وزیراعظم عمران خان پاک چین اقتصادی راہداری(سی پیک) کے منصوبوں کی بحالی کے لیے 7 سے 8 اکتوبر تک چین کا سرکاری دورہ کریں گے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اقتصادی راہداری سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’ سی پیک کے منصوبوں میں تمام رکاوٹوں کا خاتمہ اور ان کی بروقت تکمیل حکومت کی اولین ترجیح ہے‘۔
وزیراعظم نے کہا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان دوستی کو مضبوط کرنے کے لیے جلد چین کا دورہ کریں گے اور چینی قیادت سے ملاقات کریں گے۔
خیال رہے کہ یہ کہا جارہا کہ سی پیک سے منسلک اکثر منصوبے بعض وجوہات کے باعث التوا کا شکار ہوگئے ہیں جن میں حکومت کو درپیش مالی مسائل اور قومی احتساب بیورو (نیب) کے خوف کے باعث بیوروکریسی کا عدم تعاون شامل ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی خسرو بختیار نے اجلاس کو سی پیک سے وابستہ منصوبوں اور ان پر ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا۔
علاوہ ازیں وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے اجلاس کو سی پیک کے تحت کراچی سے پشاور تک نیا ریلوے ٹریک بچھانے کے لیے مین لائن ون (ایم ایل-ون) منصوبوں پر عملدرآمد سے آگاہ کیا۔
خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان کا یہ تیسرا دورہ چین ہوگا، اس سے قبل انہوں نے رواں برس اپریل میں چین کا 4 روزہ سرکاری دورہ کیا تھا۔
اس دوران عمران خان نے بیجنگ میں ’دوسرے ایک خطہ ایک شاہراہ فورم‘ میں شرکت کی تھی۔












