فوج کے سربراہ جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں پہلت تین سال کی توسیع کے احکامات اور اب چھ ماہ کا حکم جاری ہونے کے بعد دیکھتے ہیں کہ اس اقدام سے کون کون متاثر ہو گا
اعلیٰ عسکری ذرائع کے مطابق فوج پر آرمی چیف کی توسیع سے کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا لیکن ترقی پانے والی فہرست میں پہلے چار جرنیل ہی اس توسیع سے متاثر ہوں گے۔
سنیارٹی کے مطابق فہرست میں پہلے نمبر پر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز ستار ہیں جو اس وقت سٹریٹجک کمانڈ ڈویژن کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر تعینات ہیں۔ اس سے قبل وہ ڈی جی ملٹری انٹیلیجنس کے عہدے پر بھی فائز رہ چکے ہیں اور بھارت میں بطور ملٹری اتاشی کی ذمہ داری بھی ادا کر چکے ہیں۔
دوسرے نمبر پر نہایت ہی اہم عہدے پر فائز موجودہ چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل ندیم رضا ہیں۔ اس سے قبل وہ کمانڈر ٹین کور راولپنڈی بھی رہ چکے ہیں۔ تیسرے نمبر پر لیفٹیننٹ جنرل ہمایوں عزیز کور کمانڈر کراچی اور چوتھے نمبر پر لیفٹیننٹ جنرل نعیم اشرف کور کمانڈر ملتان ہیں۔
اعلیٰ عسکری ذرائع کے مطابق پہلے چار جرنیلوں میں سے ایک ندیم رضا چئیرمین جوائنٹ چیف بن گئے جبکہ باقی تین جنرلز فوج کے کلچر کے مطابق یا تو قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لیں گے یا اپنی مرضی کے مطابق اپنی ٹرم پوری کریں گے۔
البتہ فوجی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع دینا اصولی طور پر درست نہیں
دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جنرل باجوہ کی توسیع سے سب سے پہلے متاثر ہونے والے جنرل کو فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر وائس چیف آف آرمی سٹاف بنایا جا سکتا ہے لیکن اُس کے اختیارات محدود ہو جاتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں آرمی چیف ایک بااثر عہدہ ہے اور جو آفیسر آرمی چیف بن سکتا تھا لیکن اُس کو وائس چیف آف آرمی سٹاف بنایا جائے تو اس کے اندر کچھ کھونے کا احساس باقی رہ جاتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ توسیع دینا اصولی طور پر درست نہیں ہے۔ ’ایسے کام کرنے ہی نہیں چاہیے اس سے ملک اور ادارے کمزور ہوتے ہیں۔ فوج میں ایک میرٹ کا سسٹم ہے اُس کو چلتے رہنا چاہیے۔‘
اسی طرح لیفٹینیٹ جنرل ریٹائرڈ غلام مصطفیٰ نے کہا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کو کہیں بھی اچھا نہیں سمجھا جاتا اور اس کے نقصانات ہوتے ہیں۔
ان کے مطابق: ’توسیع کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آرمی چیف سے نیچے جو لوگ ہیں اُن کو اتنا اہل نہیں سمجھا جا رہا کہ وہ اس عہدے کی ذمہ داری لے سکیں، اور اس لیے موجودہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی جا رہی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ اس سے ’تاثر یہ ابھر سکتا ہے کہ فوج کا ادارہ چار پانچ جنرلز کی ٹریننگ بھی نہیں کر سکا کہ وہ فوج کے سربراہ بن سکیں۔‘
تاہم لیفٹینیٹ جنرل ریٹائرڈ غلام مصطفیٰ نے مزید کہا کہ قبل ازوقت پر آرمی چیف کی توسیع پر ایشو بنانا نہیں چاہیے کیونکہ اس سے موجودہ آرمی چیف اور نیچے والوں پر دباؤ پیدا ہوتا ہے۔
توسیع سے متاثرہ جرنیلوں کے آپشنز؟
اعلیٰ عسکری ذرائع کے مطابق اس سے قبل بھی پاک فوج میں آرمی چیفس کی توسیع ہو چکی ہے اور اُن میں متاثر ہونے والے ایک جرنل کو ڈپٹی چیف آف آرمی سٹاف بنا دیا جاتا ہے جسے وائس چیف آف آرمی سٹاف بھی کہا جاتا ہے۔
وائس چیف آف آرمی سٹاف بھی فور سٹار جنرل ہوتا ہےاور آ رمی چیف کو رپورٹ کرتا ہے اور آرمی چیف کی غیر موجودگی میں قائم مقام بھی ہوتا ہے۔ ماضی میں جنرل مشرف کے دور میں جنرل یوسف خان کو وائس چیف آرمی سٹاف بنایا گیا تھا اور جنرل مشرف کی دوبارہ توسیع کے وقت جنرل احسن سلیم حیات کو وائس چیف آف آرمی سٹاف بنایا گیا تھا۔
ذرائع نے کہا کہ جنرل ضیا کے دور حکومت میں بھی جنرل سوار خان اور اُن کے بعد جنرل خالد محمود عارف کو وائس چیف آف آرمی سٹاف تعینات کیا گیا تھا۔ انھوں نے مزید بتایا کہ جب جنرل اشفاق پرویز کیانی کو توسیع دی گئی تو انھوں نے وائس چیف آف آرمی سٹاف کسی کو تعینات نہیں کیا اور یوں اُن کی مدت ملازمت میں توسیع کے باعث آرمی چیف کے عہدے پر ممکنہ ترقی پانے والے جنرلز ریٹائر ہو گئے۔













