جابر بن عبد اللہ بن عمرو بن حرام الأنصاري اللہ کے نبی آخر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک تھے جن کا تعلق یثرب سے تھا۔ جابر نےعقبۂ ثانی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی۔ وہ کثیر الحدیث صحابی اور حدیث لوح کے راوی ہیں اس حدیث میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبان سے ائمۂ شیعہ کے اسماء مبارک درج ہیں۔
جابر امام حسین کے مزار کے پہلے زائر ہیں۔ وہ (واقعہ کربلا کے چالیس دن بعد) روز اربعین کربلا پہنچے اور امام محمد باقر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا سلام پہنچایا۔
جابرکے پردادا عَمرو بن حرام بن کعب بن غَنْم تھے ان کا سلسلہ نسب خَزْرَج سے جا ملتا ہے۔
جابر کے والد ہجرت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پہلے مسلمان ہوئے اوردوسری بیعت عقبہ میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ عہد کیا اور ان بارہ نقیبوں میں سے ایک تھے جنہيں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے قبیلوں کے نمائندوں کے طور پر مقرر کیا تھا۔ وہ غزوہ بدر میں شریک تھے اور غزوہ احد میں شہید ہوئے۔
جابر کی کنیت ان کے بیٹوں کے ناموں کی مناسبت سے مختلف تاریخی منابع میں مختلف ہے لیکن ان کی صحیح تر کنیت “ابو عبد اللہ” مانی گئی ہے
جابر بن عبد اللہ ہجرت سے پندرہ سال پہلے مدنیہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق قبیلہ خزرج کے ایک غریب خاندان سے تھا۔ آپ کم عمری میں اسلام لائے اور بے شمار غزوات میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ساتھ دیا۔ والد کا نام عبد اللہ اور والدہ کا نام نصیبا بنت عقبہ بنت عدی تھا جو ان کے والد کے خاندان ہی سے تھیں۔ آپ کے والدعبد اللہ انصاری غزوہ احد میں شہید ہوئے۔ ان کی نسل کو بنو حرام کہا جاتا ہے جو آج بھی مسجد قبلتین کے قریب رہائش رکھتے ہیں۔
جابر بن عبد اللہ سات بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے۔ بعض روایات کے مطابق ایک دفعہ وہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ :اے جابر تم ایک لمبی زندگی پاؤ گے اگرچہ اندھے ہو جاؤ گے مگر تمہاری ملاقات میری اولاد میں سے ایک شخص سے ہوگی وہ میرا ہم نام ہوگا اور میری طرح چلتا ہوگا جو پانچواں امام ہوگا۔ جب اسے ملو تو میرا سلام کہنا۔ یہ بات پوری ہوئی جب ان کی ملاقات امام محمد باقر سے ہوئی۔
جن غزوات میں جابر نے شرکت کی ہے ان کی تعداد مختلف منابع نے مختلف بتائی گئی ہے۔ انہوں نے خود کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ستائیس غزوات میں سے انیس میں شریک رہے ہیں” جابر نے بعض سرایا میں بھی شرکت کی ہے اور ان سرایا کی روئداد بھی نقل کی ہے
سنہ 3 ھ میں غزوہ ذاتُ الرَقاع سے پہلے، جابر نے سُہَیمہ، بنت مسعود بن اوس، نامی بیوہ خاتون سے شادی کی تا کہ والد کی شہادت کے بعد اپنی 9 بہنوں کی بہتر سرپرستی کرسکیں۔
اس زمانے میں جابر کو معاشی مسائل کا سامنا تھا اور انہیں والد کے کچھ قرضے ادا کرنے تھے۔ کچھ عرصہ بعد (سنہ 4 ھ میں) غزوہ ذات الرقاع سے واپسی کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جابر کا حال پوچھا اور آبرومندانہ انداز سے ان کے قرضے ادا کیے اور ان کے لیے طلب مغفرت کی
بعض روایات کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جابر کے ساتھ رویہ ہمیشہ شفقت آمیز رہا جابر کا تعلق بھی الفت اور محبت آمیز تھا۔ ایک دفعہ جابر بیمار پڑ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کی عیات کے لیے گئے اور جابر نے ـ جو گویا اپنی تندرستی سے مایوس ہوچکے تھے ـ بہنوں کے درمیان میں اپنے ترکے کی تقسیم کے بارے میں سوالات پوچھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں طویل عمر کی خوشخبری دی اور ان کے سوال کے جواب میں ایک آیت نازل ہوئی جو آیت کلالہ کے نام سے مشہور ہوئی
وہ جنگ صفین میں امیرالمؤمنین امام علی کی سپاہ میں شامل تھے۔
امیرالمؤمنین مولا علی کی خلافت کے اواخر میں جب معاویہ کے گماشتوں نے شہروں کو غارت کرنا شروع کیا تو مدینہ بھی اس لوٹ مار اور قتل و غارت سے محفوظ نہ رہا۔ معاویہ کی طرف سے بُسر بن اَرْطاۃ نے سنہ 40 ھ میں مدینہ پر حملہ کیا تو جابر کا قبیلہ یعنی قبیلۂ بنو سَلَمہ بھی اس حملے میں نشانہ بنا اور بسر بن ارطاۃ نے اس قبیلے سے بیعت کا مطالبہ کیا۔
جابر جو بُسر کی بیعت کو گمراہی اور ضلالت سمجھتے تھے، نے ام المؤمنین ام سلمہ کے گھر میں پناہ لی اور آخر کار ام سلمہ کے مشورے سے خونریزی کا سد باب کرنے کی غرض سے، بیعت کر لی۔
معاویہ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد (سنہ 50 ھ میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے منبر کو دمشق منتقل کرنے کا فیصلہ کیا جابر ان لوگوں میں سے ایک تھے جو معاویہ کے پاس گئے اور اس کو اس عمل سے روکا تو وہ باز رہے
جابر نے سنہ 50 ھ کے عشرے میں مصر کا سفر کیا۔ بعض مصریوں نے ان سے حدیثیں نقل کی ہیں۔ ان دنوں جابر کے قبیلے سے تعلق رکھنے والا مَسلَمۃ بن مُخَلَّد انصاری، مصر کا والی تھا اور ابن مَنْدَہ، کی روایت کے مطابق جابر نے مسلمہ کے ہمراہ شام اور مصر کا سفر اختیار کیا۔
حدیث کے بعض منابع کے مطابق جابر نے عبداللہ بن أُنَیس سے قصاص کے بارے میں ایک حدیث سننے کی غرض سے شام کا سفر کیا؛ جس کی تاریخ نامعلوم ہے۔ وہ معاویہ کے دور میں شام گئے جہاں انہیں معاویہ کی بے اعتنائی کا سامنا کرنا پڑا۔ جابر معاویہ کے اس رویے سے سخت ناراض ہوئے اور مدینہ کی طرف واپس روانہ ہوئے اور معاویہ کی طرف سے 600 دینار کا ہدیہ بھی قبول نہيں کیا۔ جابر کے ساتھ معاویہ کے طرز سلوک کو خلیفۂ ثالث کے قتل کے بموجب اہلیان مدینہ کی توہین و تذلیل کی اموی روش کا تسلسل اور حصہ سمجھا جاسکتا ہے
جابر نے مسجد نبوی میں اپنا حلقۂ درس دائر کیا تھا جہاں وہ حدیثیں املا کرتے اور لکھواتے تھے اور تابعین کی ایک جماعت ان سے علم حاصل کرتے اور حدیثیں لکھتے تھے۔
جابر سے بڑی تعداد میں راویوں نے حدیثیں نقل کی ہیں جن میں سعید بن مُسیب، حسن بن محمد بن حنفیہ، عطاء بن ابی رباح، مجاہد بن جَبر، عمرو بن دینار مکی، عامر بن شراحیل شعبی اور حسن بصری سر فہرست ہیں
جابر اور واقعۂ عاشورہ
واقعۂ عاشورہ اور شہادت امام حسین کے وقت جابر بن عبد اللہ انصاری مدینہ کے معمر بزرگوں میں شمار ہوتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذریت کے لیے فکرمند تھے۔ امام حسین نے یزیدی کے والی عبید اللہ بن زیاد کے لشکر سے خطاب کرتے ہوئے جابر بن عبد اللہ کو اپنے مدعا کے گواہ کے عنوان سے متعارف کرایا ہے۔
کثیر احادیث کی روایت
آپ سے 1500 سے زائد احادیث روایت کی گئی ہیں۔ آپ ان کو مدینہ میں مسجد نبوی میں اور مصر و دمشق میں بیان کیا کرتے تھے۔
اہل سنت کے منابع حدیث کے ذریعے منقولہ مسند جابر، 1540 احادیث پر مشتمل ہے جن میں سے 58 حدیثیں بخاری اور مسلم کے ہاں متفق علیہ ہیں۔
احمد بن حنبل نے جابر کی حدیثیں اپنی مسند میں
جمع کی ہیں۔ مسند جابر بن عبداللہ بروایت ابو عبدالرحمن بن احمد بن محمد بن حنبل، مراکش کے خزانۃ الرباط میں موجود ہے
جو غالبا مسند احمد بن حنبل میں منقولہ جابر بن عبد اللہ کی روایات پر مشتمل ہے۔ حسین واثقی نے بھی جابر کی روایات شیعہ کتب حدیث سے جمع کرکے اپنی کتاب جابر بن عبداللہ الانصاری حیاتہ و مسندہ میں شائع کی ہیں۔
اہم ترین کاوش جو منابع میں جابر سے منسوب کی گئی ہے صحیفۂ جابر ہے۔ یہ صحیفہ ـ جو تدوین حدیث کی قدیم ترین صورت ہے ـ سلیمان بن قیس یشْکری نے تالیف کیا ہے لیکن بعد کے راویوں نے ـ سلیمان کی اچانک وفات کی وجہ سے ـ یہ حدیثیں سماع اور قرائت کے بغیر مذکورہ صحیفے سے نقل کی ہیں۔
اس صحیفے کا ایک نسخہ استنبول کے مجموعے شہید علی پاشا میں موجود ہے
اولاد
جابر کی اولاد میں عبدالرحمن، محمد محمود، عبداللہ اور عقیل شامل ہیں۔
وفات
انہوں نے چورانوے سال کی عمر پائی اور 68 یا 78ھ میں وفات پائی۔
جابر عمر کے آخری سالوں میں ایک سال تک مکہ میں بیت اللہ کی مجاورت میں مقیم رہے۔ اس دوران میں عطاء بن ابی رَباح اور عمرو بن دینار سمیت تابعین کے بعض بزرگوں نے ان کا دیدار کیا۔ جابر عمر کے آخری برسوں میں نابینا ہوئے اور مدینہ میں دنیا سے رخصت ہوئے۔
۔ بعض مؤرخین اور محدثین سے منقولہ روایت کے مطابق جابر بن عبداللہ انصاری نے سنہ 78 میں، 94 سال کی عمر میں وفات پائی اور والی مدینہ ابان بن عثمان نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔
روایات کے مطابق انہیں حجاج بن یوسف نے زہر دلوایا تھا۔ انہیں بغداد کے قریب مدائن میں دریائے دجلہ کے قریب دفن کیا گیا۔
قبر کشائی
1932ء میں عراق کے اس وقت کے بادشاہ شاہ فیصل کو خواب میں صحابیِ رسول حذیفہ بن یمانی معروف بہ حذیفہ یمانی کی زیارت ہوئی جس میں انہوں نے بادشاہ کو کہا کہ اے بادشاہ میری قبر میں دجلہ کا پانی آ گیا ہے اور جابر بن عبد اللہ کی قبر میں دجلہ کا پانی آ رہا ہے چنانچہ ہماری قبر کشائی کر کے ہمیں کسی اور جگہ دفن کر دو۔ اس کے بعد ان دونوں اصحابِ رسول کی قبریں سینکڑوں لوگوں کی موجودگی میں کھولی گئیں جن میں مفتیِ اعظم فلسطین، مصر کے شاہ فاروق اول اور دیگر اہم افراد شامل تھے۔ ان دونوں کے اجسام حیرت انگیز طور پر تازہ تھے، جیسے ابھی دفنائے گئے ہوں۔ ان کی کھلی آنکھوں سے ایسی روشنی خارج ہو رہی تھی کہ دیکھنے والوں کی آنکھیں چکا چوند ہو گئیں۔ ہزاروں لوگوں کو ان کی زیارت بھی کروائی گئی جن کے مطابق ان دونوں کے کفن تک سلامت تھے اور یوں لگتا تھا جیسے وہ زندہ ہوں۔ ان دونوں اجسام کو سلمان فارسی کی قبر مبارک کے بالکل قریب سلمان پاک نامی جگہ پر دوبارہ دفنا دیا گیا جو بغداد سے تیس میل کے فاصلے پر ہے۔
شیخ طوسی نے جابر کو امام حسین علیہ السلام کے اصحاب کے طور پر ذکر کیا ہے۔۔ واقعۂ کربلا اور شہادت امام حسین علیہ السلام کے وقت جابر بن عبداللہ انصاری مدینے کے معمر بزرگوں میں شمار ہوتے تھے اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذریت کے لئے فکرمند تھے۔ امام حسین علیہ السلام نے عاشورا کے روز میدان کربلا میں عبید اللہ بن زیاد کی جانب سے بھیجے گئے لشکر سے خطاب کرتے ہوئے جابر بن عبداللہ کا نام اپنے مدعا کے گواہ کے طور پر پیش کیا ہے۔ عاشورہ کے دن جب امام نے دشمن سے مخاطب ہو کر خطبہ دیا تو آپ نے فرمایا کہ کیا میں تم لوگوں کے نبی کی بیٹی کا بیٹا نہیں ہوں؟ کیا میں رسول اللہ کا بیٹا نہیں ہوں؟ کیا رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے اور میرے بھائی کے بارے میں نہیں فرمایا کہ یہ دونوں جنت کے جوانوں کے سردار ہیں؟ اگر تمہیں لگتا ہے کہ یہ سب باتیں صحیح نہیں تو کچھ اصحاب ہیں ان سے پوچھو جیسے جابر بن عبد اللہ انصاری اور ابو سعید خدری وغیرہ
امام حسین علیہ السلام کی شہادت کی خبر سننے کے کچھ دن بعد ہی جابر بن عبد اللہ انصاری نے کربلا کا سفر شروع کیا۔ یزید اور ابن زیاد جیسے ظالم اور سفاک افراد نے بھی اسے اس سفر سے نہیں روکا۔ جابر کے ساتھ اس سفر میں اس کا شاگرد عطیہ عوفی بھی تھا۔ شیخ طوسی نے جابر کو امام حسین علیہ السلام کا پہلا زائر قرار دیا ہے، جو ۲۰ صفر ۶۱ ہجری کو کربلا میں وارد ہوئے۔۲۸۔ طبری اپنی سند کے ساتھ عطیہ عوفی سے نقل کرتا ہے کہ عطیہ عوفی نے کہا: عن عطیّة العوفی: خَرَجتُ مَعَ جابِرِ بنِ عَبدِ اللّه ِ الأَنصارِیِّ زائِرَینِ قَبرَ الحُسَینِ بنِ عَلِیِّ بنِ أبی طالِبٍ علیه السلام، فَلَمّا وَرَدنا کَربَلاءَ دَنا جابِرٌ مِن شاطِئِ الفُراتِ فَاغتَسَلَ، ثُمَّ اتَّزَرَ بِإِزارٍ وَارتَدى بِآخَر، ثُمَّ فَتَحَ صُرَّةً فیها سُعدٌ فَنَثَرَها عَلى بَدَنِه، ثُمَّ لَم یَخطُ خُطوَةً إلّا ذَکَرَ اللّه َ تَعالى. حَتّى إذا دَنا مِنَ القَبرِ قال: ألمِسنیهِ فَأَلمَستُهُ فَخَرَّ عَلَى القَبرِ مَغشِیّا عَلَیهِ فَرَشَشتُ عَلَیهِ شَیئا مِنَ الماءِ فَلَمّا أفاقَ قال: یا حُسَینُ ثَلاثا ثُمَّ قال: حَبیبٌ لا یُجیبُ حَبیبَهُ. ثُمَّ قال: وأنّى لَکَ بِالجَوابِ وقَد شُحِطَت أوداجُکَ عَلى أثباجِک، وفُرِّقَ بَینَ بَدَنِکَ ورَأسِک، فَأَشهَدُ أنَّکَ ابنُ خاتَمِ النَّبِیّین وَابنُ سَیِّدِ المُؤمِنین وَابنُ حَلیفِ التَّقوى وسَلیلِ الهُدى وخامِسُ أصحابِ الکِساءِ وَابنُ سَیِّدِ النُّقَباءِ وَابنُ فاطِمَةَ سَیِّدَةِ النِّساءِ وما لَکَ لا تَکونُ هکَذا وقَد غَذَّتکَ کَفُّ سَیِّدِ المُرسَلین ورُبّیتَ فی حِجرِ المُتَّقین ورُضِعتَ مِن ثَدیِ الإِیمانِ وفُطِمتَ بِالإِسلام فَطِبتَ حَیّا وطِبتَ مَیِّتا غَیرَ أنَّ قُلوبَ المُؤمِنینَ غَیرُ طَیِّبَةٍ لِفِراقِک ولا شاکَّةٍ فِی الخِیَرَةِ لَکَ فَعَلَیکَ سَلامُ اللّه و رِضوانُهُ وأشهَدُ أنَّکَ مَضَیتَ عَلى ما مَضى عَلَیهِ أخوکَ یَحیَى بنُ زَکَرِیّا.
میں جابر بن عبد اللہ انصاری کے ساتھ حسین بن علی علیہ السلام کی قبر کی زیارت کرنے کے لئے کوفہ سے نکلے۔ جب ہم کربلا پہنچے تو جابر فرات کے ساحل کے قریب گیا اور غسل انجام دیا اور محرم افراد کی طرح ایک چادر پہنی، پھر ایک تھیلی سے خوشبو نکالا اور اپنے آپ کو اس خوشبو سے معطر کیا اور ذکر الہی کے ساتھ قدم اٹھانا شروع کیا، یہاں تک کہ وہ حسینؑ ابن علیؑ کے مرقد کے قریب پہنچا۔ جب ہم نزدیک پہنچے تو جابر نے کہا کہ میرا ہاتھ قبر حسینؑ پر رکھو۔ میں نے جابر کے ہاتھوں کو قبر حسین پر رکھا۔ اس نے قبر حسینؑ ابن علی کو سینے سے لگایا اور بے ہوش ہو گیا۔ جب میں نے اس کے اوپر پانی ڈالا تو وہ ہوش میں آیا۔ اس نے تین مرتبہ یا حسینؑ کی آواز بلند کی اور کہا: (حبیب لا یجیب حبیبه) کیا دوست دوست کو جواب نہیں دیتا؟ پھر جابر خود جواب دیتا ہے “آپ کس طرح جواب دو گے کہ آپؑ کے مقدس سر کو جسم سے جدا کیا گیا ہے؟ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپؑ پیغمبر خاتم اور امیر المومنین علی ابن ابی طالب اور فاطمہؑ زہرا کے فرزند ہیں اور آپؑ اس طرح کیوں نہ ہوں، کیونکہ خدا کے رسولؑ نے اپنے دست مبارک سے آپؑ کو غذا دی ہے اور نیک لوگوں نے آپؑ کی پرورش اور تربیت کی ہے۔ آپؑ نے ایک پاک اور بہترین زندگی اور بہترین موت حاصل کی ہے، اگرچہ مومنین آپؑ کی شہادت سے محزون ہیں، سے نالاں ہیں، خدا کی رضایت اور سلام شامل حال ہو اے فرزند رسول خدا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپؑ کو ایسی شہادت نصیب ہوئی، جیسے یحییٰ بن زکریا کو نصیب ہوئی تھی۔
صفدر ھمٰدانی
اس مضمون کی تیاری میں انٹرنیٹ کے مواد سے مدد لی گئی ہے جس میں ویکیپیدیا ، اسلام ٹائمز اور چند دیگر ذرائع شامل ہیں













