بھارتی سفارت کاروں کے طالبان سے روابط ہیں، دفترخارجہ

0
574

مونا خان…ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا کا کہنا ہے کہ بھارتی سفارت کاروں کے تحریک طالبان سے روابط ہیں، وہ سی پیک منصوبے کو تباہ اور پاک چین تعلقات کو متاثر کرنا چاہتے تھے، ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر خلاف ورزی کے بعد اب بھارت نے ویانا کنونشن اور عالمی قوانین کی بھی خلاف ورزیاں کی ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے اپنے دفتر میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی سفارت خانے کے 8 اہلکار، را اور آئی بی کے ایجنٹ،پاکستان میں تخریب کاری میں ملوث ہیں، ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر خلاف ورزی کے بعد اب بھارت نے سفارتی آداب، ویانا کنونشن اور عالمی قوانین کی بھی خلاف ورزیاں کی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ لوگ پاکستان میں اپنے کارندوں کے ذریعے تخریبی کارروائیاں کروا رہے تھے، بھارتی ہائی کمیشن میں تعنیات 8اہلکار پاکستان دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہیں، بھارت پاک افغان تعلقات کی خرابی پر بھی عمل پیراتھا اور تجارتی سرگرمیوں کی آڑ میں اپنے کارندوں کا جال بچھا رہا تھا۔

نفیس زکریا نے نیوز بریفنگ میں یہ بھی کہا کہ بھارت پاکستانی سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں دراندازی کے ذریعے ہمارے قومی مفاد کو گزند پہنچانا چاہتا تھا،نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے اہلکار کو حراست میں لے کرہراساں کیا گیا جو ویانا سفارتی کنونشن کی خلاف ورزی تھی۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ سفارت خانے کے اہلکاروں کو ویانا کنونشن کے تحت حراست سے سفارتی استثنیٰ حاصل ہے، پاکستان ویانا کنونشن کا احترام کرتا ہے، بھارتی ہائی کمیشن میں تعینات کمرشل قونصلر راجیش کمار اگنی ہوتری، فرسٹ سیکریٹری کمرشل انوراگ سنگھ، ویزا اتاشی امردیپ سنگھ، اسٹاف ممبر دھرمندرا، اسٹاف ممبر وجے کمار ورما، اسٹاف ممبر مادھون نندا کمار را کے ایجنٹ جبکہ فرسٹ سیکریٹری پریس بلبیر سنگھ، اسسٹنٹ پرسونل ویلفیئر آفیسرجیا بھالن، انڈین انٹیلی جینس بیورو کے اہلکار تھے، بھارتی اہلکاروں کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دیے جانے بارے معاملہ زیر غور ہے

SHARE

LEAVE A REPLY