کمسن بچے کو دہشتگرد تنظیم داعش نے اغواء کر لیا

0
105

عراق سے تعلق رکھنے والے ایک کمسن بچے کو دہشتگرد تنظیم داعش نے صرف اس لیے اغواء کر لیا کیونکہ اس کے والد نے اس کا نام فٹبال سٹار لیونل میسی کے نام پر رکھا تھا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے میں چھپنے والی رپورٹ کے مطابق شدت پسند اور دہشتگرد گروپ داعش نے ایک کمسن عراقی بچے کو صرف اس لیے اغواء کر لیا کیونکہ اس کا نام لیونل میسی تھا۔ 2014ء میں شمالی عراق کے علاقے سنجار سے جب میسی کو اغواء کیا گیا تو اس کی عمر صرف 3 سال تھی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ داعشی جنگجو میسی کے والدین سے بچے کی رہائی کے لیے تاوان کا مطالبہ کرتے رہے ہیں مگر ان کے پاس شدت پسندوں کو دینے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ اس لیے وہ بیٹے کی رہائی کے لیے تاوان ادا نہیں کرسکے۔
داعش کے دہشتگردوں نے اس کا زبردستی نام بھی تبدیل کر دیا تھا، ننھا لیونل میسی تقریبا دو سال سے زائد عرصہ تک داعش کی قید میں رہا تاہم اسے بازیاب کروا لیا گیا جو اب واپس اپنے والدین کے ساتھ ایک مہاجر کیمپ میں زندگی گزار رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق کرد افواج نے 2016ء کئی گھرانوں کو داعش کی قید سے آزاد کروانے کے بعد پناہ گزین کیمپ میں پہنچایا جن میں ننھا میسی اور اس کا خاندان بھی شامل ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق میسی جب تک داعش کی قید میں رہا اس کی برین واشنگ کی جاتی رہی۔ اس کا ذہن اتنا منتشر ہو چکا تھا کہ وہ کسی بھی آہٹ یا آواز سے چونک جاتا اور خوف زدہ ہو کر ادھر اُدھر دیکھنے لگتا تھا

SHARE

LEAVE A REPLY