میں ایک زمانے میں درخت سے لپٹ کے باتیں کرتا تھا۔صفدر ھمدانی

1
1820

مجھے بہت سے دوست اور قریبی احباب مردم آزار شخص کہتے ہیں اور شاید کسی حد تک درست بھی ہیں مگر یہ مردم آزاری نہیں مردم بیزاری ہے

اور مردم بیزاری کی وجہ لوگوں رشتے داروں قرابر داروں اور شناسا لوگوں کی منافقت ہے جس سے میں اوائل عمری سے ہی بیزار رہا ہوں

مجھے یاد ہے ستر کے وسط میں لاہور کے باغ جناح میں شام میں جا کر قدیم درخت سے لپٹ کر باتیں کیا کرتا تھا اور چند ہی دن بعد درخت باقاعدہ جواب دیتا تھا، شاید میری یہ بات آپکو پاگل پن لگے مگر سچ ہے یہی

اب جو یہ تازہ خبر آئس لینڈ سے موصول شدہ پڑھی ہے تو اپنے پاگل پن کی صداقت محسوس ہوئی ہے

لیجئے یہ خبر آپ بھی پڑھ لیجئے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آئس لینڈ میں محکمہ جنگلات نے شہریوں کو درخت کو گلے لگانے کا مشورہ دے دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق آئس لینڈ کے محکمہ جنگلات نے شہریوں کی حوصلہ بڑھانے کے لئے کہا ہے کہ صرف پانچ منٹ درخت سے لپٹ کر دکھ بانٹیں اور اس مشکل وقت میں خوش رہیں۔

واضح رہے کہ کورونا وائرس سے آئس لینڈ میں 9 اموات اورایک ہزار 745 افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ مہلک وبا سے اب تک 210 ممالک متاثر ہوئے جہاں ہلاکتوں کی تعداد1 لاکھ 53 ہزار 822 ہو چکی ہے اور 2 لاکھ سے زائد افراد بیمار ہیں۔

SHARE

1 COMMENT

  1. تجویز تو واقعی عمدہھے ہی آپ کی مردم بیزاری اور جناح باغ میں درخت باتیں کرنا اور پھر اس کا جواب دینے لگنا حیرت وعرفان ذات و کائنات کی عکاسی کرتا ھے سدا شادوآباد رہیں سیدی

LEAVE A REPLY