بھٹی میں مزدوروں کو پھینکنے والے کی مزاحمت،علی شاذف

2
394

میں ارادتاً نہیں لکھتا لیکن آج لکھ رہا ہوں. وہ اس لیے کہ یہ بہت سی غلط فہمیوں کو دور کرنے کا وقت ہے. سب سے پہلی غلط فہمی یہ کہ دنیا سے سرخ مزاحمت ختم ہوگئ ہے. یہ ایک بہت بڑی خودفریبی ہے. سچ تو یہ ہے کہ یہ دور پاکستان سمیت پوری دنیا میں سوشلزم کے ابھار کا دور ہے. انتہائی تیز رفتاری سے رونما ہونے والی زمینی تبدیلیاں بہت جلد برپا ہونے سرخ انقلاب کا پیش خیمہ ہیں. وہ وقت دور نہیں جب اس انقلاب میں سرمایہ داری اپنی تمام تر غلاظتوں سمیت خس و خاشاک کی طرح بہہ جائے گی.

پاکستان میں طلبہ اور محنت کش بہت تیزی کے ساتھ منظم ہو رہے ہیں. اس کا ثبوت منظور پشتین کی تحریک کے دوران خفیہ ایجینسیوں کی شدید بوکھلاہٹ ہے. اس تحریک کے دوران ایک موڑ پر پروگریسو یوتھ الائنس اور ریڈورکرز فرنٹ کے نوجوان کارکنوں کو اغوا کر کے بدترین ریاستی تشدد کا نشانہ بنایا گیا. اس کے ردعمل میں پوری دنیا میں انٹرنیشنل مارکسسٹ ٹینڈینسی کے کارکنوں نے زبردست احتجاج ریکارڈ کیا. اس بین الاقوامی دباؤ سے ڈر کر ریاست ان کارکنوں کو رہا کرنے پر مجبور ہو گئ. یہ ایک انہونی تھی کیونکہ بےشمار لاپتہ افراد کئی سالوں سے ان ٹارچر سیلز میں مقید ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے. دوران حراست تشدد کے نتیجے میں کچھ کارکن جسمانی معذوری اور پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس سنڈروم کا شکار بھی ہوئے. میں ان ترقی پسندوں سے ملتمس ہوں جو یہ کہتے ہیں کہ سرخ مزاحمت ختم ہو چکی کہ وہ آ کر ان نوجوانوں سے ملیں اور اپنی غلط فہمی دور کریں.

کچھ ترقی پسند دانشور اس وقت میاں نواز شریف جیسے ظالم اور جابر سرمایہ دار کے بیانیے کو اسٹیبلشمنٹ کے خلاف مزاحمت کی علامت بنا کر بھی پیش کر رہے ہیں. ان کے نزدیک نواز شریف کے موجودہ بیانیے نے اس کے سارے گناہ دھو کر اسے “چی گویرا” بنا دیا ہے. یہ دانشور بھول جاتے ہیں کہ یہ وہی نواز شریف ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے اپنی اتفاق فاؤنڈری کی بھٹی می‍ں مزدوروں کو زندہ پھینک دیا تھا. ہم اسے کیسے مزاحمت کا علمدار مان لیں کہ اس شخص کا محنت کشوں اور ان کے مسائل سے دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں ہے. حقیقت تو یہ ہے کہ میاں نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کی لڑائی سرمایہ داروں کے اپنے اپنے مفادات کی جنگ ہے. حقیقت یہ بھی ہے کہ پاکستان کی اینٹی اسٹیبلشمنٹ سیاست محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے ساتھ 27 دسمبر 2007 کو ختم ہو گئ تھی. یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس وقت “قومی دھارے” کی تینوں جماعتیں لوٹ مار اور اقتدار کی خاطر ملکی یا بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کی محتاج ہیں. میں کیوں اس نواز سے ہمدردی کروں کہ جس کی پالیسیوں کی وجہ سے بےشمار نوجوانوں اور محنت کشوں نے خودکشیاں کر لیں. نچلا طبقہ جو اکثریتی طبقہ بھی ہے آج مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے. لاکھوں بےروزگار نوجوان ڈگریاں تھامے دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں. سینکڑوں مریض ہسپتالوں میں علاج کی ناکافی سہولیات کی وجہ سے سسک سسک کر دم توڑ رہے ہیں. میں کلثوم نواز کی بیماری کی وجہ سے نواز سے ہمدردی کیوں کروں جب کہ ان کی بیماری قدرتی ہے. وہ این اے 120 میں کسی فوجی کی گولی کا نشانہ نہیں بنیں. مزید یہ کہ انہیں پاکستان میں نہیں بلکہ لندن کے بہترین ہسپتال میں جدید ترین طبی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں. میں اس مریم نواز کی گرفتاری کی وجہ سے نواز کی حمایت کیوں کروں جو جیل کو اپنی سیاسی لانچنگ اور مسلم لیگ ن جیسی دائیں بازو کی سرمایہ دار جماعت کی بقا کا واحد راستہ اور خود کو نوازشریف کا وارث سمجھتی ہے. انتہائی دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ 13 جولائی کو بکاؤ میڈیا داعش کے ہاتھوں شہید ہونے والے 200 افراد کو بھول کر نوازشریف کی معمولی گرفتاری کو بڑھا چڑھا کر عوام کے سامنے پیش کرتا رہا. حقیقت تو یہ ہے کہ لاہور کے عوام اس سارے کھیل تماشے سے مکمل طور پر لاتعلق رہے.

ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی انتخابی سیاست لوٹ مار اور استحصال کی سیاست ہے. یہ چوروں، لٹیروں اور رسہ گیروں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی سیاست ہے. ہم اس جعلی سیاست اور نقلی مزاحمت اور اس میں حصہ دار تمام اسٹیک ہولڈرز کو یکسر مسترد کرتے ہیں، خواہ وہ تینوں بڑی سیاسی پارٹیاں ہوں، اسٹیبلشمنٹ ہو، اس کے کٹھ پتلی دہشت گرد طالبان ہوں یا بکاؤ میڈیا ہو.

علی شاذف

SHARE

2 COMMENTS

LEAVE A REPLY