ریڈیو پاکستان کی انتظامیہ کو اپنی اہلیت کا جواب سب سے پہلے دینا ہو گا

2
1538

عالمی اخبار نمائیندہ اسلام آباد

ریڈیو پاکستان میں روز بروز صورت حال سنگین اور پیچیدہ ہوتی چلی جا رہی ہے۔ ایک طرف ساڑھے چار ہزار پنشنرز کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں اور دوسری طرف ریڈیو ہیڈ کوارٹر نے ڈی جی کے حکم پر ریڈیو کے عالمی دن پر ہونے والی ناکام تقریب پر ایک کروڑ کے قریب رقم خرچ کر دی ہے۔

صرف اسلام آباد میں ہونے والی تقریب میں بتیس لاکھ روپے سے زیادہ پیسہ خرچ ہوا ہے لیکن صدر دفتر کے لوگوں کے بقول کچھ بھی حاصل وصول نہیں ہوا۔ نجی ایف ایم جن سے ریڈیو پاکستان کے سربراہ پیسے کمانے کی گائیڈ لائن لینا چاہتے تھے انہوں نے مشورے دینے کی بجائے اپنے رونے روئے۔ ان مدعوئین میں تین ایف ایم چینل ایسے بھی تھے جو پمرا کے ڈی فالٹر ہیں

ایسی ناگفتہ صورت حال میں ریڈیو کو اپنی جاگیر سمجھنے والے ٹولے نے اب ایک اور نیا حکم نامہ جاری کیا ہے۔ یہ حکمنامہ ڈی جی کی اشیر باد سے ایڈمن مینجر جواد احمد قریشی کے دستخطوں سے اکیس فروری دوہزار تئیس کو جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق ملک بھر کے نشریاتی مراکز کے ایس ڈیز سے کہا گیا ہے کہ انکے زیر نگرانی کام کرنے والے ملازمین کی تنخواہ کو اب انکی کارکردگی اور اہلیت سے منسلک کیا جائے گا اور اسکا اطلاق ماہ فروری کی تنخواہ کی ادائیگی سے ہو گا

ایس ڈیز کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے ملازمین کی کارکردگی کا جائزہ ہر ماہ پیش کریں گے جسکی بنیاد پر ملازمین کو تنخواہ کی ادائیگی ہو گی

اس بچہ سقہ حکومت کے حکمنامے کا اصل شکل میں قارئین کے لیئے پیش کیا جا رہا ہے

ریڈیو پاکستان کے سینئر ملازمین نے اس احمقانہ اقدام پر حیرت کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ریڈیو پاکستان میں کام کی نوعیت سے ناواقف وزارت اطلاعات کے بابو اس قومی ادارے کو بیکو کا کارخانہ یا کوئی فیکٹری سمجھتے ہیں جہاں ایک گھنٹے میں دس بائیسکل تیار ہوتی ہیں۔ ان افسران کو ریڈیو پاکستان کے پروگراموں کی تیاری اور اسکے مراحل سے قطعی کوئی آشنائی نہیں ہے

اسلام آباد میں ایک کنٹرولر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے شرط پر بتایا ہے کہ

اس آرڈر کے تحت سب سے پہلے منیجمنٹ کی تنخواہ بن ہو جانا چاہیے. ان کی نا اہلی اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے ریڈیو اس حالت پہ پہنچ گئ ہے. جہاں پہ
*ٹرانسمیٹرز ناکارہ ہو گئے
*جنریٹرز کو ناکارہ کر دئے گئے
* میڈیکل بند
* ہائرنگ بند
* ٹرانسپورٹ بند
* ٹی اے ڈے اے بند
*چھوٹے سٹاف کے پرموشن بند
* پنشن بند
* ونٹر الاؤنس بند
* دفتری امور کو انجام دینے کے لے کاغذ تک نہیں.
*ہر ماہ فنڈ جاری کرانے کے لئے یونین کی خدمات لی جاتی ہے-
یہ سب  منیجمنٹ کی ہی نا اہلی ہے.
یہ ریڈیو پاکستان ہے یہ کسی کی ذاتی کارخانہ نہیں. جہاں پسند نا پسند پہ تنخواہ اور پرموشنز دی جائے. مالازمین کی کارکردگی جانچنے کرنے کے لئے اے سی آرز لکھی جاتی ہیں یہی کافی ہیں. کیا ریڈیو کے ڈی جی اور انکے حواری ملازمین کو خودکُش بمبار بنانا چاہتے ہیں؟.

ایک اور ملازم نے کہا

گورنمنٹ کے رولز بنانے والے بیوقوف تو نہی تھے جنہوں نے ایسٹا کوڈ ڈیزائن کیا اے سی آر کا رول بنائے۔ ایسے تو کسی فیکٹری میں بھی نہی ہوتا۔۔۔ وہاں کام لینے والے سپروائزر ہوتے ہیں جو پروڈکشن کنٹرول کرواتے نہ کہ مزدور کی دیہاڑی کم کراتے پھریں

یہ تو ملازمین کو تنخواہیں نہ دینے کا اعلان ہے سیدھا سیدھا

ملازمین نے اس صورت کو انتہائی خطرناک قرار دیا ہے اور حکومت کے علاوہ وزیر اطلاعات کو فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے

SHARE

2 COMMENTS

LEAVE A REPLY