مشہور و معروف شاعر اہل بیت
افسر الشعرا مولانا افسر عباس زیدی مرحوم کا مطبوعہ اور غیر مطبوعہ کلام، ماوراء پبلیکیشنز کے پلیٹ فارم سے اور “ازان وجدان ” کے نام سےچھپ کر منظر عام پر آگیا ہے۔
اس ضخیم کلیات میں صفحات ( 5 انچ × 8.25 انچ) کی تعداد 840 ہے اور یہ 80 گرام کے کاغذ پر نہایت دیدہ زیب سرورق کے ساتھ دستیاب ہے۔
قبلہ مولانا افسر عباس زیدی کے صاحبزادے ڈاکٹر قیصر عباس زیدی نے بہت عرق ریزی کے ساتھ اسے مدون کیا ہے۔
ابتدائی ابواب مولانا کی زندگی کا احاطہ کرنے کے ساتھ ساتھ علماء، اہل ادب اور اہل عقیدت کی، مولانا کے بارے میں آراء پر مشتمل ہیں۔ آیت اللہ علامہ عقیل الغروی صاحب نے اس کلیات کا ایک طویل دیباچہ لکھا ہے۔ مزید برآں یہ کلیات علامہ طالب جوہری، احمد ندیم قاسمی اور افتخار عارف صاحب کی آراء سے بھی مزین ہے۔
مولانا کی شاعری کے حوالے سے بھی کئی مضامین اس کلیات کا حصہ ہیں۔ اس کلیات کا سب سے دلچسپ باب مولانا کے خاندان کی تاریخ پر مبنی ہے۔ آئینہ تصاویر کے عنوان سے مولانا کی زندگی کا ایک اجمالی خاکہ بھی اس کلیات کا حصہ ہے۔
جہاں تک مولانا کی شاعری کا تعلق ہے تو یہ کلیات مولانا کی شاعری کی سات کتابوں پر مشتمل ہے۔ چھ کتابیں مدح اہل بیت کے حوالے سے ہیں اور ایک کتاب مولانا کی غزلوں پر مشتمل ہے۔ مجموعی طور پر دس ہزار (10000) سے زیادہ اشعار اس کلیات کا حصہ ہیں۔ جس میں رباعیات، قطعات، سلام مسدس اور مرثیے کے علاوہ ساقی نامہ اور مثنویاں بھی شامل ہیں۔
مولانا اپنے زوردار قطعات اور پر جوش انداز ادائیگی کی وجہ سے معروف تھے۔
اس مجموعے میں آپ کو اہل بیت کی منقبت خاص طور پر مولا علی علیہ السلام کی مدح اپنے کمال پر نظر آئے گی۔













