ترجمان دفترخارجہ عاصم افتخار نے کہا ہے کہ بھارتی فوج کے نام نہاد ڈوزیئر کی رپورٹس کاجائزہ لیا گيا، ڈوزیئرمیں پاکستان کے خلاف بے بنیادالزامات لگائے گئے۔
ترجمان دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان جھوٹے اور خود ساختہ ڈوزيئر کو یکسر مسترد کرتا ہے۔ بھارتی فوج کی جانب سے دہشتگردی میں پاکستان کو ملوث کرنے کی ناکام کوشش کی گئی، نام نہاد ڈوزيئرجعلی اور غلط معلومات پر مبنی ہے۔ ڈوزيئر ان اداروں نے گھڑا جو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دہشتگردی سے توجہ ہٹانا چاہتے ہیں۔
امریکا سے اقتصادی، تجارتی، سیکیورٹی پر مبنی گہری شراکت داری چاہتے ہیں: ترجمان دفترخارجہ
ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار نے کہا ہے کہ ہم امریکا سے اقتصادی، دفاعی، تجارتی ،موسمیاتی تبدیلیوں، سیکیورٹی اور تعلقات پر مبنی گہری شراکت داری چاہتے ہیں، دونوں ممالک کے مفاد میں ہے کہ وہ ان تعلقات کو لے کر آگے بڑھیں، حالیہ دنوں میں سفارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے، چینی اور امریکی عہدیداروں کے دوروں سے پاکستان کی امریکا اور چین دونوں سے باہمی مفادات پر مبنی تعلقات میں اضافہ کی خواہش کا اظہار ہوتا ہے۔
ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ چینی کمیونسٹ پارٹی کے پولٹ بیورو کے ڈائریکٹر نے پاکستان کا دورہ کیا، دورے کے دوران حکومت کے سی پیک منصوبوں کو تیز رفتاری سے مکمل کرنے کے عزم کی تجدید کی گئی، کورونا وبا کے پھیلاؤ کی روک تھام اور چین میں پاکستانی طلبہ کی تعلیم کی بحالی پر شکریہ ادا کیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ کراچی دہشت گردی واقعہ کی تحقیقات کی جارہی ہیں اور چینی اساتذہ پر حملے کی تحقیقات ترجیحی بنیادوں پر جاری ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارتی ناظم الامور کو سوشل میڈیا پر پاکستانی سفارت خانوں تک رسائی روکنے پر طلب کیا گیا، پاکستان کی جانب سے اس حوالے سے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔ پاکستان کشمیری عوام کی منصفانہ جدوجہد میں ان کی حمایت جاری رکھے گا، مقبوضہ کشمیر میں رواں ہفتے ایک درجن کے قریب کشمیری نوجوانوں کو جعلی گھیرائو اورتلاشی آپریشنز میں گرفتار کیا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ گذشتہ روز وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا امریکی وزیر خارجہ سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا، علاقائی صورتحال پر دونوں فریقین نے افغانستان میں مذاکرات جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ پاکستان اور امریکا کے سیکورٹی اور ڈیفنس کے شعبوں میں دیرینہ تعلقات ہیں، پاکستان اور امریکہ کا انسداد دہشتگردی گردی میں بھی تعاون جاری ہے۔ امریکی صدر کے خصوصی نمائندے نے بھی گزشتہ دنوں پاکستان کا دورہ کیا۔ امریکہ نے خود پچھلے دنوں اظہار کیا کہ اب وہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو پاکستان اور چین کے تعلقات کے تناظر میں نہیں دیکھ رہے۔












