مجھے بہت سے دوست اور قریبی احباب مردم آزار شخص کہتے ہیں اور شاید کسی حد تک درست بھی ہیں مگر یہ مردم آزاری نہیں مردم بیزاری ہے
اور مردم بیزاری کی وجہ لوگوں رشتے داروں قرابر داروں اور شناسا لوگوں کی منافقت ہے جس سے میں اوائل عمری سے ہی بیزار رہا ہوں
مجھے یاد ہے ستر کے وسط میں لاہور کے باغ جناح میں شام میں جا کر قدیم درخت سے لپٹ کر باتیں کیا کرتا تھا اور چند ہی دن بعد درخت باقاعدہ جواب دیتا تھا، شاید میری یہ بات آپکو پاگل پن لگے مگر سچ ہے یہی
اب جو یہ تازہ خبر آئس لینڈ سے موصول شدہ پڑھی ہے تو اپنے پاگل پن کی صداقت محسوس ہوئی ہے
لیجئے یہ خبر آپ بھی پڑھ لیجئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آئس لینڈ میں محکمہ جنگلات نے شہریوں کو درخت کو گلے لگانے کا مشورہ دے دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آئس لینڈ کے محکمہ جنگلات نے شہریوں کی حوصلہ بڑھانے کے لئے کہا ہے کہ صرف پانچ منٹ درخت سے لپٹ کر دکھ بانٹیں اور اس مشکل وقت میں خوش رہیں۔
واضح رہے کہ کورونا وائرس سے آئس لینڈ میں 9 اموات اورایک ہزار 745 افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ مہلک وبا سے اب تک 210 ممالک متاثر ہوئے جہاں ہلاکتوں کی تعداد1 لاکھ 53 ہزار 822 ہو چکی ہے اور 2 لاکھ سے زائد افراد بیمار ہیں۔














تجویز تو واقعی عمدہھے ہی آپ کی مردم بیزاری اور جناح باغ میں درخت باتیں کرنا اور پھر اس کا جواب دینے لگنا حیرت وعرفان ذات و کائنات کی عکاسی کرتا ھے سدا شادوآباد رہیں سیدی