے۔ اُستاد وہ پھول ہے جو اپنی خوشبو سے معاشرے میں امن، مہرومحبت و دوستی کا پیغام پہنچاتا ہے۔ اُستاد ایک ایسا رہنما ہے جو آدمی کو زندگی کی گم راہیوں سے نکال کر منزل کی طرف گامزن کرتا ہے۔
خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جن کی زندگی میں اچھے استاد میسر آجاتے ہیں، ایک معمولی سے نوخیز بچے سے لے کر ایک کامیاب فرد تک سارا سفر اساتذہ کا مرہون منت ہے۔ وہ ایک طالب علم میں جس طرح کا رنگ بھرنا چاہیں بھر سکتے ہیں۔ استاد قوموں کی تعمیر میں بڑا اہم کردار ادا کرتے ہیں
اُن ہی میں ایک نام پروفیسر کرار حسین کا ہے ۔تعلیم کی تکمیل کے بعد انہوں نے تدریس کو اپنا شغل بنایا۔ اور 1933 میں میرٹھ کالج میں بطور لیکچرر متعین ہوئے وہاں ان کے شاگردوں میں جمیل جالبی، انتظار حسین ،حسن عسکری اورسلیم احمد کے نام بھی شامل ہیں ۔ تقسیم ہند کے بعد وہ پاکستان آ گئے جہاں وہ متعدد تعلیمی اداروں کے پرنسپل اور جامعہ بلوچستان کے وائس چانسلر رہے۔ وہ کراچی میں اسلامی ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر بھی رہے۔ وہ ادبیات ،علم التعلیم، اسلامی تاریخ، فلسفہ اور سماجی و ثقافتی مسائل سے متعلق وسیع علم رکھتے تھے اور ان موضوعات پر اپنی تحریر و تقریر سے گراں قدر سرمایہ نسلِ نو کو من
ایک تخیل پرست، محب وطن، اپنی سرزمین کے خادم اور سب سے بڑھ کر ایک منکسرالمزاج شخص تھے۔
انکے شاگردوں میں پروفیسر جمیل جالبی ، پروفیسر انتظار حسین ، پروفیسر حسن عسکری اور سلیم احمد جیسے نامور ادیب و محقق شامل ہیں ۔ قیامِ پاکستان کے بعد پروفیسر کرار حسین پاکستان آگئے جہاں انہوں نے متعدد تعلیمی اداروں میں وائس پرنسپل اور پرنسپل کے طور پر خدمات انجام دیں ۔ان میں اسلامیہ کالج کراچی ، میر پور خاص ، خیر پور اور کوئٹہ کے کے گورنمنٹ کالجز شامل ہیں ۔
نیز چار سال تک وہ بلوچستان یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہے۔ وہ کراچی میں اسلامی ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر بھی رہے۔ پروفیسر کرار حسین ادبیات ،علم التعلیم ، اسلامی تاریخ ، فلسفہ اور سماجی و ثقافتی مسائل سے متعلق وسیع علم رکھتے تھے اور ان موضوعات پر اپنی تحریر و تقریر سے گراں قدر سرمایہ نسلِ نو کو منتقل کیا۔پروفیسر کرار حسین نے اپنی زندگی میں تحریر سے زیادہ تقریر جیسے ذریعہ ابلاغ کو مقدم رکھا ۔ بقول پروفیسر انتظار حسین ” پروفیسر کرار حسین اہلِ قلم نہیں بلکہ اہلِ کلام تھے ۔ تحریری اور سماعی روایت کے درمیان ایک نقطہِ اتصال تھے ۔”
بلوچستان یونیورسٹی کے پہلے وائس چانسلر پروفیسر کرار حسین مرحوم تھے جن کی سربراہی میں ایم اے اور ایم ایس سی کا پہلا بینچ 1973ء میں فارغ ہوا. اس وقت طلبہ و طالبات کی تعداد صرف 33 تھی.
پروفیسر کرار حسین اساتذہ کی تقرری میں بہت محتاط تھے۔ جو سینئر اساتذہ یونیورسٹی میں کام کر رہے تھے۔ ان کی اپنی ایک انفرادیت تھی نہ صرف وہ تعلیمی میدان میں ممتاز تھے بلکہ زندگی کے معاملات میں بھی انفرادیت رکھتے تھے۔
پروفیسر جمال نقوی کی کتاب کا آغاز خاندانی پس منظر سے ہوتا ہے۔ یہ پس منظر علم و ثقافت کے حوالے سے کامیابیوں کا ہے۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ گھرانے مغرب سے اثرات قبول کرنے کے معاملے میں ملک کے کم مراعات یافتہ خاندانوں سے ایک قدم آگے تھے اور اِنہی کے درمیان مصنف کو کام کرنا تھا۔ ۱۹۵۰ء کی دہائی کے دوران جمہوریت کے لیے تحریک چلانے والے طالب علم رہنماؤں کی جدوجہد سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہوگا۔ ان میں ڈاکٹر سرور نمایاں تھے۔ ساتھ ہی ساتھ ہمیں پروفیسر کرار حسین سے محمد حسن عسکری تک اہل علم کی جدوجہد کا اندازہ ہوتا ہے جو ملک میں تعلیم کو بامعنی اور بامقصد بنانے کے لیے بھرپور کوششیں کرتے رہے تھے۔
ان کی تصانیف میں ‘قرآن اور زندگی’، ‘مطالعہ قرآن’ اور ‘غالب: سب اچھا کہیں جسے’ وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بھی ان کی تقاریر کے کئی مجموعے کتابی صورت میں شائع ہوچکے ہیں۔ ان کو خطابت اور مضمون نگاری کے علاوہ شاعری سے بھی شغف رہا ہے۔ ان کی اولاد میں پروفیسر شائستہ زیدی، سینیٹر تاج حیدر، پروفیسر شبیہ حیدر اور صادقہ صلاح الدین تعلیمی، سیاسی و سماجی شعبہِ زندگی میں بہت فعال ہیں۔علم،فہم اور ادب دور سے ہی نمایاں ہے .شخصیت پر علمیت کا غلبہ ہے
پروفیسر کرار حسین کے کلام میں نعت، سلام، منقبت، مرثیہ، نظم و غزل ہر صنفِ سخن شامل ہے، جو گاہے بگاہے مختلف ادبی جرائدکی زینت بنی۔
کلام پروفیسر کرار حسین
حائل نظر کے سامنے پردے اگر نہیں
دنیا بجز ستیزہ گہِ خیر و شر نہیں
اے رحمت و جہاد کے مولا تیرے بغیر
اس رزمگاہ میں کوئی تیغ و سپر نہیں
میں اور تمہارا ذکر خدا ساز بات ہے
دل لاکھ چاہتا ہے پہ اتنا جگر نہیں
سچ ہے تمہارا نام نذیر و بشیر ہے
سچ ہے ہمیں جزا و سزا سے مفر نہیں
تاج الاولیاء دراصل حضرت بابا تاج الدین ناگپوری کی سوانح حیات ہے۔بابا ذہین شاہ تاجی کے درس میں اُس وقت کی نابغہ روزگار شخصیات شریک ہوا کرتی تھیں ، جن میں پروفیسر اے۔ بی حلیم (جامعہ کراچی کے پہلے وائس چانسلر) ، جوش ملیح آبادی ، مولانا کوثر نیازی ، مولانا ماہر القادری ، پروفیسر کرّار حسین ، پروفیسر حسرت کاسگنجوی ، الیاس عشقی ، ڈاکٹر پروفیسر ابو الخیر کشفی ، رئیس امروہوی اور سید محمد تقی وغیرہ قابلِ تذکرہ ہیں ۔
پروفیسر کرار حسین ایک نامور استاد ، دانشور اور محقق ہونے کے ساتھ ساتھ شعر و سخن سے بھی دلچسپی رکھتے تھے۔ انہوں نے نعت ، منقبت ، سلام ، غزل میں بارھا طبع آزمائ کی ۔ تاہم انہوں نے تازندگی ایک ہی مرثیہ کہا جو مخمس میں ہے ۔ 72 بند پر مشتمل یہ مرثیہ انکے فلسفیانہ خیالات اور انکے سینے میں موجزن بحرِ موودت دونوں کی ترجمانی کر رہا ہے۔ اور اس مرثیہ کے لکھنے سے اردو ادب کے رثائ سرمایہ میں بلاشبہ گرانقدر اضافہ ہوا ہے ۔۔
کلام پروفیسر کرار حسین مرثیہ
کربلا کربلا ! ارضِ کرب و بلا
مہرِ صدق و صفا کے سپہرِ بریں
رازہاۓ فنا و بقا کی امیں
خاتمِ موت پر زندگی کا نگین
با ادب ! با ادب
میرے دل کی تڑپ
دیکھ ، پھر دیکھ
اے میری چشمِ یقین
حق کی آیات بکھری ہوئ ہیں یہاں
عرشِ اعظم کے تارے ہیں ذرے نہیں
مہبطِ انبیا ، قبلہِ اولیا
سجدہ گاہِ ملائک ہے یہ سرزمیں
پاکستان آنے کے بعد انہوں نے حسب ذیل تعلیمی اداروں میں بحیثیت استاد اور بعد میں بحیثیت پرنسپل و سربراہِ جامعہ خدمات انجام دیں
اسلامیہ کالج ، کراچی
گورنمنٹ کالج میر پور خاص
گورنمنٹ کالج خیر پور
گورنمنٹ کالج کوئٹہ
بلوچستان یونیورسٹی
جو حسین کی غلامی کا شرف پاتے ھیں ان کے آثار زمانے پر انمٹ نقوش کی مانند نمایا ں رھتے ھیں محترم پروفیسر کرار حسین سفر امام کے ساتھ اپنے سفر آخرت پر روانہ ھوئےاتنی بلند مرتبہ ھستی کے شایان شان میرے پاس کوئ لفظ ھیں ھی نہیں پھر بھی یہ جسارت صرف اس اظہار عقیدت کے لئے ھے جو صرف میرے دل ھی میں نہیں لا تعداد لوگوں کے دل میں ھے
کلام پروفیسر کرار حسین
ہے دشتِ دہر بہت پُر غبار آجاؤ
مرے سوار ، مِرے شہسوار آجاؤ
زمیں خدا کی ہے ظلم و فساد سے بیزار
مِرے امامؑ ، مِرے شہر یار آجاؤ
کمالِ شوق ہے گلشن میں پھول کِھلتے ہیں
سدھار جاتے ہیں بیگانہ وار آجاؤ
فلک پہ چاند ستارے ہیں کب سے چشم براہ
ہے کہکشاں نگہِ انتظار آجاؤ
ہیں آسمان و زمیں ایک دیدۂ بیخواب
نگارِ محملِ لیل و نہار آجاؤ
ان کو خطابت اور مضمون نگاری کے علاوہ شاعری سے بھی شغف رہا ہے۔ ان کی اولاد میں پروفیسر شائستہ زیدی، سینیٹر تاج حیدر، پروفیسر شبیہ حیدر اور صادقہ صلاح الدین تعلیمی، سیاسی و سماجی شعبہِ زندگی میں بہت فعال ہیں۔
۔ 7نومبر 1999ء کو پروفیسر کرار حسین کراچی میں وفات پاگئے اور کراچی ہی میں سخی حسن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔
ایسے آفتاب جہاں تاب ہیں جو افق ادب پر مسلسل سات عشروں تک ضوفشاں رہے۔ ان کے افکار کی ضیا پاشیوں سے سفاک ظلمتیں کافور ہوئیں، مثبت شعورو آگہی کو پروان چڑھانے میں مدد ملی اور حریت فکر کی درخشاں روایت کو تقویت ملی۔تاریخ ہر دور میں ان کے علمی کام کو قدر کی نگاہ سے دیکھے گی اور ان کے نام کی تعظیم کرے گی۔
ان کی تحریروں سے وہ سفر طے ضرور ہوگا جس کی منزل امن و آتشی اور حسن و فطرت پر منتج ہے۔ ہم بھی اگلی نسلوں کو کہہ سکیں گے کہ ہم نے وہ آنکھیں دیکھی ہیں جو عہد جدید کے آخری داستان گو کی تھیں۔
تحریر آفتاب احمد













