سپریم کورٹ نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنماء اور سابق صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کی ضمانت کی درخواست پر قومی احتساب بیورو (نیب) کو نوٹس جاری کردیا۔

عدالت عظمیٰ نے سماعت کے دوران شرجیل انعام میمن کے وکیل لطیف کھوسہ نے عدالت کو بتایا کہ سندھ میں ملزم سے ضمانتی مچلکے نہیں لیے جاتے بلکہ انہیں قید کر دیا جاتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ انعام اکبر نے چیئرمین نیب کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے اختیار کو چیلنج کر رکھا ہے جس پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک کیس میں نوٹس جاری ہو چکا تاہم باقی افراد کے لیے بھی کیسز بھی جاری کر دیتے ہیں۔

عدالت عظمیٰ نے انعام اللہ اکبر سمیت دیگر 4 ملزمان کی درخواستوں پر بھی نیب کو نوٹسز جاری کردیے۔

بعد ازاں عدالت نے شرجیل انعام میمن کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کو آئندہ برس جنوری کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردیا تاہم اس کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

سابق صوبائی وزیر کے وکیل لطیف کھوسہ نے کمرہ عدالت سے باہر نکل کر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اداروں کو امتیازی سلوک نہیں رکھنا چاہیے۔

لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ نیب زادے اور کچھ نیب زدہ ہیں جس میں صرف نیب زدہ ہی جیل جاتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ اسمبلی میں اس سلوک کے حوالے سے قرارداد بھی پیش کی گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کچھ لوگ عدالتوں میں ایسے پیش ہوتے ہیں جیسے شاہی دربار میں آتے ہوں۔

یاد رہے کہ رواں برس 23 اکتوبر کو سندھ ہائی کورٹ نے صوبائی محکمہ اطلاعات میں 5 ارب 76 کروڑ روپے کی مبینہ بدعنوانی کے معاملے پر شرجیل انعام میمن سمیت دیگر ملزمان کی درخواست ضمانت مسترد کردی تھی جس کے بعد نیب کی ٹیم نے انہیں عدالت سے باہر آتے ہی گرفتار کرلیا تھا۔

سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس احمد علی ایم شیخ کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے پی پی پی رہنما سمیت 13 ملزمان کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی تھی۔

بعد ازاں شرجیل میمن نے سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے ضمانت کی درخواست مسترد کرنے کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی تھی۔

SHARE

LEAVE A REPLY